مومنوں کی صفات
قرآنِ مجید کی روشنی میں کامیاب اہلِ ایمان کا جامع خاکہ
(حصہ اول)
تمہید
دنیا کی نظر میں کامیابی کا معیار دولت، اقتدار، شہرت اور آسائش ہے۔ جس کے پاس زیادہ مال ہو، جس کا مرتبہ بلند ہو یا جسے دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہو، اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن قرآنِ مجید انسان کو کامیابی کا ایک بالکل مختلف تصور دیتا ہے۔
قرآن محض یہ نہیں کہتا کہ “نیک بن جاؤ” یا “اچھے اعمال کرو”، بلکہ وہ ایک ایسے مومن کی مکمل تصویر ہمارے سامنے رکھتا ہے جو حقیقت میں کامیاب ہے۔ اس کی عبادت کیسی ہے؟ اس کا اخلاق کیسا ہے؟ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے؟ لوگوں سے اس کا برتاؤ کیسا ہوتا ہے؟ مال، زبان، خواہشات اور ذمہ داریوں کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہوتا ہے؟ قرآن ان تمام پہلوؤں کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔
یہ مختصر مطالعہ انہی قرآنی اوصاف کو یکجا کرتا ہے۔ اس میں خصوصاً سورۃ المؤمنون، سورۃ لقمان اور سورۃ الفرقان کی ان آیات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب اہلِ ایمان کی نمایاں صفات بیان فرمائی ہیں۔ اس کے ساتھ سورۃ البقرہ، سورۃ الانفال، سورۃ الاحزاب، سورۃ الحجرات اور سورۃ التوبہ کی متعلقہ آیات کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ایک جامع تصویر سامنے آ سکے۔
ہر مقام پر آیات کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ائمۂ تفسیر، مثلاً امام ابن کثیر، امام طبری، امام قرطبی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمد شفیع رحمہم اللہ اور دیگر معتبر مفسرین کی آراء سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، تاکہ قاری صرف الفاظ کا ترجمہ ہی نہ پڑھے بلکہ ان کے حقیقی مفہوم اور عملی تقاضوں کو بھی سمجھ سکے۔
اس مطالعے کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص قرآن کے اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکے اور جان سکے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کامیاب مومن کی اصل پہچان کیا ہے۔
حقیقت میں کامیاب مومن
(سورۃ المؤمنون: آیات 1 تا 11)
سورۃ المؤمنون کا آغاز ایک نہایت پُروقار اعلان سے ہوتا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ
“یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے۔“
یہ کوئی دعا نہیں، نہ خواہش ہے اور نہ ہی کوئی مشروط وعدہ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے۔
یہاںبنیادی طور پر “فلاح” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں فلاح صرف کسی وقتی کامیابی یا دنیاوی فائدے کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد ایسی کامل کامیابی ہے جس میں انسان اپنی مطلوبہ نعمتیں حاصل کر لے اور ہر خوف، نقصان اور ناکامی سے محفوظ ہو جائے۔ گویا دنیا اور آخرت دونوں کی حقیقی کامیابی۔
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی میں فیصلہ سنا دیا کہ ایسے لوگ اپنی منزل پا چکے ہیں، ان کے انجام کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہا۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی اس موقع پر ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئیں جب مکہ کے سردار مسلمانوں کو انتہائی کمزور، غریب اور ناکام سمجھتے تھے۔ دنیا کی نگاہ میں طاقت، دولت اور اکثریت ہی کامیابی کا معیار تھا، لیکن قرآن نے اعلان کر دیا کہ کامیابی کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ کردار اور ایمان ہے۔
اس اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی چھ بنیادی صفات بیان فرماتے ہیں جنہوں نے حقیقی فلاح حاصل کی۔
نماز میں خشوع و خضوع
الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
سب سے پہلی صفت نماز میں خشوع ہے۔
خشوع صرف جسم کے جھکنے یا آہستہ آواز میں نماز پڑھنے کا نام نہیں۔ اصل خشوع دل کی کیفیت ہے۔ دل اللہ کی عظمت سے بھر جائے، نگاہیں جھک جائیں، خیالات منتشر نہ ہوں اور بندہ پوری توجہ کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ، مجاہدؒ اور حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ خشوع کی ابتدا دل سے ہوتی ہے، پھر اس کے آثار انسان کے چہرے، نگاہ، آواز اور پورے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں۔
حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی شخص ظاہری طور پر بالکل ساکت کھڑا ہو، لیکن اس کا دل دنیا بھر میں گھوم رہا ہو۔ ایسی نماز حقیقی خشوع والی نماز نہیں۔ اصل خشوع یہ ہے کہ دل بھی اللہ کی طرف متوجہ ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اصل روح ظاہری حرکات نہیں بلکہ اللہ کے حضور مکمل حضوری اور عاجزی ہے۔
لغو اور بے فائدہ باتوں سے اجتناب
وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ
کامیاب مومن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ لغو باتوں سے منہ موڑ لیتا ہے۔
“لغو” سے مراد ہر وہ بات، مشغلہ یا سرگرمی ہے جس کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، یا جو انسان کے اخلاق اور کردار کو نقصان پہنچاتی ہو۔
اس میں فضول گفتگو، غیبت، مذاق میں دل آزاری، بے ہودہ تفریح، جھگڑے، وقت ضائع کرنے والی مصروفیات اور ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کو اللہ کی یاد اور مفید زندگی سے غافل کر دے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ قرآن نے صرف “لغو سے بچنے” کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ وہ اس سے “اعراض” کرتے ہیں، یعنی جان بوجھ کر اس سے اپنا راستہ الگ کر لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ ان میں دلچسپی بھی نہیں لیتے۔
یہ مومن کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے کہ وہ اپنے وقت، زبان اور توجہ کو بے مقصد کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔
(ان شاء اللہ اگلے حصے میں سورۃ المؤمنون کی باقی چار صفات — زکوٰۃ، عفت، امانت و عہد کی پاسداری، اور نمازوں کی حفاظت — کے ساتھ ان کے تفصیلی تفسیری نکات اور اس حصے کا اختتام پیش کیا جائے گا۔)
زکوٰۃ کی ادائیگی اور نفس و مال کی پاکیزگی
وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ
کامیاب مومن کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
عام طور پر زکوٰۃ سے مراد وہ مالی عبادت ہے جو صاحبِ نصاب مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کے ایک وسیع تر مفہوم کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ چونکہ سورۃ المؤمنون مکی دور میں نازل ہوئی تھی، جب زکوٰۃ کا باقاعدہ شرعی نظام ابھی مقرر نہیں ہوا تھا، اس لیے بعض اہلِ علم کے نزدیک یہاں زکوٰۃ سے مراد صرف مالی ادائیگی نہیں بلکہ پاکیزگی اختیار کرنا بھی ہے۔
لفظ “زکوٰۃ“ کا تعلق تزکیہ سے بھی ہے، جس کے معنی ہیں پاک کرنا، نشوونما دینا اور بہتر بنانا۔
اس اعتبار سے یہ آیت ہمیں دو اہم سبق دیتی ہے۔
پہلا یہ کہ مومن اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اسے پاک کرتا ہے، کیونکہ جو مال اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے وہی حقیقی برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔
دوسرا یہ کہ وہ اپنے نفس کو بھی حسد، بخل، لالچ، خودغرضی اور دنیا پرستی جیسی بیماریوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
قرآن ہمیں یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ انسان کا اپنے مال کے ساتھ تعلق اس کے ایمان کا آئینہ ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے خوش دلی سے خرچ کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے رب پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔
پاکدامنی اور عفت کی حفاظت
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومن کی ایک نہایت اہم صفت بیان فرماتے ہیں کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتا ہے، سوائے ان حدود کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے ذریعے جائز قرار دیا ہے۔
قرآن پاکدامنی کو صرف ایک سماجی یا اخلاقی اصول کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ اسے ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔
