بی آئی ایس پی 3.5 کھرب روپے بعد
بی آئی ایس پی 3.5 کھرب روپے بعد
کیا پاکستان نے غربت کم کی ہے یا صرف اسے سنبھالنے کا انتظام کیا ہے؟ نقد امداد، روزگار، اخوت، خود انحصاری اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اہم سوال
پاکستان نے گزشتہ تقریباً 18 برسوں میں غریب اور کمزور خاندانوں کی مدد کے لیے بے شمار وسائل خرچ کیے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس سماجی

تحفظ کے نظام کا سب سے بڑا ستون بن چکا ہے۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ بی آئی ایس پی نے لاکھوں خاندانوں کو بھوک، مہنگائی، سیلاب اور معاشی بحرانوں کے دوران سہارا دیا ہے۔
لیکن اب ایک زیادہ مشکل سوال پوچھنے کا وقت آ گیا ہے
کیا بی آئی ایس پی نے غربت سے نکلنے کا راستہ بنایا ہے، یا صرف غربت کو سنبھالنے کا ایک مستقل نظام قائم کیا ہے؟
یہ سوال بی آئی ایس پی یا اس کے مستحقین کے خلاف نہیں۔
یہ سوال پاکستان کی غربت پالیسی کی سمت کے بارے میں ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں بی آئی ایس پی کے لیے 844.78 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تقریباً 18 برس کے مجموعی اخراجات کو اگر تقریباً 3.5 کھرب روپے کے پیمانے پر دیکھا جائے تو سوال مزید اہم ہو جاتا ہے
اتنی بڑی رقم سے کتنی زندگیوں کو مستقل معاشی خود انحصاری ملی؟
کتنے لوگوں کو مستقل روزگار ملا؟
کتنے خاندانوں نے اپنا کاروبار شروع کیا؟
کتنے مستحقین مستقل امداد سے نکل سکے؟
اور کتنے دوبارہ غربت میں چلے گئے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن سے اب فرار ممکن نہیں۔
بی آئی ایس پی بنیادی طور پر سماجی تحفظ کا نظام ہے
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بی آئی ایس پی ابتدا ہی سے مکمل غربت کے خاتمے کا منصوبہ نہیں تھا۔
اس کا بنیادی مقصد غریب اور کمزور خاندانوں کو کم از کم معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا۔
یہ مقصد اپنی جگہ بالکل جائز ہے۔
ایک بیوہ، بزرگ، معذور شخص یا شدید معاشی بحران سے متاثرہ خاندان سے یہ کہنا مناسب نہیں کہ وہ فوراً کوئی کاروبار شروع کرے یا ملازمت تلاش کرے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بھوک اور انتہائی غربت سے بچائے۔
اس اعتبار سے بی آئی ایس پی نے ایک اہم خلا پُر کیا ہے۔
لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حفاظتی جال ہی منزل بن جائے اور غربت سے نکلنے کی سیڑھی تعمیر نہ ہو۔
تحفظ اور تبدیلی میں فرق ہے
غربت سے نمٹنے کے دو مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔
تحفظ کا مطلب ہے
“ہم آپ کو مزید نیچے گرنے سے بچائیں گے۔”
تبدیلی کا مطلب ہے
“ہم آپ کو اوپر آنے کے قابل بھی بنائیں گے۔”
پاکستان نے پہلے کام پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔
دوسرے کام کے لیے اسی پیمانے کی جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
کسی غریب خاندان کو سہ ماہی رقم ملنے سے اس کی فوری مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔
لیکن اس خاندان کی معاشی حالت اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوگی جب اس کی آمدنی کا مستقل ذریعہ پیدا ہوگا۔
