شوگر کیا ہے؟ خون میں شوگر کی نارمل مقدار اور خطرے کی علامات

Table of Contents

شوگر کیا ہے؟ خون میں شوگر کی نارمل مقدار اور خطرے کی علامات،  اور اسے قابو میں رکھنے کے طریقے

شوگر کیا ہے؟ خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جائے تو جسم خاموشی سے متاثر ہونا شروع ہو سکتا ہے، جبکہ اس میں خطرناک کمی فوری نقصان پہنچا

شوگر کیا ہے؟ خون میں شوگر کی نارمل مقدار اور خطرے کی علامات،  اور اسے قابو میں رکھنے کے طریقےشوگر کیا ہے؟ خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جائ
شوگر کیا ہے؟ خون میں شوگر کی نارمل مقدار اور خطرے کی علامات،  اور اسے قابو میں رکھنے کے طریقے
شوگر کیا ہے؟ خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جائ

سکتی ہے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ شکر کتنی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے کب ناپا گیا اور اس کا نتیجہ کیا معنی رکھتا ہے۔

خون میں شکر کی مقدار کو سمجھنا ذیابیطس سے بچاؤ، اس کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کے لیے اہم ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ درست معلومات اور روزمرہ کی

چند قابلِ عمل عادتوں سے بہت سے لوگ اپنی صحت بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

https://mrpo.pk/?p=18578&preview=true

ذیابیطس: دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کی بڑی وجہ ’شوگر‘ کیا ہے اور اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں اموات کی وجہ بنتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر یعنی گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اور اس پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے مطابق دنیا بھر میں 53 کروڑ سے زیادہ افراد اس مرض کا شکار ہیں اور خدشہ ہے کہ 2030 تک یہ تعداد 64 کروڑ سے بڑھ سکتی ہے۔

تنظیم کے مطابق ذیابیطس سے متاثرہ افراد میں سے 75 فیصد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جن کا شمار غریب یا متوسط آمدن والے ممالک میں ہوتا ہے جہاں کھانے پینے کی عادادت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا ذمہ دار سستے ’پروسیسڈ‘ کھانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 2021 میں ایک اندازے کے مطابق 67 لاکھ افراد ذیابیطس اور اس سے جڑی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

https://www.bbc.com/urdu/articles/c9dl9w59l6vo

خون میں شکر کیا ہوتی ہے؟

خون میں موجود شکر، جسے گلوکوز بھی کہا جاتا ہے، جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہم جو غذا کھاتے ہیں، اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس ہضم ہونے کے بعد بڑی حد تک گلوکوز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

لبلبہ ایک ہارمون، انسولین، بناتا ہے جو گلوکوز کو خون سے جسم کے خلیوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسولین مناسب مقدار میں نہ بنے یا جسم اس کا اثر درست طور پر قبول نہ کرے تو خون میں شکر بڑھ سکتی ہے۔ یہی کیفیت ذیابیطس کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔

خون میں شکر دن بھر بدلتی رہتی ہے۔ کھانے کے بعد اس کا بڑھنا معمول کی بات ہے، لیکن اگر یہ مسلسل زیادہ رہے تو آنکھوں، گردوں، اعصاب، دل اور خون کی

Blood Sugar: Normal Levels, Symptoms, and How to Keep It in Range
Blood Sugar: Normal Levels, Symptoms, and How to Keep It in Range

نالیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

خون میں شکر کی معمول کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

ذیابیطس کی تشخیص کے لیے مختلف خون کے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ذیل میں دی گئی حدود عام طور پر حاملہ نہ ہونے والے افراد میں استعمال ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی تشخیص کے لیے اہم حدود

ٹیسٹ معمول کی حد ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت ذیابیطس کی حد
خالی پیٹ خون میں شکر  99 یا اس سے کم  100 سے  125  126 یا اس سے زیادہ
طویل مدتی اوسط شکر کا ٹیسٹ  5.7 فیصد سے کم  5.7 سے  6.4 فیصد  6.5 فیصد یا اس سے زیادہ
گلوکوز محلول پینے کے دو گھنٹے بعد  139 یا اس سے کم  140 سے  199  200 یا اس سے زیادہ

 

 

 

 