آج کا معاشرہ انسان کو ہر طرف سے بے حیائی، فحاشی اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی دعوت دیتا ہے، لیکن مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک پاکیزہ اور محفوظ راستہ مقرر فرمایا ہے۔
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت میں عفت کو دراصل ایک حفاظتی حصار کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ہی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
اسلام انسان کی فطری خواہشات کا انکار نہیں کرتا، بلکہ ان کے لیے ایک پاکیزہ، متوازن اور باعزت راستہ مہیا کرتا ہے تاکہ فرد، خاندان اور معاشرہ سب محفوظ رہیں۔
امانت اور وعدوں کی پاسداری
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ
کامیاب مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ ہر امانت کی حفاظت کرتا ہے اور ہر وعدے کو پورا کرتا ہے۔
اسلام میں امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔
مالی امانت بھی امانت ہے، لیکن صرف یہی نہیں۔
کسی کا راز امانت ہے۔
سپرد کیا گیا کام امانت ہے۔
سرکاری یا نجی ذمہ داری امانت ہے۔
والدین کی ذمہ داریاں، اولاد کی تربیت، استاد کی تدریس، قاضی کا انصاف، تاجر کی دیانت اور حکمران کی ذمہ داری—یہ سب امانتیں ہیں۔
اسی طرح ہر وعدہ، چاہے وہ زبانی ہو یا تحریری، چھوٹا ہو یا بڑا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں قابلِ جواب دہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے منافق کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے، اور جب وعدہ کرے تو اسے پورا نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت داری صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی بنیادی علامت ہے۔
ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ لوگ اس کے قول و فعل پر اعتماد کرتے ہیں۔
نمازوں کی حفاظت
وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
سورۃ المؤمنون میں صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔
لیکن پہلی آیت میں نماز کی روح بیان ہوئی تھی، جبکہ یہاں نماز کی حفاظت کا ذکر ہے۔
لفظ “یحافظون“ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مومن صرف نماز پڑھنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کی پوری حفاظت کرتا ہے۔
وہ نماز کو وقت پر ادا کرتا ہے۔
اس کے آداب کا خیال رکھتا ہے۔
وضو، طہارت، خشوع اور باجماعت نماز کی حتی المقدور پابندی کرتا ہے۔
نماز اس کی زندگی کے معمولات کے تابع نہیں ہوتی بلکہ اس کے معمولات نماز کے تابع ہوتے ہیں۔
امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا اور انتہا دونوں جگہ نماز کا ذکر کرکے یہ واضح کر دیا کہ نماز مومن کی زندگی کا مرکز ہے۔ اگر نماز درست ہو جائے تو انسان کی پوری زندگی سنورنے لگتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی کامیاب ہوں گے۔“
اسی لیے کامیاب مومن نماز کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتا ہے۔
ان صفات کا عظیم انعام
ان چھ صفات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے انجام کو بھی بیان فرماتے ہیں
أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
“یہی لوگ حقیقی وارث ہیں، جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔“
یہاں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو وارث قرار دیا ہے۔ وارث وہ ہوتا ہے جو کسی قیمتی چیز کا حق دار بن جائے۔ گویا جنت کوئی اتفاقی انعام نہیں بلکہ ان لوگوں کی میراث ہے جنہوں نے ایمان اور صالح کردار کے ذریعے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنایا۔
احادیث میں جنت الفردوس کو جنت کا بلند ترین اور بہترین مقام قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگا کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے، اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔
یہی وہ کامیابی ہے جس کا اعلان سورۃ المؤمنون کی پہلی آیت میں کیا گیا تھا۔ دنیا کی کامیابیاں وقتی ہوتی ہیں، لیکن قرآن جس فلاح کی خبر دیتا ہے وہ دائمی، کامل اور کبھی ختم نہ ہونے والی کامیابی ہے۔
حصہ دوم
حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں
سورۃ لقمان: آیات 12 تا19