وہ ذریعہ ملازمت ہوسکتا ہے۔
کاروبار ہوسکتا ہے۔
ہنر ہوسکتا ہے۔
زراعت ہوسکتی ہے۔
مویشی پالنا ہوسکتا ہے۔
گھریلو صنعت ہوسکتی ہے۔
یا کسی دوسرے کاروبار میں روزگار۔
آخرکار غربت سے مستقل نکلنے کا راستہ مستقل آمدنی سے گزرتا ہے۔
اب3.5 کھرب روپے بعد اصل سوال کیا ہے؟
یہ کہنا ناانصافی ہوگا کہ بی آئی ایس پی نے کچھ حاصل نہیں کیا۔
اس نے لاکھوں خاندانوں کو سہارا دیا۔
سماجی تحفظ کا ایک بڑا نظام قائم کیا۔
خواتین تک براہ راست مالی معاونت پہنچائی۔
تعلیم اور غذائیت سے متعلق بعض معاون پروگراموں کو وسعت دی۔
قدرتی آفات اور معاشی بحرانوں کے دوران ہنگامی مدد فراہم کی۔
لیکن تقریباً دو دہائیوں کے بعد کامیابی کا ایک مختلف پیمانہ بھی ضروری ہے۔
صرف یہ نہیں:
کتنی رقم تقسیم ہوئی؟
بلکہ
کتنی پیداواری صلاحیت پیدا ہوئی؟
کتنے مستحقین کو مستقل روزگار ملا؟
کتنے کامیاب کاروبار قائم ہوئے؟
کتنی گھریلو آمدنی بڑھی؟
کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے؟
کتنے خاندان مستقل امداد سے باہر نکلے؟
اور کتنے دوبارہ امداد کے محتاج ہوگئے؟
یہ سوال زیادہ مشکل ہیں۔
لیکن اصل اہمیت بھی انہی کی ہے۔
غربت کا اصل انجن روزگار ہے
پاکستان کی معیشت میں غیر رسمی روزگار، کم پیداواری کام، کم اجرت اور نوجوانوں اور خواتین کی محدود معاشی شرکت بڑے مسائل ہیں۔
اس لیے غریب خاندان کو صرف رقم دینے سے اس کی معاشی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی۔
اسے آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہے۔
اسی لیے غربت کے خاتمے کی پائیدار حکمت عملی میں تعلیم، ہنر، روزگار، کاروبار، سرمایہ اور منڈی سب اہم ہیں۔
پاکستان کے پاس اپنا ایک دلچسپ ماڈل موجود ہے
پاکستان کو غربت کے خاتمے کے لیے ہر چیز بیرون ملک سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔
ہمارے پاس اخوت کی ایک قابل ذکر مثال موجود ہے۔
اخوت اسلامی مائیکروفنانس بلا سود قرضوں کے ذریعے چھوٹے کاروبار، زراعت اور دیگر پیداواری سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اخوت کے مطابق مئی 2026 تک اس نے 422 ارب روپے سے زیادہ بلا سود مالی معاونت فراہم کی اور 37 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ خاندانوں تک رسائی حاصل کی، جبکہ قرضوں کی واپسی کی شرح 99.92 فیصد بتائی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت نہیں کہ اخوت کے تمام قرض لینے والے مستقل طور پر غربت سے نکل گئے۔
ایسا دعویٰ کرنے کے لیے طویل مدتی اور آزاد تحقیق درکار ہوگی۔
لیکن اخوت ایک مختلف تصور ضرور دکھاتا ہے
امداد → پیداواری سرمایہ → کاروبار → آمدنی → قرض کی واپسی → دوسرے شخص کے لیے سرمایہ
یہ نقد منتقلی سے بنیادی طور پر مختلف طریقہ ہے۔
بی آئی ایس پی اور اخوت ایک دوسرے کے مخالف نہیں
اصل انتخاب یہ نہیں ہونا چاہیے
بی آئی ایس پی یا اخوت؟
بلکہ
بی آئی ایس پی + پیداواری راستہ
بی آئی ایس پی حفاظتی جال بن سکتا ہے۔
اخوت جیسے ادارے پیداواری سرمایہ فراہم کرسکتے ہیں۔
تربیتی ادارے ہنر دے سکتے ہیں۔
صنعت روزگار فراہم کرسکتی ہے۔
منڈیاں کاروبار کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔
اور قومی سماجی و معاشی رجسٹری مستحق خاندانوں کی شناخت کرسکتی ہے۔
یوں غربت کے خلاف ایک مکمل نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
ہر مستحق ایک جیسا نہیں ہوتا
یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔
بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھانے والے تمام افراد کو ایک ہی معاشی زمرے میں رکھنا مناسب نہیں۔
ایک بزرگ خاتون، ایک معذور شخص، ایک نوجوان بے روزگار مرد، ایک ہنر مند عورت اور ایک چھوٹا کسان ایک جیسے حالات نہیں رکھتے۔
ان کے لیے ایک ہی حل کیسے ہوسکتا ہے؟
پہلا طبقہ: جو کام نہیں کرسکتے
بزرگ افراد، شدید معذور لوگ اور ایسے افراد جن کے لیے روزگار کا کوئی حقیقی امکان نہیں، انہیں مستقل سماجی تحفظ ملنا چاہیے۔
ان پر مصنوعی طور پر “خود انحصاری” مسلط کرنا ناانصافی ہوگی۔
دوسرا طبقہ: جو کام کرسکتے ہیں مگر ہنر نہیں رکھتے
نوجوان مرد اور خواتین کو
ہنر کی شناخت → تربیت → عملی تجربہ → ملازمت
کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔
تیسرا طبقہ: کاروباری صلاحیت رکھنے والے
ان کے لیے
کاروباری تربیت → بلا سود پیداواری سرمایہ → رہنمائی → منڈی تک رسائی
کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔
چوتھا طبقہ: کسان اور مویشی پالنے والے
انہیں
پیداواری اثاثے → فنی معاونت → سرمایہ → منڈی
سے جوڑا جاسکتا ہے۔
پانچواں طبقہ: پہلے سے چھوٹا کاروبار کرنے والے
درزی، مکینک، دکاندار، کاریگر یا گھریلو صنعت چلانے والے شخص کو شاید خیراتی امداد نہیں بلکہ صرف کاروباری سرمایہ اور منڈی تک بہتر رسائی درکار ہو۔
یہی وجہ ہے کہ غربت کا ایک ہی نسخہ سب پر لاگو نہیں ہوسکتا۔
ایک گھر میں پانچ مختلف کہانیاں ہوسکتی ہیں
فرض کریں ایک گھر میں
ایک 72 سالہ دادی ہے۔
ایک 45 سالہ بیوہ ہے۔
ایک 24 سالہ بے روزگار بیٹا ہے۔
ایک 20 سالہ بیٹی ہے۔
اور تین اسکول جانے والے بچے ہیں۔
دادی کو مستقل مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
بیوہ گھر سے کاروبار شروع کرسکتی ہے۔
بیٹے کو فنی تربیت درکار ہوسکتی ہے۔
بیٹی کو تعلیم اور جدید ہنر کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
بچوں کو تعلیم اور غذائی تحفظ چاہیے۔
ایک گھر، مگر پانچ مختلف ضرورتیں۔
اسی لیے مستقبل کا بی آئی ایس پی صرف یہ نہ پوچھے
یہ گھر غریب ہے یا نہیں؟
بلکہ یہ بھی پوچھے
اس گھر کو غربت سے نکالنے کی صلاحیت کیا ہے؟
قومی سماجی و معاشی رجسٹری کو نئی سمت دی جاسکتی ہے
پاکستان کے پاس پہلے ہی قومی سماجی و معاشی رجسٹری موجود ہے۔
یہ ایک انتہائی قیمتی بنیاد ہے۔
اب تک بنیادی سوال یہ رہا ہے
کون اتنا غریب ہے کہ اسے امداد دی جائے؟
اگلا سوال ہونا چاہیے
اس خاندان کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟
اس کے لیے معلومات درکار ہوں گی
تعلیم۔
عمر۔
ہنر۔
پچھلا پیشہ۔
جسمانی صلاحیت۔
زمین۔
مویشی۔
موجودہ کاروبار۔
کاروباری صلاحیت۔
تربیت کی ضرورت۔
مقامی منڈی۔
روزگار کے مواقع۔
یوں پاکستان کے پاس صرف غربت کا نقشہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت کا نقشہ بھی ہوگا۔
لیکن یہاں ایک بہت گہرا سوال پیدا ہوتا ہے
اور شاید یہی اس پوری بحث کا اصل سوال ہے۔
