فرعون بطور نمونہ: جواز یافتہ ظلم کا قرآنی، تاریخی اور تقابلی مطالعہ

ہم عموماً فرعون کو صرف حضرت موسیٰؑ کا دشمن اور ایک ظالم حکمران سمجھتے ہیں، لیکن قرآن مجید اس سے کہیں زیادہ گہری تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ فرعون ایک ایسے سیاسی نمونے کی نمائندگی کرتا ہے جس میں ظلم اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ اشرافیہ کی حمایت، بیانیہ سازی، خوف، پروپیگنڈا، عوامی رضامندی اور طاقت کے ارتکاز کے ذریعے مرحلہ وار تشکیل پاتا ہے۔ قرآن، کلاسیکی تفاسیر، قدیم مصری تاریخ اور جدید سیاسی نظریات کے تقابلی مطالعے پر مبنی یہ مقالہ ہر دور کے اقتدار اور ظلم کو سمجھنے کے لیے ایک نیا زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے۔






