قرآنِ کریم میں انسانی کمزوریوں کا بیان: اسباب، تدابیر اور رہنمائی

قرآنِ کریم انسان کو اس کی عظمت کے ساتھ اس کی کمزوریوں سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ جلد بازی، مایوسی، ناشکری، بخل، تکبر، بھول، نفس کی کشمکش اور دنیا کی محبت جیسی انسانی کمزوریوں کا ذکر محض تنقید کے لیے نہیں بلکہ اصلاح اور رہنمائی کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ مطالعہ اٹھارہ اہم قرآنی مضامین کے ذریعے ان کمزوریوں، ان کے اسباب اور ایمان، عملِ صالح، صبر، شکر، نماز، انفاق، عاجزی اور توبہ جیسی اصلاحی تدابیر کو سامنے لاتا ہے۔

قرآنِ کریم میں انسانی کمزوریوں کا بیان

(اسباب، اللہ کی تجویز کردہ تدابیر، استثناءات اور رہنمائی کا مطالعہ)

منتخب تفاسیر کی روشنی میں: تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی، الدر المنثور (سیوطی)، تفہیم القرآن (سید ابوالاعلیٰ مودودی)، تیسیر القرآن، تفسیر نمونہ

Table of Contents

تمہید

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو انسان کو محض احکام اور قصے نہیں سناتی، بلکہ اس کے نفس کی گہرائیوں میں اتر کر اسے اس کی اپنی حقیقت سے آشنا کراتی ہے۔ قرآن ایک طرف انسان کو “احسن تقویم” یعنی بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا مخلوق قرار دیتا ہے، اور دوسری طرف بار بار اس کی فطری کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے — نہ اس لیے کہ انسان کو مایوس کیا جائے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی حقیقت پہچان کر اصلاح کی طرف بڑھے۔

یہ مطالعہ اسی مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا ہے: قرآن مجید کی ان آیات کو یکجا کرنا جن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں — جیسے جلد بازی، ناشکری، مایوسی، بخل، تکبر، بھول، بزدلی، تکبر اور دنیا کی محبت — کا ذکر فرمایا، اور ساتھ ہی وہ استثناءات اور تدابیر بھی جو اللہ نے خود ان کمزوریوں کے علاج کے طور پر تجویز فرمائیں۔ اس کے لیے قدیم و جدید تفاسیر — تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی، امام سیوطی کی الدر المنثور، سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن، اور چند دیگر معتبر تفاسیر — سے رہنمائی لی گئی ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی انسان کی کوئی کمزوری بیان ہوتی ہے، وہاں اکثر ایک استثناء بھی ساتھ آتا ہے: “الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات” — سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ کمزوریاں ناقابلِ علاج نہیں، بلکہ ایمان، عملِ صالح، صبر اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہی اس مقالے کا مرکزی نکتہ ہے۔

آگے آنے والے صفحات میں اٹھارہ اہم مضامین کے تحت قرآنی آیات، ان کا اردو ترجمہ، حوالہ جات، اور تفسیری روشنی پیش کی گئی ہے، اور ہر مضمون کے آخر میں ایک عملی سبق دیا گیا ہے تاکہ قاری محض معلومات نہ لے بلکہ اپنی زندگی میں اس سے رہنمائی حاصل کر سکے۔

 عجلت پسندی — انسان جلد باز ہے

وَخُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ۖ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا

“اور انسان جلد باز مادّے سے پیدا کیا گیا ہے، میں تمہیں عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا، سو تم مجھ سے جلدی نہ مچاؤ۔” اور دوسری جگہ: “اور انسان بھلائی مانگنے کی طرح برائی مانگتا ہے، اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔”

سورۃ الانبیاء 21:37 ، سورۃ بنی اسرائیل 17:11

تفسیری روشنی

طبری و ابن کثیر: علامہ طبری اور ابن کثیر لکھتے ہیں کہ انسان کی طبیعت میں عجلت اس قدر رچی بسی ہے کہ وہ نتیجہ فوراً دیکھنا چاہتا ہے، حتیٰ کہ جب غصے میں اپنے یا اپنی اولاد کے لیے بددعا کرتا ہے تو وہ بھی اسی جلد بازی کا مظہر ہے۔ اگر اللہ اس کی ہر جلدی مانگی ہوئی چیز فوراً دے دے تو انسان خود اپنے لیے تباہی مول لے لے۔