پاکستان صرف ایک ریاست نہیں۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے
اسلام غربت کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟
یہ سوال بی آئی ایس پی کو غیر اسلامی قرار دینے کے لیے نہیں۔
بلکہ یہ دیکھنے کے لیے ہے کہ ہماری غربت پالیسی قرآن و سنت کے وسیع تر تصورِ سماجی انصاف، انسانی وقار اور خود انحصاری سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔
اسلام غریب کو بے سہارا چھوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا
قرآن مجید غریب اور محتاج کی مدد کا واضح حکم دیتا ہے۔
زکوٰۃ کے مستحقین میں بھی محتاج اور ضرورت مند شامل ہیں۔
لہٰذا کسی حقیقی ضرورت مند کی مدد کرنا اسلام کے خلاف نہیں۔
بلکہ یہ اسلامی معاشرتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
لیکن قرآن مجید غربت کے ساتھ وقار کا تصور بھی پیش کرتا ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیت 273 میں ایسے ضرورت مند لوگوں کا ذکر ہے جو اپنی خودداری کے باعث لوگوں سے بار بار سوال نہیں کرتے، یہاں تک کہ ناواقف شخص انہیں غنی سمجھ سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم تصور سامنے آتا ہے
تعفف۔
یعنی ضرورت کے باوجود اپنی عزت اور خودداری کو برقرار رکھنا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امداد لینا شرم کی بات ہے۔
بلکہ یہ کہ مستقل سوال اور غیر ضروری انحصار کو معاشرتی مقصد نہیں بنایا جانا چاہیے۔
سنتِ نبوی ﷺ ہمیں اس سے بھی آگے لے جاتی ہے
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس مدد مانگنے آیا۔
نبی کریم ﷺ نے اسے محض مسلسل مالی امداد دینے کے بجائے پوچھا کہ اس کے پاس کیا ہے۔
اس کے پاس موجود چند چیزیں فروخت کی گئیں۔
اس رقم کا کچھ حصہ گھر والوں کے لیے رکھا گیا اور باقی سے کلہاڑی خریدنے کا انتظام کیا گیا۔
پھر اسے لکڑیاں جمع کرکے فروخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس واقعے میں ایک انتہائی اہم اصول پوشیدہ ہے
ضرورت → جائز مدد → پیداواری ذریعہ → محنت → آمدنی → خود انحصاری
رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا۔
بلکہ مدد کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کردیا۔
یہی فرق ہماری موجودہ بحث کو اہم بناتا ہے۔
“اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔”
احادیث میں اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ بیان ہوا ہے۔
اس تعلیم کو غریب انسان کی تضحیک سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اس کا اصل پیغام معاشرے کی سمت کے بارے میں ہے:
لینے سے دینے کی طرف۔
مانگنے سے کمانے کی طرف۔
انحصار سے خود انحصاری کی طرف۔
مستحق سے معاون بننے کی طرف۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تصور اور بی آئی ایس پی کی بحث ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہے۔
تو کیا بی آئی ایس پی غیر اسلامی ہے؟
نہیں۔
ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔
حقیقی ضرورت مندوں کی مدد کرنا اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔
اصل سوال یہ ہے