سورۃ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب مومن کی صفات ایک منظم فہرست کی صورت میں بیان فرمائیں۔ اس کے برعکس سورۃ لقمان میں یہی تعلیمات ایک نہایت محبت بھرے انداز میں سامنے آتی ہیں۔ یہاں ایک باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ نصیحت ہر دور کے والدین، ہر نوجوان اور ہر مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔
حضرت لقمان علیہ السلام نبی نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت عطا فرمائی تھی۔ قرآنِ مجید نے ان کی گفتگو کو محفوظ کرکے یہ بتا دیا کہ حقیقی حکمت صرف علم کا نام نہیں بلکہ ایسی بصیرت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی رضا کا راستہ دکھائے اور اس کی عملی زندگی کو سنوار دے۔
حضرت لقمان کی نصیحتوں میں ایمان، عبادت، اخلاق، معاشرت اور شخصیت سازی کے بنیادی اصول نہایت جامع انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
سب سے پہلی نصیحت: شرک سے مکمل اجتناب
حضرت لقمان نے اپنی نصیحت کا آغاز اس بنیادی حقیقت سے کیا جس پر پورا دین قائم ہے۔
يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
“اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“
غور کیجیے، انہوں نے عبادات، اخلاق یا معاملات سے پہلے توحید کی تعلیم دی، کیونکہ اگر ایمان کی بنیاد درست نہ ہو تو باقی تمام اعمال اپنی اصل قدر کھو دیتے ہیں۔
قرآن نے یہاں شرک کو صرف گناہ نہیں کہا بلکہ بہت بڑا ظلم قرار دیا ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دینا۔
شرک اس لیے سب سے بڑا ظلم ہے کہ انسان عبادت اور بندگی کا حق، جو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے، کسی اور کو دے دیتا ہے۔ اس سے بڑی ناانصافی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔
یہ صرف بتوں کی پوجا تک محدود نہیں۔ ہر وہ چیز جسے انسان اللہ کی اطاعت سے بڑھ کر اہمیت دے، جس پر وہ اندھا اعتماد کرے یا جس کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم رکھے، وہ شرک کے مختلف مظاہر میں شامل ہو سکتی ہے۔
اس لیے کامیاب مومن کی پہلی پہچان خالص توحید ہے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
توحید کے فوراً بعد قرآن والدین کے حقوق بیان کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اپنے رحم میں رکھا، تکلیفیں برداشت کیں اور دو سال تک دودھ پلا کر اس کی پرورش کی۔
اسی لیے فرمایا کہ اللہ کا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی۔
لیکن اسی مقام پر قرآن ایک نہایت متوازن اصول بھی بیان کرتا ہے۔
اگر والدین انسان کو اللہ کی نافرمانی یا شرک کی دعوت دیں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، کیونکہ اللہ کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔
تاہم اس کے باوجود قرآن حکم دیتا ہے کہ دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور نرمی کا رویہ برقرار رکھا جائے۔
یہ اسلام کی عظیم تعلیم ہے۔
نہ والدین کی محبت انسان کو اللہ سے دور کر سکتی ہے، اور نہ اللہ کی اطاعت انسان کو والدین کے ساتھ بدتمیزی کی اجازت دیتی ہے۔
ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں حقوق اپنی اپنی جگہ پورے کیے جائیں۔
یہ یقین کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے
اس کے بعد حضرت لقمان اپنے بیٹے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ… يَأْتِ بِهَا اللَّهُ
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، کسی چٹان کے اندر چھپا ہو، آسمانوں میں ہو یا زمین کے کسی گوشے میں، اللہ تعالیٰ اسے بھی قیامت کے دن سامنے لے آئیں گے۔
یہ آیت دراصل ایمان کی روح ہے۔
جو شخص یقین رکھتا ہے کہ اللہ اس کے ہر خیال، ہر لفظ اور ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، اسے ہر وقت کسی پولیس، کیمرے یا نگران کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس کا ضمیر خود اسے ٹوکتا رہتا ہے۔
اسی احساس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے۔
امام طبری لکھتے ہیں کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے دل میں پہلے اللہ کی عظمت اور اس کی کامل نگرانی کا یقین پیدا کیا، کیونکہ یہی یقین تمام نیکیوں کی بنیاد بنتا ہے۔
نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور صبر اختیار کرو
اس کے بعد حضرت لقمان چار عظیم ذمہ داریوں کا ذکر ایک ہی سانس میں کرتے ہیں۔
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ
نماز قائم کرو۔
نماز صرف چند رکعتیں پڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ پوری زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ ہے۔
اس کے بعد فرمایا:
نیکی کا حکم دو۔
یعنی جہاں بھلائی دیکھو اسے فروغ دو، لوگوں کو خیر کی طرف بلاؤ، اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرو۔
پھر فرمایا
برائی سے روکو۔
خاموش تماشائی بن جانا ایمان کا شیوہ نہیں۔ مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن حضرت لقمان جانتے تھے کہ جو شخص حق کی دعوت دے گا اسے مخالفت، تنقید اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
اسی لیے فوراً فرمایا
اور جو مصیبت اس راہ میں پہنچے، اس پر صبر کرنا۔
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ گویا حضرت لقمان اپنے بیٹے کو پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اگر تم لوگوں کی اصلاح کرو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف نہیں کرے گا۔
کچھ لوگ مخالفت کریں گے، کچھ مذاق اڑائیں گے اور کچھ تکلیف پہنچائیں گے۔
ایسے وقت میں صبر ہی مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
یہ چاروں اوصاف ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔
نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے۔
دعوتِ خیر اسے معاشرے سے جوڑتی ہے۔
اصلاحِ معاشرہ اسے ذمہ دار بناتی ہے۔
اور صبر اسے استقامت عطا کرتا ہے۔
عاجزی، وقار اور نرم گفتاری
حضرت لقمان کی آخری نصیحتیں انسان کے ظاہری اخلاق اور شخصیت سے متعلق ہیں۔
انہوں نے فرمایا:
لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو۔
یعنی تکبر، غرور اور خود پسندی سے بچو۔
پھر فرمایا
زمین پر اکڑ کر مت چلو۔
انسان کی چال بھی اس کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
غرور صرف زبان سے ظاہر نہیں ہوتا بلکہ چلنے، بیٹھنے، لباس، اندازِ گفتگو اور رویے سے بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا
اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو۔
اسلام نہ مصنوعی عاجزی پسند کرتا ہے اور نہ تکبر۔
مومن باوقار، متوازن اور سنجیدہ ہوتا ہے۔
آخر میں حضرت لقمان نے ایک نہایت خوبصورت مثال دی۔
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
“اپنی آواز پست رکھو، کیونکہ سب سے ناپسندیدہ آواز گدھے کی آواز ہے۔“
یہ مثال صرف آواز کی بلندی کے بارے میں نہیں بلکہ گفتگو کے پورے انداز کے بارے میں ہے۔
مومن کی گفتگو نرم، مہذب، باوقار اور مؤثر ہوتی ہے۔
وہ چیخ کر اپنی بات منوانے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ دلیل اور حسنِ اخلاق ہمیشہ بلند آواز سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
حاصلِ کلام
حضرت لقمان کی یہ مختصر نصیحتیں درحقیقت ایک مکمل تربیتی نصاب ہیں۔
ان کا آغاز توحید سے ہوتا ہے اور اختتام اخلاق پر۔
درمیان میں والدین کے حقوق، اللہ کی نگرانی کا احساس، نماز، دعوتِ حق، اصلاحِ معاشرہ، صبر، عاجزی اور حسنِ اخلاق جیسے تمام بنیادی اصول آ جاتے ہیں۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک مومن کو صرف عبادت گزار ہی نہیں بلکہ ایک باکردار انسان، ایک اچھا بیٹا، ایک بہترین شہری اور معاشرے کا قابلِ اعتماد فرد بناتے ہیں۔
حصہ سوم
عبادُ الرحمٰن
(سورۃ الفرقان: آیات 63 تا 77)
اگر سورۃ المؤمنون کامیاب مومن کے بنیادی اوصاف بیان کرتی ہے اور سورۃ لقمان ایک دانا باپ کی نصیحتوں کے ذریعے ایمان کی بنیادیں مضبوط کرتی ہے، تو سورۃ الفرقان ایمان کی ایک اور نہایت حسین تصویر پیش کرتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایک خاص گروہ کو ایک منفرد لقب عطا فرماتے ہیں
عِبَادُ الرَّحْمٰن
“رحمٰن کے بندے“
غور کیجیے، اللہ تعالیٰ اپنے بے شمار صفاتی ناموں میں سے یہاں “الرحمٰن“ کا انتخاب فرماتے ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی رحمت ہی ان بندوں کی تربیت کرتی ہے، انہی کی حفاظت کرتی ہے اور آخرکار انہیں اپنی ابدی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔
اس مقام پر قرآن عبادُ الرحمٰن کی صفات کو کسی خشک فہرست کی صورت میں بیان نہیں کرتا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ گویا ہم ایک ایسے انسان کو چلتے پھرتے، لوگوں سے ملتے جلتے، عبادت کرتے، خرچ کرتے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جس کا پورا کردار قرآن کی تعلیمات کا آئینہ دار بن چکا ہے۔
عاجزی ان کی پہچان ہے
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا
عبادُ الرحمٰن کی پہلی پہچان ان کی عاجزی ہے۔
قرآن یہ نہیں کہتا کہ وہ صرف نماز میں عاجز ہوتے ہیں، بلکہ فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔
یعنی ان کی پوری زندگی میں انکساری نمایاں ہوتی ہے۔
ان کی چال، گفتگو، لباس، معاملات اور رویے میں تکبر کی جھلک نہیں ہوتی۔
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ ان کی عاجزی اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ بعض لوگ انہیں کمزور سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کے دل اللہ کی عظمت سے بھرے ہوتے ہیں۔
یہ عاجزی کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی طاقت ہے۔
جس انسان کو اپنی حقیقت معلوم ہو جائے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، وہ دوسروں پر برتری جتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
جاہلوں سے الجھنے کے بجائے سلامتی کا راستہ اختیار کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
جب کوئی جاہل، بدتمیز یا مشتعل شخص ان سے الجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسی انداز میں جواب نہیں دیتے۔
وہ لڑائی بڑھانے کے بجائے ایسی بات کہتے ہیں جو امن، وقار اور خیر کا باعث بنے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بزدل ہوتے ہیں یا حق بات کہنا چھوڑ دیتے ہیں۔
بلکہ وہ اپنی عزتِ نفس اور اخلاق کو غصے کی نذر نہیں ہونے دیتے۔
آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا پر، یہ صفت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
ہر اختلاف کو جھگڑے میں بدل دینا، ہر تنقید کا سخت جواب دینا اور ہر اشتعال کا فوری ردِعمل دینا مومن کا طریقہ نہیں۔
طاقت اپنی زبان پر قابو رکھنے میں ہے، نہ کہ ہر بحث جیت لینے میں۔
راتیں اپنے رب کی عبادت میں گزارتے ہیں
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا
دن بھر لوگوں کے درمیان رہنے کے بعد جب رات کی تنہائی آتی ہے تو عبادُ الرحمٰن اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔
وہ سجدہ کرتے ہیں، قیام کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور اپنے دل کا حال اپنے رب کے سامنے بیان کرتے ہیں۔
دن کی مصروفیات انہیں اللہ سے غافل نہیں کرتیں، بلکہ رات کی خلوت ان کے ایمان کو تازگی عطا کرتی ہے۔
یہی خلوت انسان کے اخلاص کا امتحان بھی ہے۔
لوگوں کے سامنے عبادت کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن رات کے سناٹے میں، جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو، صرف اللہ کے لیے کھڑا ہونا سچے ایمان کی علامت ہے۔
نیک اعمال کے باوجود اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں
عبادُ الرحمٰن دعا کرتے ہیں
رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ
“اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب دور فرما۔”
یہ دعا ہمیں ایک عظیم سبق دیتی ہے۔
یہ لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، تہجد بھی پڑھتے ہیں، نیک اعمال بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی نجات کے بارے میں بے فکر نہیں ہوتے۔
انہیں اپنے اعمال پر غرور نہیں ہوتا۔
وہ جانتے ہیں کہ جنت صرف اللہ کے فضل سے ملے گی۔
اسی لیے ان کے دل میں امید بھی ہوتی ہے اور خوف بھی۔
یہی ایمان کا متوازن راستہ ہے۔
خرچ کرنے میں اعتدال
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا
عبادُ الرحمٰن نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل۔
ان کا مالی رویہ اعتدال پر قائم ہوتا ہے۔