خون میں شکر کی مقدار ملی گرام فی

ڈیسی لیٹر میں ظاہر کی جاتی ہے، جبکہ طویل مدتی اوسط والے ٹیسٹ کا نتیجہ فیصد میں ہوتا ہے۔

اہم وضاحت: خالی پیٹ ٹیسٹ سے پہلے عموماً کم از کم  8 گھنٹے تک کھانے پینے سے پرہیز کیا جاتا ہے، البتہ پانی پیا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس کی تشخیص کے لیے عموماً تجربہ گاہ میں ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ اگر واضح علامات موجود نہ ہوں تو غیر معمولی نتیجے کی تصدیق کے لیے دوبارہ ٹیسٹ یا دوسرا موزوں ٹیسٹ درکار ہو سکتا ہے۔

یہ حدود ذیابیطس کی تشخیص کے لیے ہیں، نہ کہ ہر مریض کے روزانہ کے مطلوبہ نتائج کے لیے۔

مستند حوالہ: قومی ادارۂ ذیابیطس، ہاضمے اور گردوں کی بیماریوں کی معلومات

کھانے سے پہلے اور بعد میں شکر کتنی ہونی چاہیے؟

جو افراد پہلے سے ذیابیطس میں مبتلا ہیں، ان کے لیے خون میں شکر کی مطلوبہ مقدار ان کی عمر، علاج، دوسری بیماریوں اور شکر میں خطرناک کمی کے امکان کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

بہت سے ایسے بالغ افراد کے لیے عام علاجی اہداف یہ ہوتے ہیں

  • کھانے سے پہلے:  80 سے  130 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر۔
  • کھانا شروع کرنے کے تقریباً  1 سے  2 گھنٹے بعد:  180 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم۔

یہ اہداف ہر شخص کے لیے یکساں نہیں۔ ڈاکٹر کسی مریض کے لیے مختلف حدود تجویز کر سکتا ہے۔ عام کھانے کے بعد کی شکر کو ذیابیطس کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص گلوکوز ٹیسٹ کے برابر بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

خون میں شکر بڑھنے کی علامات

بعض لوگوں میں شکر کافی بڑھ جانے کے باوجود ابتدا میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اسی لیے خطرے کے عوامل رکھنے والے افراد کے لیے بروقت ٹیسٹ اہم ہے۔

High Blood Sugar: Symptoms You Should Recognize
High Blood Sugar: Symptoms You Should Recognize

عام علامات میں شامل ہیں

  • بار بار پیشاب آنا۔
  • غیر معمولی پیاس لگنا۔
  • بھوک میں اضافہ۔
  • تھکاوٹ اور کمزوری۔
  • دھندلا دکھائی دینا۔
  • بغیر واضح وجہ کے وزن کم ہونا۔
  • زخموں کا دیر سے بھرنا۔

یہ علامات ذیابیطس کے علاوہ دوسری وجوہ سے بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر تشخیص نہیں کرنی چاہیے۔

خون میں شکر کم ہونے کی علامات

خون میں شکر کی مقدار بہت کم ہو جائے تو اسے کم شکر یا ہائپوگلیسیمیا کہا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے بہت سے مریضوں میں  70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم مقدار کو کم شکر سمجھا جاتا ہے۔  54 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم مقدار زیادہ سنگین ہے۔

علامات میں شامل ہو سکتی ہیں

Common signs of low blood sugar
Common signs of low blood sugar
  • ہاتھوں کا کانپنا۔
  • پسینہ آنا۔
  • اچانک بھوک لگنا۔
  • چکر آنا یا کمزوری۔
  • دل کی دھڑکن تیز ہونا۔
  • چڑچڑاپن یا الجھن۔
  • توجہ مرکوز کرنے میں مشکل۔

شدید کمی کی صورت میں دورہ پڑ سکتا ہے یا انسان بے ہوش ہو سکتا ہے۔

شکر کم ہو جائے تو کیا کریں؟

اگر مریض ہوش میں ہو اور محفوظ طریقے سے نگل سکتا ہو تو عام طور پر درج ذیل طریقہ اختیار کیا جاتا ہے

۔ فوری اثر کرنے والی تقریباً  15 گرام شکر لیں، مثلاً گلوکوز کی گولیاں یا تقریباً  120 ملی لیٹر عام پھلوں کا رس۔