کیا بی آئی ایس پی اپنے موجودہ ڈھانچے میں قرآن و سنت کے اس وسیع تر تصور کو بھی پوری طرح شامل کرتا ہے جس میں انسانی وقار کے ساتھ ممکنہ خود انحصاری کی طرف لے جانا شامل ہے؟
یہ ایک جائز سوال ہے۔
اور جواب زیادہ متوازن ہے۔
بی آئی ایس پی ایک اہم اسلامی اصول سے ہم آہنگ ہے:
کمزور کا تحفظ۔
لیکن اسے ایک دوسرے اصول کو بھی زیادہ مضبوطی سے شامل کرنا چاہیے
قابلِ روزگار انسان کو خود کفیل بنانا۔
یہ بی آئی ایس پی بمقابلہ اسلام کا سوال نہیں۔
یہ سماجی تحفظ کو زیادہ مکمل بنانے کا سوال ہے۔
اسلامی فلاحی ریاست کے دو ہاتھ ہونے چاہئیں
شاید پوری بحث کو صرف دو ہاتھوں میں سمجھا جاسکتا ہے۔
ایک ہاتھ تحفظ کرے
بھوکوں کو کھانا دے۔
بزرگوں کی مدد کرے۔
بیواؤں کا سہارا بنے۔
معذور افراد کی مدد کرے۔
قدرتی آفات میں متاثرین کو سنبھالے۔
انتہائی غربت سے بچائے۔
دوسرا ہاتھ بااختیار بنائے
ہنر دے۔
روزگار پیدا کرے۔
پیداواری سرمایہ دے۔
کاروبار قائم کرے۔
منڈی سے جوڑے۔
آمدنی کا ذریعہ بنائے۔
اور آخرکار لینے والے کو دینے والا بننے میں مدد کرے۔
یہ فلاحی ریاست کے خلاف تصور نہیں۔
یہ زیادہ بلند اور زیادہ بامعنی فلاحی تصور ہے۔
امداد منزل نہیں، پل ہونی چاہیے
کسی حقیقی مستحق کو امداد لینے پر شرمندہ نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن معاشرے کو ایک قابلِ روزگار شخص کو ہمیشہ کے لیے مستحق بھی نہیں بنانا چاہیے۔
قرآن میں باوقار محتاج افراد کا ذکر اور سنت میں ضرورت مند شخص کو پیداواری ذریعہ فراہم کرنے کا واقعہ ہمیں ایک ایسا تصور دیتے ہیں جس میں مدد اور خود انحصاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی سفر کے دو مرحلے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بی آئی ایس پی کو صرف ادائیگی کا نظام نہیں رہنا چاہیے۔
اسے غربت سے نکلنے کا راستہ بھی بننا چاہیے۔
بدعنوانی اور غلط مستحقین کا مسئلہ
اس بحث کا ایک اہم پہلو بدعنوانی اور غلط مستحقین بھی ہیں۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے دور میں مستحقین کی جانچ پڑتال اور نظام کی صفائی کے دوران لاکھوں ایسے افراد کو نکالا گیا جو معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل تھے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا بی آئی ایس پی نظام بدعنوان ہے۔
زیادہ درست بات یہ ہے کہ غلط شمولیت، کمزور تصدیق اور نظام کے ممکنہ غلط استعمال کے واقعات نے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔
ہر غلط ادائیگی کی دوہری قیمت ہوتی ہے۔
ایک طرف قومی خزانے کا نقصان۔
دوسری طرف کسی حقیقی مستحق یا پیداواری غربت پروگرام سے وہ رقم چھن جاتی ہے۔
ہر عجیب و غریب دعویٰ بھی درست نہیں ہوتا
بی آئی ایس پی سے متعلق بعض سنسنی خیز دعوے سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے ہیں۔
مثلاً حالیہ طور پر ایک شخص کی پانچ ہزار سے زیادہ بیویوں سے متعلق دعویٰ سامنے آیا۔
اس معاملے کی درست تشریح یہ نہیں کہ ایک شخص کی واقعی ہزاروں بیویاں تھیں اور سب بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھا رہی تھیں۔
رپورٹس میں یہ معاملہ غیر معمولی یا غلط ازدواجی معلومات اور ریکارڈ کے مسائل سے متعلق بتایا گیا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