مودودی، تفہیم القرآن: مولانا مودودی اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ کفارِ مکہ عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے تھے، اور یہ آیت اس عجلت کی نشان دہی کرتی ہے جو انسانی فطرت کا خاصہ ہے — نہ صرف عذاب کے معاملے میں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں انسان صبر کے بجائے جلدی کو ترجیح دیتا ہے۔

سبق

سبق یہ ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ ایک مقررہ وقت اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ دعا، عمل کے نتیجے اور اللہ کی مدد کے انتظار میں صبر سے کام لے، اور جلد بازی میں کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالے جو خود اس کے لیے نقصان دہ ہو۔

 مایوسی و ناشکری — تکلیف پر یاس اور راحت پر فخر

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ

إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

“اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں پھر اسے اس سے چھین لیں تو وہ بڑا مایوس، ناشکرا ہو جاتا ہے۔ اور اگر تکلیف کے بعد اسے آسودگی کا مزہ چکھائیں تو ضرور کہے گا کہ مجھ سے تکلیفیں دور ہو گئیں، بےشک وہ خوش ہونے والا، فخر کرنے والا ہے — سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل کیے، انہی کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔”

سورۃ ھود 11:9-11

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ یہ آیات عام انسانی مزاج کی تصویر کشی ہیں: تکلیف میں نا امیدی اور خوشحالی میں فخر و غرور — مگر اہلِ ایمان اس عمومی کمزوری سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ صبر اور عملِ صالح انہیں توازن عطا کرتے ہیں۔

قرطبی: امام قرطبی اس استثناء کو کلیدی نکتہ قرار دیتے ہیں: قرآن میں جہاں بھی انسان کی کوئی کمزوری بیان ہوتی ہے وہاں اکثر “الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات” کی صورت میں ایمان و عمل کو اس کا حل بتایا جاتا ہے۔

سبق

سبق: تکلیف میں مایوس ہونے اور راحت میں اِتراہٹ، دونوں کا علاج ایک ہی ہے — ایمان اور صبر کے ساتھ عملِ صالح۔ جو دل اللہ سے جڑا ہو وہ نہ مصیبت میں ٹوٹتا ہے نہ نعمت میں اِترا کر خدا کو بھول جاتا ہے۔

 دو انتہاؤں کے درمیان بے اعتدالی — تنگی میں مایوس، فراخی میں غافل

لَا يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ

وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ

“انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس، نا امید ہو جاتا ہے۔ اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور کترا کر الگ ہو جاتا ہے، اور جب اسے تکلیف پہنچے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔”

سورۃ حٰمٓ السجدہ (فصلت) 41:49، 51

تفسیری روشنی

طبری: امام طبری کے نزدیک یہ دو آیات انسان کے دو متضاد رویوں کو ظاہر کرتی ہیں: نعمت میں غفلت اور تکلیف میں بےقراری، جبکہ صحیح رویہ نہ غفلت ہے نہ گھبراہٹ بلکہ ہر حال میں اللہ سے تعلق قائم رکھنا ہے۔

مودودی: مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ انسان کی وہ عمومی کیفیت ہے جو اسے غافل انسان اور مومن کے درمیان ممتاز کرتی ہے: غافل انسان خوشحالی میں اللہ سے دور اور مصیبت میں صرف زبانی دعاؤں تک محدود رہتا ہے، جبکہ مومن ہر حال میں رجوع الی اللہ کی کیفیت میں رہتا ہے۔

سبق

سبق: نعمت ملے تو شکر کے ساتھ اللہ سے قریب رہو، تکلیف آئے تو صرف زبانی واویلا نہیں بلکہ صبر اور حقیقی دعا کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو۔

 کفرانِ نعمت — انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

“بیشک انسان اپنے رب کا سخت ناشکرا ہے، اور وہ خود اس پر گواہ ہے، اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔”

سورۃ العادیات 100:6-8

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر لفظ “کنود” کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ اس زمین کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے جو کوئی پیداوار نہ دے — یعنی انسان بھی نعمتیں پا کر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا، گویا بنجر زمین کی مانند ہو جاتا ہے۔