۔  15 منٹ انتظار کریں اور دوبارہ شکر ناپیں۔

۔ اگر شکر اب بھی  70 سے کم ہو تو یہی عمل دہرائیں۔

 ۔ شکر بہتر ہونے کے بعد اپنے طبی منصوبے کے مطابق کھانا یا مناسب ہلکی غذا استعمال کریں۔

اگر مریض بے ہوش ہو، دورہ پڑ رہا ہو یا نگلنے کے قابل نہ ہو تو اس کے منہ میں پانی، جوس یا کوئی غذا نہ ڈالیں۔ اگر گلوکاگون تجویز کیا گیا ہو اور اسے استعمال کرنے کا طریقہ معلوم ہو تو استعمال کریں اور فوراً ہنگامی طبی مدد طلب کریں۔

خون میں شکر خطرناک حد تک بڑھ جائے تو؟

مسلسل زیادہ شکر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں ذیابیطس کی سنگین پیچیدگیاں تیزی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔

اگر زیادہ شکر کے ساتھ درج ذیل علامات ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں

  • مسلسل قے یا پیٹ میں شدید درد۔
  • گہری یا مشکل سانسیں۔
  • سانس سے پھل جیسی غیر معمولی بو آنا۔
  • شدید پیاس اور پانی کی کمی۔
  • الجھن، غنودگی یا ہوش میں تبدیلی۔
  • پانی بھی جسم میں برقرار نہ رکھ پانا۔

یہ علامات ذیابیطس کیٹوایسیڈوسس یا کسی دوسری سنگین پیچیدگی کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف گھر پر شکر ناپتے رہنا یا کسی خاص عدد تک پہنچنے کا انتظار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

شوگر کیا ہے؟ خون میں شکر کیوں بڑھتی یا کم ہوتی ہے؟

شکر پر صرف میٹھی چیزیں کھانے کا اثر نہیں پڑتا۔ کئی عوامل اس میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں

  • غذا: میٹھے مشروبات اور زیادہ مقدار میں صاف شدہ کاربوہائیڈریٹس شکر تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔
  • جسمانی سرگرمی: ورزش شکر کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، مگر اثر ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔
  • ذہنی دباؤ اور بیماری: جسمانی ہارمونز میں تبدیلی شکر بڑھا سکتی ہے۔
  • نیند کی کمی: ناکافی نیند شکر کو قابو میں رکھنا مشکل بنا سکتی ہے۔
  • ادویات: دوا کی مقدار، وقت یا خوراک چھوٹ جانے سے شکر متاثر ہو سکتی ہے۔
  • پانی کی کمی: جسم میں پانی کی کمی زیادہ شکر کے ساتھ مسئلہ بڑھا سکتی ہے۔
  • ہارمونز میں تبدیلی: بعض ہارمونل تبدیلیاں بھی خون میں شکر پر اثر ڈالتی ہیں۔

اگر شکر بار بار غیر متوقع طور پر بڑھتی یا گرتی ہے تو وقت، کھانے، سرگرمی، ادویات اور علامات کا ریکارڈ رکھیں۔ یہ معلومات ڈاکٹر کو اصل وجہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

خون میں شکر کو قابو میں رکھنے کے عملی طریقے

متوازن غذا کھائیں

سبزیاں، دالیں، پھلیاں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین استعمال کریں۔ فائبر والی غذائیں پیٹ بھرنے میں مدد دیتی ہیں اور شکر کے اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھنے میں فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

صرف غذا کے نام پر نہیں بلکہ مقدار پر بھی توجہ دیں۔ قدرتی یا صحت بخش سمجھی جانے والی غذا بھی خون میں شکر بڑھا سکتی ہے۔

میٹھے مشروبات کم کریں

میٹھے سافٹ ڈرنکس، شکر والی چائے، توانائی بخش مشروبات اور زیادہ مقدار میں جوس سے پرہیز فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ عام حالات میں پانی اور بغیر شکر کے مشروبات بہتر انتخاب ہیں۔ البتہ شکر خطرناک حد تک کم ہونے پر فوری اثر کرنے والی شکر علاج کا حصہ ہو سکتی ہے۔

جسمانی سرگرمی بڑھائیں

اپنی صحت اور جسمانی صلاحیت کے مطابق چہل قدمی یا دوسری مناسب سرگرمی اپنائیں۔ آہستہ شروع کریں اور بتدریج اضافہ کریں۔ اگر آپ انسولین یا ایسی دوا