بی آئی ایس پی پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن ثبوت کے ساتھ۔
غلط دعویٰ ہماری درست تنقید کو بھی کمزور کردیتا ہے۔
ہر خاندان کی غربت ختم کرنے کی لاگت معلوم ہونی چاہیے
ذرا تصور کریں کہ بی آئی ایس پی ہر سال یہ بھی رپورٹ کرے
کتنے افراد نے ہنر حاصل کیا؟
کتنے روزگار میں گئے؟
کتنے کاروبار شروع ہوئے؟
کتنے کاروبار تین سال بعد بھی قائم رہے؟
کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے؟
کتنے خاندانوں کی آمدنی بڑھی؟
کتنے خاندان مستقل امداد سے نکلے؟
کتنے دوبارہ غربت میں چلے گئے؟
ایک خاندان کو مستقل خود کفیل بنانے پر کتنی لاگت آئی؟
تب بی آئی ایس پی کی کامیابی کا معیار صرف تقسیم شدہ رقم نہیں ہوگا۔
بلکہ تبدیل شدہ زندگی ہوگی۔
ہمیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ 50 یا 70 فیصد لوگ غربت سے نکل جائیں گے
یہاں احتیاط ضروری ہے۔
یہ کہنا کہ اخوت یا بی آئی ایس پی کے 50، 60 یا 70 فیصد مستحقین مستقل طور پر غربت سے نکل چکے ہیں، مضبوط طویل مدتی شواہد کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
لیکن اسے ایک پالیسی منظرنامے کے طور پر ضرور سمجھا جاسکتا ہے۔
اگر معاشی طور پر قابلِ کام خاندانوں کا صرف ایک حصہ بھی مستقل خود کفیل ہوجائے تو غربت کے چکر میں نمایاں تیزی سے کمی آسکتی ہے۔
مثلاً اگر ایک کروڑ معاشی طور پر قابل خاندانوں میں سے
50 فیصد خود کفیل ہوجائیں تو 50 لاکھ خاندان۔
60 فیصد ہوجائیں تو 60 لاکھ خاندان۔
70 فیصد ہوجائیں تو 70 لاکھ خاندان۔
یہ اعداد حقیقی نتائج کا دعویٰ نہیں۔
یہ صرف اس امکان کو سمجھانے کے لیے ہیں کہ جزوی کامیابی بھی قومی سطح پر بہت بڑا فرق پیدا کرسکتی ہے۔
پاکستان نے ایسا بڑے پیمانے پر کیوں نہیں کیا؟
اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
نقد رقم تقسیم کرنا نسبتاً آسان ہے۔
غربت سے مستقل نکالنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ایک کاروبار کے لیے بجلی چاہیے۔
سرمایہ چاہیے۔
ہنر چاہیے۔
منڈی چاہیے۔
صارف چاہیے۔
رہنمائی چاہیے۔
ٹرانسپورٹ چاہیے۔
قانونی اور انتظامی سہولت چاہیے۔
صرف تربیتی سرٹیفکیٹ روزگار پیدا نہیں کرتا۔
صرف قرض کاروبار کامیاب نہیں کرتا۔
صرف مشین دینے سے پیداوار نہیں ہوتی۔
اس لیے غربت سے نکلنے کے لیے مختلف اداروں کو ایک ہی زنجیر میں جوڑنا ہوگا۔
مقامی صنعت اس زنجیر کو مکمل کرسکتی ہے
چین اور بنگلہ دیش کے تجربات سے ایک بنیادی سبق ضرور لیا جاسکتا ہے
غریب لوگوں کو صرف صارف نہیں، پیداوار کا حصہ بنانا ہوگا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف مواقع موجود ہیں۔
زراعت۔
مویشی پالنا۔
باغبانی۔
شہد۔
ماہی گیری۔
کھانے کی اشیا کی تیاری۔
فرنیچر۔
دستکاری۔
سیاحت۔
گھریلو صنعت۔
ڈیجیٹل خدمات۔
اصل اصول یہ ہونا چاہیے
غریب شخص کو صرف رقم دے کر یہ نہ کہا جائے کہ کاروبار شروع کرو۔ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ منڈی کو کیا چاہیے۔
پھر
منڈی → کاروبار → ہنر → سرمایہ → پیداوار → خریدار → آمدنی
یہی وہ چکر ہے جو امداد کو معاشی ترقی میں تبدیل کرسکتا ہے۔
پاکستان کے پاس بنیادی اجزا پہلے ہی موجود ہیں
پاکستان کے پاس
بی آئی ایس پی سماجی تحفظ کے لیے۔