تفسیر نمونہ: اس تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ یہ آیت سورت کے آغاز میں مجاہدین کے وفادار گھوڑوں کی قسموں کے ساتھ ایک تقابل پیش کرتی ہے: جانور تک اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے، مگر انسان اکثر اپنے خالق و رازق کا ناشکرا بن جاتا ہے۔

سبق

سبق: شکر گزاری محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ نعمت کا صحیح استعمال اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ ناشکری سے بچنے کے لیے ہر نعمت کو اللہ کی طرف سے ایک امانت سمجھ کر برتنا چاہیے۔

 شدید ناشکری — گنی نہ جا سکنے والی نعمتیں

وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ

“اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز دی جو تم نے اس سے مانگی، اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے، بیشک انسان بڑا ظالم، بڑا ناشکرا ہے۔”

سورۃ ابراہیم 14:34

تفسیری روشنی

قرطبی: امام قرطبی کے نزدیک اس آیت میں دو صفات اکٹھی بیان ہوئی ہیں — ظلم اور کفران — کیونکہ نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا خود اپنی جان پر اور نعمت دینے والے کے حق پر ظلم ہے۔

مودودی: مودودی لکھتے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کا لا محدود ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی محدود کوشش سے ان کا حق ادا نہیں کر سکتا، اس لیے شکر کی روح یہ ہے کہ انسان اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ کا شکر گزار رہے، نہ کہ نعمتوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھ کر اکڑ جائے۔

سبق

سبق: نعمتوں کی کثرت پر غور کرنا شکر کا دروازہ کھولتا ہے۔ جتنا انسان اللہ کی نعمتوں پر غور کرے گا اتنا ہی تکبر اور ناشکری سے محفوظ رہے گا۔

 تھڑ دلا پن — تکلیف میں گھبراہٹ، خوشحالی میں بخل، اور اس کا استثناء

إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا

إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا

وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا

إِلَّا الْمُصَلِّينَ

الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ

وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ

لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

“بیشک انسان تھڑ دلا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے تکلیف پہنچے تو گھبرا اٹھتا ہے، اور جب بھلائی ملے تو بخل کرنے لگتا ہے — سوائے نمازیوں کے، جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرتے ہیں، اور جن کے مالوں میں ایک مقررہ حق ہے، مانگنے والے اور محروم کے لیے۔”

سورۃ المعارج 70:19-25

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر فرماتے ہیں کہ “ہلوع” سے مراد وہ شخص ہے جو بےصبرا، بےقرار اور کم ظرف ہو — یہ انسان کی اصل فطرت ہے جو اس کے ذاتی کمالات کے حصول کے راستے میں رکاوٹ ہے، لیکن اللہ نے فوراً بعد میں نمازیوں کا ذکر کر کے بتا دیا کہ یہ کمزوری قابلِ علاج ہے۔

تیسیر القرآن، مولانا کیلانی: مولانا عبدالرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں کہ یہ حالت عام دنیا دار انسان کی ہے، لیکن جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کر لیتے ہیں ان کے دل میں صبر و سکون پیدا ہو جاتا ہے، اور نماز کی پابندی اور مال میں دوسروں کا حق دینا اسی اصلاح کی علامتیں ہیں۔

طبری: طبری کے نزدیک نماز کی مداومت اور زکوٰۃ و صدقہ کی پابندی دراصل انسان کے اندر کی بےقراری کا علاج ہیں — نماز دل کو سکون دیتی ہے اور مال خرچ کرنا حرص کا زور توڑ دیتا ہے۔

سبق

سبق: بےقراری اور بخل، دونوں کا علاج نماز کی پابندی اور مال میں غریبوں کا حق ادا کرنا ہے۔ یہ دونوں عبادات دل کو سکون اور فراخ دلی عطا کرتی ہیں۔

 پیدائشی کمزوری — انسان ضعیف بنایا گیا

يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا

“اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے، اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔”