Elderly_people_walking_in_park_
Healthy Ageing Is Ultimately Human, Not Gendered

لیتے ہیں جس سے شکر کم ہو سکتی ہے تو ورزش کے متعلق ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔

نیند اور معمول کا خیال رکھیں

باقاعدہ نیند اور روزمرہ کے متوازن معمول سے شکر کے انتظام میں مدد مل سکتی ہے۔ مسلسل نیند کی خرابی ہو تو طبی مشورہ لیں۔

دوا خود سے بند نہ کریں

اگر دوا کے استعمال کے دوران شکر معمول پر آ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوا کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ معمول کی مقدار علاج کے مؤثر ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ دوا میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔

صرف ایک عدد نہیں، مسلسل رجحان دیکھیں

اگر آپ کو شکر ناپنے کی ہدایت دی گئی ہے تو مقررہ اوقات میں نتائج درج کریں۔ ایک غیر معمولی نتیجے کے بجائے مسلسل رجحان زیادہ مفید معلومات دے سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

شوگر کیا ہے؟ کیا خالی پیٹ شکر  110 معمول کے مطابق ہے؟

اگر یہ تجربہ گاہ میں خالی پیٹ کیا گیا ٹیسٹ ہے تو  110 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت کی حد میں آتا ہے۔ یہ نتیجہ اکیلا ذیابیطس کی تصدیق نہیں کرتا۔ ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔

کیا کھانے کے بعد شکر  140 خطرناک ہے؟

ضروری نہیں۔ اس کا مطلب اس بات پر منحصر ہے کہ کھانے کے کتنی دیر بعد شکر ناپی گئی، آپ کو ذیابیطس ہے یا نہیں، اور آپ کا علاجی ہدف کیا ہے۔

شکر کم ہونے کی کون سی مقدار زیادہ تشویش ناک ہے؟

عموما” 70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم مقدار کم شکر سمجھی جاتی ہے، جبکہ  54 سے کم مقدار زیادہ سنگین ہے۔ بے ہوشی، دورہ یا نگلنے میں ناکامی کی صورت میں فوری ہنگامی مدد ضروری ہے۔

کیا گھر میں استعمال ہونے والی مشین ذیابیطس کی تشخیص کر سکتی ہے؟

نہیں۔ یہ مشین نگرانی کے لیے مفید ہے، لیکن تشخیص کے لیے مناسب تجربہ گاہ کے ٹیسٹ اور طبی جائزہ ضروری ہیں۔

کیا ذیابیطس کی علامات ہمیشہ واضح ہوتی ہیں؟

نہیں۔ بعض لوگوں میں علامات بہت ہلکی ہوتی ہیں یا کافی عرصے تک ظاہر نہیں ہوتیں۔ خطرے کے عوامل رکھنے والے افراد کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کہ انہیں کب ٹیسٹ کروانا مناسب ہے۔

کیا صرف غذا سے ذیابیطس قابو میں آ سکتی ہے؟

بعض لوگوں میں غذا، جسمانی سرگرمی اور وزن میں مناسب تبدیلی بہت مدد دیتی ہے، لیکن ہر مریض کے لیے یہ کافی نہیں ہوتی۔ بعض افراد کو ادویات یا انسولین

Healthy_vs_Unhealthy_Drinks_Comp…:Healthy_vs_Unhealthy_Drinks_Comp…
Can Lassi Replace Soft Drinks?

کی ضرورت رہتی ہے۔

آخری بات

خون میں شکر کی مقدار سمجھنا اپنی صحت کی حفاظت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ نہ ہر بلند عدد فوری خطرے کی علامت ہے اور نہ معمول کا ایک نتیجہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں۔

اگر شکر بار بار غیر معمولی آئے تو طبی معائنہ کروائیں۔ اگر شدید کم شکر یا ذیابیطس کی ہنگامی پیچیدگی کی علامات ظاہر ہوں تو دیر نہ کریں۔

طبی وضاحت: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ یہ ڈاکٹر کے مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ ذاتی رہنمائی کے لیے مستند طبی ماہر سے رابطہ کریں۔ ذیابیطس کی ممکنہ ہنگامی علامات کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔

مستند حوالہ جات