قومی سماجی و معاشی رجسٹری مستحق خاندانوں کی شناخت کے لیے۔
اخوت بلا سود پیداواری مالی معاونت کے لیے۔
فنی تربیتی ادارے ہنر کے لیے۔
سمیڈا کاروباری معاونت کے لیے۔
نجی صنعت روزگار کے لیے۔
بینک اور مالیاتی ادارے سرمایہ اور مالی نظام کے لیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ایک مربوط سفر میں منسلک نہیں۔
غریب خاندان:
شناخت → ہنر → سرمایہ → کاروبار → منڈی → آمدنی → خود کفالت
کے مکمل راستے پر نہیں چلتا۔
یہی سب سے بڑا خلا ہے۔
نیا بی آئی ایس پی تین دروازوں والا نظام ہوسکتا ہے
پہلا دروازہ: تحفظ
جو لوگ کام نہیں کرسکتے، انہیں مستقل سماجی تحفظ ملے۔
دوسرا دروازہ: تیاری
جو کام کرسکتے ہیں مگر ہنر نہیں رکھتے، انہیں تربیت، عملی تجربہ اور روزگار سے جوڑا جائے۔
تیسرا دروازہ: پیداوار
جن میں کاروباری صلاحیت ہے، انہیں بلا سود پیداواری سرمایہ، رہنمائی اور منڈی تک رسائی دی جائے۔
یوں ایک خاندان
تحفظ → تیاری → پیداوار → خود کفالت
کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
یہ بی آئی ایس پی کو صرف امدادی نظام کے بجائے غربت سے نکلنے کا متحرک نظام بنا سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس سے آگے سوچنا ہوگا
پاکستان کا آئینی ڈھانچہ سماجی انصاف کو اسلام کے اصولوں سے جوڑتا ہے۔
آئین کی دفعہ 37 میں پسماندہ طبقات کے تعلیمی اور معاشی مفادات کے فروغ کے ساتھ تعلیم، تربیت، زرعی اور صنعتی ترقی اور روزگار جیسے راستوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بہت اہم بات ہے۔
آئینی تصور صرف یہ نہیں کہ
غریب کو کچھ دے دو۔
بلکہ:
تعلیم دو۔
ہنر دو۔
مواقع پیدا کرو۔
زراعت اور صنعت کو ترقی دو۔
روزگار دو۔
قومی معاشی زندگی میں شریک کرو۔
یہی وہ پل ہے جو ہماری سماجی پالیسی کو قرآن و سنت، آئین اور جدید معاشی ضرورتوں سے جوڑ سکتا ہے۔
آخرکار سوال رقم کا نہیں، سمت کا ہے
تقریباً دو دہائیوں کے بعد پاکستان نے غریب خاندانوں کی شناخت اور انہیں مالی مدد پہنچانے کا ایک بڑا نظام قائم کرلیا ہے۔
اب اگلا مرحلہ زیادہ مشکل ہے۔
غربت کی شناخت سے غربت کے خاتمے تک۔
امداد سے خود انحصاری تک۔
صارف سے پیداوار تک۔
مستحق سے معاون تک۔
لینے والے ہاتھ سے دینے والے ہاتھ تک۔
پاکستان کو غریبوں کی مدد کرنے پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
اسلام بھی ایسا نہیں کہتا۔
لیکن اگر کوئی شخص کام کرنے، سیکھنے، کاروبار کرنے یا روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو ریاست کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے
ہم اسے ہمیشہ امداد لینے والا کیوں رکھیں، جب ہم اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں؟
اور شاید یہی وہ سوال ہے جو آج پاکستان کو سب سے زیادہ پوچھنے کی ضرورت ہے
ہم غریبوں کو کتنی رقم دے رہے ہیں؟
کے بجائے
ہم کتنے غریب خاندانوں کو اس قابل بنا رہے ہیں کہ ایک دن انہیں اس رقم کی ضرورت ہی نہ رہے؟
یہی فرق ہے غربت سنبھالنے اور غربت ختم کرنے میں۔
اور شاید یہی ایک اسلامی فلاحی ریاست کی اصل آزمائش بھی ہے۔
جو کھڑے نہیں ہوسکتے، انہیں سہارا دیں۔ جو کھڑے ہوسکتے ہیں، انہیں کھڑا ہونے کا موقع دیں۔
ایک حفاظتی جال انسان کو گرنے سے بچاتا ہے۔