سورۃ النساء 4:28

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ یہاں ضعف سے مراد انسان کی خواہشات، بالخصوص جنسی خواہش کے سامنے اس کی کمزوری ہے — عزم و ارادہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھ پاتا، اسی لیے اللہ نے اس کے لیے شریعت میں آسانیاں اور رخصتیں رکھیں۔

طبری و قرطبی: طبری اور قرطبی دونوں سلف کے اقوال نقل کرتے ہیں کہ یہ ضعف خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں انسان کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نے نکاح جیسے حلال راستے کو آسان بنایا تاکہ انسان اپنی فطری کمزوری میں کسی گناہ کا شکار نہ ہو۔

سبق

سبق: اللہ انسان کی کمزوری سے پوری طرح واقف ہے، اسی لیے اس نے دین میں سختی کے بجائے آسانی اور حلال راستے رکھے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے حلال ذرائع اختیار کریں اور اللہ سے مدد مانگتے رہیں۔

 حرصِ مال اور بخل

وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا

قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ قَتُورًا

“اور تم مال سے بہت ہی زیادہ محبت رکھتے ہو۔” اور دوسری جگہ: “کہہ دیجیے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے، اور انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔”

سورۃ الفجر 89:20 ، سورۃ بنی اسرائیل 17:100

تفسیری روشنی

مودودی: مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ اگر انسان کو لامحدود خزانے بھی دے دیے جائیں تب بھی اس کی فطری تنگ دلی اسے کھلے دل سے خرچ کرنے نہیں دے گی — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سخاوت کوئی فطری وصف نہیں بلکہ تربیت اور ایمان سے حاصل ہونے والی صفت ہے۔

ابن کثیر: ابن کثیر کے مطابق یہ آیت انسان کے اس مزاج کو بے نقاب کرتی ہے کہ وہ محدود وسائل کے ڈر سے بخل کرتا ہے، حالانکہ اللہ کے خزانے لامحدود ہیں اور خرچ کرنے سے کبھی کم نہیں ہوتے۔

سبق

سبق: مال کی محبت فطری ہے مگر اسے بےقابو نہ ہونے دیا جائے۔ سخاوت اور انفاق کی مشق اس فطری بخل پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔

 امانت کا بوجھ نہ اٹھا سکنا — ظلم اور جہالت

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا

“بیشک ہم نے امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ بڑا ظالم، بڑا جاہل ہے۔”

سورۃ الاحزاب 33:72

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر کے نزدیک “امانت” سے مراد شرعی تکالیف اور ذمہ داریاں ہیں جنہیں انسان نے اپنی آزاد مرضی سے قبول کیا، اور اسے “ظلوم جہول” اس لیے کہا گیا کہ وہ اکثر اس امانت کا حق ادا نہیں کرتا اور اپنی ہی جان پر ظلم کر بیٹھتا ہے۔

سیوطی، الدر المنثور: امام سیوطی نے سلف کے اقوال جمع کیے ہیں جن میں امانت کی تفسیر فرائض، عقل اور اختیار کے طور پر کی گئی ہے — یعنی انسان کو اختیار دیا گیا تاکہ وہ آزمائش میں پورا اترے، مگر اکثر لوگ اس آزمائش میں ناکام رہتے ہیں۔

سبق

سبق: اختیار اور ذمہ داری ایک عظیم امانت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے اختیار کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرے، ورنہ یہی امانت اس کے لیے وبال بن جائے گی۔

 جھگڑالو پن — انسان سب سے بڑھ کر جھگڑنے والا ہے

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

“اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کھول کھول کر بیان کر دی ہے، مگر انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔”

سورۃ الکہف 18:54

تفسیری روشنی

طبری: طبری کے نزدیک اس آیت میں اللہ نے واضح کیا کہ حق بات کھول کر بیان کرنے کے باوجود انسان کی عادت یہ ہے کہ وہ بلا دلیل، محض ضد اور ہٹ دھرمی سے جھگڑتا ہے۔

مودودی: مودودی لکھتے ہیں کہ یہ جھگڑالو پن اکثر حق کو قبول نہ کرنے کے بہانے تلاش کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے — انسان دلیل سننے کے بجائے اپنی رائے پر اڑا رہتا ہے، خواہ حق واضح ہو کر سامنے آ جائے۔

سبق

سبق: حق بات سننے کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دینی چاہیے۔ اچھی گفتگو اور دلیل کا مقصد جیتنا نہیں بلکہ حق تک پہنچنا ہونا چاہیے۔

 سرکشی — جب انسان اپنے آپ کو بےنیاز سمجھتا ہے

كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ

أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ

“ہرگز نہیں! بیشک انسان سرکشی کرنے لگتا ہے، اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے۔”

سورۃ العلق 96:6-7

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر اس آیت کے شانِ نزول میں بیان کرتے ہیں کہ یہ ابو جہل جیسے سرکش لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مال و دولت اور اقتدار پا کر خدا کی حاجت سے بےنیاز سمجھنے لگے تھے، لیکن اصولی طور پر یہ ہر اس انسان پر صادق آتا ہے جو خوشحالی میں سرکش ہو جاتا ہے۔

مودودی: مودودی کے نزدیک یہ آیت انسانی نفسیات کا ایک عمومی اصول بیان کرتی ہے: جب انسان کو مال، اقتدار یا آسودگی حاصل ہو جاتی ہے تو اسے یہ خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو خود مختار سمجھنے لگے اور اپنے خالق کی یاد سے غافل ہو جائے۔

سبق

سبق: مالی و ظاہری آسودگی کبھی حقیقی بےنیازی نہیں دیتی۔ انسان جتنا ہی آسودہ ہو، اسے اتنا ہی زیادہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔

 بھول جانا — نسیان انسانی فطرت میں شامل

وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ

“اور بےشک ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا تو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں پختہ عزم نہ پایا۔” اور: “اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔”

سورۃ طٰہٰ 20:115 ، سورۃ الحشر 59:19

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر لکھتے ہیں کہ لفظ “انسان” ہی دراصل “نسیان” (بھول) سے ماخوذ ہے، اور آدم علیہ السلام کا واقعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بھول جانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ آدم کی اولاد میں پہلے دن سے موجود ایک کمزوری ہے۔

بغوی: امام بغوی سورہ حشر کی آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ کو بھلا دینے کی سزا یہ ہے کہ انسان خود اپنی حقیقت، اپنی آخرت اور اپنے مقصدِ تخلیق سے بھی غافل ہو جاتا ہے۔

سبق

سبق: بھول جانا فطری کمزوری ہے، مگر اس کا علاج مسلسل ذکر اور یاددہانی ہے۔ اسی لیے قرآن اور نماز کو بار بار دہرانے کا حکم دیا گیا تاکہ غفلت کا ازالہ ہوتا رہے۔

 نفسِ امّارہ — دل کا بدی کی طرف مائل ہونا

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ

“اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کہتا، بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے، مگر جس پر میرا رب رحم کرے، بیشک میرا رب بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔”

سورۃ یوسف 12:53

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول ہے جس میں وہ اپنی عصمت کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اعتراف کرتے ہیں کہ نفس، جب تک اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو، برائی کی طرف مائل رہتا ہے — یہ ایک نبی کا اعتراف ہے تو عام انسان کے لیے یہ سبق اور بھی زیادہ لازم ہے۔

سیوطی: امام سیوطی الدر المنثور میں سلف کے اقوال نقل کرتے ہیں کہ نفس کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں: امّارہ (برائی پر ابھارنے والا)، لوّامہ (ملامت کرنے والا) اور مطمئنہ (اطمینان پانے والا) — اور انسان کا سفر امّارہ سے مطمئنہ کی طرف ہونا چاہیے۔

سبق

سبق: نفس پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اللہ کی رحمت اور مدد مانگتے رہنا چاہیے۔ نفس کی اصلاح ایک مسلسل جدوجہد ہے، ایک بار کا کام نہیں۔

 تکبر — زمین میں اکڑ کر چلنا

سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ

“عنقریب میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔” اور: “اور لوگوں سے اپنا رخ پھیر کر بات نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔”

سورۃ الاعراف 7:146 ، سورۃ لقمان 31:18

تفسیری روشنی

قرطبی: امام قرطبی کے نزدیک تکبر کی سزا یہ بتائی گئی کہ اللہ ایسے شخص کے دل کو حق کی نشانیاں سمجھنے کی توفیق سے محروم کر دیتا ہے — یعنی تکبر عقل و بصیرت کے دروازے بند کر دیتا ہے۔