ایک عظیم معاشرہ اسے دوبارہ کھڑا ہونے کی سیڑھی بھی دیتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا بی آئی ایس پی نے پاکستان میں غربت کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے؟
جی ہاں۔ بی آئی ایس پی نے لاکھوں کمزور خاندانوں کو معاشی بحران، مہنگائی اور قدرتی آفات کے دوران بنیادی مالی تحفظ فراہم کیا ہے۔ تاہم مستقل غربت میں کمی کے لیے صرف نقد امداد کافی نہیں۔ روزگار، آمدنی، ہنر اور پیداواری سرگرمی بھی ضروری ہیں۔
کیا اسلام غریبوں کو مالی امداد دینے کی اجازت دیتا ہے؟
جی ہاں۔ قرآن مجید غریب اور ضرورت مند افراد کی مدد کی واضح تعلیم دیتا ہے۔ زکوٰۃ کے مستحقین میں بھی محتاج شامل ہیں۔ اسلام حقیقی ضرورت مند کی مدد کو شرمندگی نہیں بناتا۔
کیا اسلام غریب انسان کو خود کفیل ہونے کا پابند کرتا ہے؟
جو شخص واقعی کام کرنے سے قاصر ہو، اسے خود کفیل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم قرآن و سنت انسانی وقار، محنت، خود انحصاری اور غیر ضروری سوال سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ضرورت مند شخص کو پیداواری ذریعہ فراہم کرنے کا واقعہ اس اصول کی بہترین مثال ہے۔
کیا بی آئی ایس پی غیر اسلامی ہے؟
ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ حقیقی ضرورت مندوں کی مدد اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بی آئی ایس پی معاشی طور پر قابل افراد کو بھی ہنر، روزگار، کاروبار اور خود کفالت کی طرف لے جانے کے لیے کافی مواقع فراہم کرتا ہے۔
کیا بی آئی ایس پی اور اخوت مل کر کام کرسکتے ہیں؟
جی ہاں۔ بی آئی ایس پی مستحق اور معاشی طور پر قابل خاندانوں کی شناخت کرسکتا ہے، جبکہ اخوت جیسے ادارے بلا سود پیداواری سرمایہ فراہم کرسکتے ہیں۔ فنی تربیت، روزگار اور مقامی صنعت اس راستے کو مکمل کرسکتے ہیں۔
بی آئی ایس پی کی کامیابی کا اصل پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟
صرف تقسیم شدہ رقم اور مستحقین کی تعداد کافی نہیں۔ کامیابی کا پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ کتنے خاندانوں کی آمدنی بڑھی، کتنے افراد کو روزگار ملا، کتنے کاروبار قائم اور برقرار رہے، کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے اور کتنے خاندان مستقل طور پر امداد سے نکل کر خود کفیل ہوگئے۔
https://mrpo.pk/bisp-rs3-5-trillion/
حوالہ جات
- پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27
- بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سرکاری اعداد و شمار
- عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی پاکستان میں غربت اور سماجی تحفظ سے متعلق رپورٹس
- اخوت اسلامی مائیکروفنانس کے سرکاری اعداد و شمار
- قرآن مجید، سورۂ بقرہ، آیت 273
- احادیث نبوی ﷺ، خصوصاً ضرورت مند شخص کو پیداواری ذریعہ فراہم کرنے اور “اوپر والے ہاتھ” سے متعلق روایات
- آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، قراردادِ مقاصد اور دفعہ 37
ر

![Makkah Defence Pact:Leaders of Turkey, Pakistan, and Saudi Arabia sign a mutual defence pact. [Getty]](https://mrpo.pk/wp-content/uploads/2026/08/2288615744-768x432.jpeg)