مودودی: مودودی سورہ لقمان کی آیت میں لقمان حکیم کی نصیحت کے تناظر میں لکھتے ہیں کہ تکبر دراصل انسان کے اپنی حیثیت کو بھول جانے کا نتیجہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اللہ کے سامنے یکساں طور پر عاجز اور محتاج ہے۔

سبق

سبق: تکبر انسان کو حق سے دور کر دیتا ہے۔ عاجزی اور انکساری اختیار کرنا نہ صرف اخلاقی فضیلت ہے بلکہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔

 دنیا کا فریب — عارضی زندگی کو ترجیح دینا

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا

وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

“جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش ہے۔” اور: “بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔”

سورۃ الحدید 57:20 ، سورۃ الاعلیٰ 87:16-17

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت دنیا کی حقیقت بیان کرتی ہے کہ اس کی رونق عارضی اور فانی ہے، اور انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ نظر آنے والی، فوری چیز کو نظر نہ آنے والی، مگر دائمی چیز پر ترجیح دیتا ہے۔

مودودی: مودودی لکھتے ہیں کہ یہ ترجیح دراصل عقل کی کوتاہی نہیں بلکہ خواہش کا غلبہ ہے — انسان جانتا ہے کہ آخرت بہتر ہے مگر دنیا کی فوری لذت اس کے فیصلے پر غالب آ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایمان اور تقویٰ کی تربیت ضروری ہے تاکہ انسان درست ترجیح قائم کر سکے۔

سبق

سبق: دنیا کی چمک دھوکا ہے۔ ہر فیصلے میں یہ سوچنا چاہیے کہ کون سا راستہ آخرت کے لیے بہتر ہے، نہ کہ صرف کون سا راستہ فوری لذت دیتا ہے۔

 بدگمانی اور غیبت — دوسروں کے بارے میں بدظنی

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا

“اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہیں، اور جاسوسی نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔”

سورۃ الحجرات 49:12

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت — تینوں کو ایک ساتھ منع کیا گیا کیونکہ یہ تینوں ایک ہی کمزوری کی مختلف شکلیں ہیں: دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھنا، پھر اسے تحقیق کرنا، پھر اسے پھیلانا۔

سیوطی: سیوطی نے اس آیت کے ضمن میں نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کو نقل کیا ہے کہ غیبت کرنا گویا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے، جیسا کہ اسی آیت کے اگلے حصے میں تمثیل کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

سبق

سبق: دوسروں کے بارے میں بدگمانی، جستجو اور پیٹھ پیچھے برائی — سب سے بچنا معاشرتی سلامتی اور دلوں کی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے۔

 بزدلی — خوف کے وقت انسان کی کمزوری

أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ

“وہ تمہارے معاملے میں بخیل ہیں، پھر جب خوف کا وقت آتا ہے تو تُو انہیں دیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہوں جس پر موت کی بےہوشی طاری ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں سے تمہیں طعنے دیتے ہیں، مال میں بھی بخیل ہیں۔”

سورۃ الاحزاب 33:19

تفسیری روشنی

ابن کثیر: ابن کثیر کے مطابق یہ آیت غزوہ احزاب کے موقع پر بعض کمزور ایمان والوں اور منافقین کے حال کو بیان کرتی ہے، جو خطرے کے وقت بزدلی دکھاتے اور خطرہ ٹل جانے پر زبان درازی کرتے تھے — یہ انسانی نفاق اور بزدلی کی گہری تصویر ہے۔

مودودی: مودودی لکھتے ہیں کہ یہ آیت ایمان کی کمزوری اور بزدلی کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہے: جس دل میں اللہ پر پختہ یقین نہ ہو وہ خطرے کے وقت بےقابو ہو جاتا ہے، جبکہ سچا ایمان انسان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔

سبق

سبق: حقیقی بہادری ایمان کی مضبوطی سے آتی ہے۔ اللہ پر توکل اور یقین انسان کو خوف کے مواقع پر بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔

 سورۃ العصر — انسان خسارے میں ہے، سوائے چار اوصاف والوں کے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَالْعَصْرِ

إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

“شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔ زمانے کی قسم! بیشک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔”

سورۃ العصر، مکمل سورت — آیات 103:1-3

تفسیری روشنی

امام شافعیؒ (بحوالہ امام بیہقی و سیوطی): امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور قول نقل کیا جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اس سورت کے سوا کچھ نازل نہ فرماتا تو یہی ان کے لیے کافی ہوتی، کیونکہ اس میں دین کے تمام علوم اکٹھے کر دیے گئے ہیں۔ یہ قول اس سورت کی جامعیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

طبری: امام طبری “خسر” کے لفظ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ یہ نقصان اور تباہی کا سب سے جامع لفظ ہے — یعنی انسان، وقت اور زندگی کے گزرنے کے ساتھ، جب تک ان چار اوصاف پر عمل نہ کرے، ہر لمحہ خسارے میں ہی گزار رہا ہوتا ہے، خواہ وہ بظاہر کامیاب ہی کیوں نہ دکھائی دے۔

ابن کثیر: ابن کثیر کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر یہ ثابت کیا کہ وقت کا گزرنا انسان کے حق میں یا تو نفع کا باعث ہے یا خسارے کا — اور خسارے سے بچنے کی چار شرطیں اسی آیت میں جمع کر دی گئیں: دل کی اصلاح (ایمان)، عمل کی اصلاح (عملِ صالح)، دوسروں کی دعوت (تواصی بالحق)، اور خود پر قابو (تواصی بالصبر)۔

مودودی، تفہیم القرآن: مودودی لکھتے ہیں کہ یہ سورت چار بنیادی چیزوں کو کامیابی کی شرط قرار دیتی ہے: ایمان، عملِ صالح، حق کی باہمی نصیحت، اور صبر کی باہمی نصیحت — یعنی نجات صرف انفرادی نیکی سے نہیں بلکہ معاشرتی تعاون اور ایک دوسرے کی اصلاح سے بھی جڑی ہے۔ اکیلے نیک ہو جانا کافی نہیں جب تک انسان دوسروں کو بھی حق اور صبر کی طرف نہ بلائے۔

تفسیر نمونہ: اس تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت گویا پورے قرآن کا ایک منی ایچور (چھوٹا نمونہ) ہے: پہلے انسان کی حقیقتِ حال (خسارہ) بیان کی گئی، پھر اس کا مکمل علاج چار جامع نکات میں سمو دیا گیا — یہی وہ ترتیب ہے جو پورے قرآن میں کمزوری کے بیان کے بعد اس کے علاج کی صورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔

سبق

سبق: یہ سورت گویا اس پوری تحقیق کی کنجی ہے۔ انسان کی فطری کمزوریوں سے نکلنے کا واحد راستہ چار چیزوں کا مجموعہ ہے: دل میں سچا ایمان، ہاتھ سے نیک عمل، زبان سے حق کی دعوت، اور دل و جان سے صبر کی مشق — اور یہ چاروں مل کر ہی انسان کو خسارے سے بچا سکتے ہیں، اکیلے کوئی ایک کافی نہیں۔

نتیجہ — اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟

مذکورہ بالا اٹھارہ مضامین پر غور کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآنِ کریم انسان کی کمزوریوں کا ذکر اسے شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے خبردار کرنے اور راستہ دکھانے کے لیے کرتا ہے۔ ہر کمزوری کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یا تو کوئی استثناء بیان کیا، یا کوئی عملی تدبیر تجویز فرمائی۔ ان تمام کمزوریوں اور ان کے علاج کا خلاصہ درج ذیل نکات میں کیا جا سکتا ہے:

ایمان اور عملِ صالح: قرآن میں بار بار “الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات” کی صورت میں یہی بتایا گیا کہ ایمان اور نیک عمل ہی وہ بنیادی ڈھال ہے جو انسان کو مایوسی، ناشکری اور خسارے سے بچاتی ہے۔

صبر: بےصبری اور جلد بازی کا علاج صبر ہے — چاہے وہ مصیبت میں صبر ہو یا نیکی پر ثابت قدمی کا صبر۔

شکر: ناشکری اور کفرانِ نعمت کا علاج یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں پر غور کرے اور انہیں صحیح راستے میں خرچ کرے۔

نماز اور ذکر: تھڑ دلے پن، بےقراری اور دل کی سختی کا علاج نماز کی پابندی اور اللہ کے ذکر میں ہے۔

انفاق اور سخاوت: مال کی محبت اور بخل کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں غریبوں اور محتاجوں کا حق پہچانے اور ادا کرے۔

عاجزی: تکبر اور سرکشی کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت کو پہچانے اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرے، خواہ وہ کتنا ہی آسودہ کیوں نہ ہو جائے۔

توبہ اور اللہ کی رحمت پر بھروسا: نفسِ امّارہ کی برائی کی طرف مائل ہونے کی فطرت کا علاج یہ ہے کہ انسان بار بار اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رحمت کا امیدوار رہے۔

حق کی باہمی نصیحت: انسان کی اصلاح صرف انفرادی کوشش سے نہیں بلکہ معاشرے میں ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرنے سے بھی مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ سورۃ العصر میں بیان ہوا۔

یہ مطالعہ حرفِ آخر نہیں

آخر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ یہ مطالعہ کسی طور پر اس موضوع پر آخری یا مکمل کلام ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا لامحدود کلام ہے اور اس کے معانی کی گہرائی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اس مقالے میں انسانی کمزوریوں سے متعلق کچھ مزید آیات، کچھ اور تفسیری زاویے، یا کچھ ایسے نکات رہ گئے ہوں جن کی طرف توجہ نہیں دلائی جا سکی۔

یہی دراصل قرآن کا اعجاز ہے: جو شخص بھی اسے غور و فکر اور طلبِ ہدایت کے ساتھ پڑھتا ہے، اسے ہر بار کچھ نہ کچھ نیا، کچھ ایسی رہنمائی ملتی ہے جو پہلے شاید اس کی نظر سے اوجھل رہی ہو۔ ایک ہی آیت مختلف اوقات میں، مختلف حالات میں، اور مختلف قاری کے دل پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتی ہے — یہی اس کے زندہ اور دائمی معجزہ ہونے کی دلیل ہے کہ یہ کبھی پرانا یا ختم شدہ نہیں ہوتا۔

اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کو محض ایک بار پڑھی جانے والی یا مکمل کر لی جانے والی کتاب نہ سمجھے، بلکہ اسے زندگی بھر، تدبر اور طلبِ ہدایت کے ساتھ پڑھتا رہے۔ یہ مطالعہ ایک آغاز ہے، ایک دروازہ ہے — قاری پر لازم ہے کہ وہ خود بھی قرآن سے مسلسل رجوع کرتا رہے، کیونکہ ہر تازہ پڑھائی اسے اس کی اپنی کمزوریوں اور ان کے علاج کی نئی بصیرت عطا کر سکتی ہے جو کسی اور کے لیے نمایاں نہ ہوئی ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن انسان کو ایک آئینہ دکھاتا ہے — اس کی کمزوریوں کا آئینہ — تاکہ وہ اپنی اصل حالت پہچان سکے، مایوس نہ ہو، بلکہ اللہ کی بتائی ہوئی تدابیر اپنا کر اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔ جو شخص قرآن کو ہدایت کے لیے پڑھتا ہے اس کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں سے انکار نہ کرے، بلکہ انہیں تسلیم کرتے ہوئے ایمان، عملِ صالح، صبر، شکر، نماز، انفاق اور توبہ کے ذریعے ان پر قابو پانے کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں کامیابی اور خسارے سے بچنے کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب — اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔

حوالہ جات و مآخذ

تفسیر القرآن العظیم — امام عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی

جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیر طبری) — امام محمد بن جریر الطبری

الجامع لاحکام القرآن (تفسیر قرطبی) — امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی

الدر المنثور فی التفسیر بالماثور — امام جلال الدین السیوطی

تفہیم القرآن — سید ابوالاعلیٰ مودودی

تیسیر القرآن — مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

تفسیر نمونہ — آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی (و ہمکاران)

تفسیر بیان القرآن — ڈاکٹر اسرار احمد

مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) — امام فخر الدین الرازی

معالم التنزیل — امام حسین بن مسعود البغوی