اسلام دولت کا مخالف نہیں، بلکہ دولت کے غلط استعمال کا مخالف ہے۔
مال اللہ کی نعمت ہے، لیکن اسراف انسان کو ناشکری کی طرف لے جاتا ہے اور بخل اسے خودغرض بنا دیتا ہے۔
مومن اپنی ضروریات پوری کرتا ہے، اپنے اہلِ خانہ کا خیال رکھتا ہے، مستحقین کی مدد کرتا ہے اور آئندہ کے لیے مناسب منصوبہ بندی بھی کرتا ہے، مگر ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے۔
اعتدال ہی اسلام کی خوبصورتی ہے۔
کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں
اس کے بعد قرآن تین بڑے گناہوں کا ذکر کرتا ہے
اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔
کسی بے گناہ انسان کی جان لینا۔
زنا اور بے حیائی میں مبتلا ہونا۔
یہ وہ جرائم ہیں جو فرد، خاندان اور معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔
لیکن قرآن کی رحمت دیکھیے کہ ان گناہوں کے ذکر کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بھی کھول دیتے ہیں۔
جو شخص سچے دل سے توبہ کرے، ایمان لائے اور اپنی زندگی کی اصلاح کرے، اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرماتے ہیں بلکہ اس کی برائیوں کو بھی نیکیوں میں بدل دینے کا وعدہ فرماتے ہیں۔
یہ قرآن کے سب سے امید افزا پیغامات میں سے ایک ہے۔
اسلام انسان کو مایوسی نہیں سکھاتا۔
کوئی گناہ اتنا بڑا نہیں کہ اللہ کی رحمت اس سے بڑی نہ ہو، بشرطیکہ توبہ سچی ہو۔
سچائی، پاکیزگی اور اللہ کی آیات کے سامنے فروتنی
عبادُ الرحمٰن کی مزید صفات یہ ہیں کہ
وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔
لغو اور بے فائدہ مجلسوں سے وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بے پروائی سے منہ نہیں موڑتے، بلکہ غور سے سنتے، سمجھتے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن سننا آسان ہے، لیکن قرآن کو دل میں اتارنا اور اپنی زندگی بدلنا اصل کامیابی ہے۔
ان کی فکر صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتی
عبادُ الرحمٰن صرف اپنی اصلاح پر اکتفا نہیں کرتے۔
وہ دعا کرتے ہیں
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ
“اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔”
یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن صرف اپنی جنت کا خواہش مند نہیں ہوتا۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کا پورا گھرانہ ایمان، اخلاق اور تقویٰ کا نمونہ بن جائے۔
اس کے بعد وہ مزید دعا کرتے ہیں
وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
“اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا دے۔”
یہ قیادت کی خواہش دنیاوی شہرت کے لیے نہیں بلکہ نیکی میں سبقت حاصل کرنے اور دوسروں کے لیے نمونہ بننے کی دعا ہے۔
انعامِ الٰہی
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے جنت میں بلند و بالا مقامات تیار کیے گئے ہیں۔
وہاں فرشتے ان کا استقبال سلام اور عزت کے ساتھ کریں گے۔
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔
یہ ان کے صبر، استقامت، ایمان اور حسنِ کردار کا بہترین صلہ ہوگا۔
حاصلِ کلام
اگر سورۃ المؤمنون ہمیں بتاتی ہے کہ کامیاب مومن کی بنیادی صفات کیا ہیں، تو سورۃ الفرقان ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ وہ صفات روزمرہ زندگی میں کس طرح ظاہر ہوتی ہیں۔
عبادُ الرحمٰن عبادت گزار بھی ہیں، بااخلاق بھی؛ نرم مزاج بھی ہیں، حق پر ثابت قدم بھی؛ سخی بھی ہیں، محتاط بھی؛ عاجز بھی ہیں، باوقار بھی۔
یہی وہ متوازن شخصیت ہے جسے قرآن اپنے بندوں کے لیے پسند کرتا ہے۔
حصہ چہارم
قرآنِ مجید کے دیگر مقامات پر مومنوں کی صفات
سورۃ المؤمنون، سورۃ لقمان اور سورۃ الفرقان میں بیان کردہ صفات دراصل قرآن کے ایک جامع تصور کا حصہ ہیں۔ یہی اوصاف قرآنِ مجید کی متعدد دوسری سورتوں میں بھی مختلف انداز سے دہرائے گئے ہیں۔ کہیں چند صفات کا ذکر ہے، کہیں ایک جامع فہرست پیش کی گئی ہے، اور کہیں صرف ایک یا دو جملوں میں مومن کی پوری شخصیت کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔
یہ تکرار اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان صرف ایک دعویٰ یا زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا کردار ہے جو انسان کی پوری زندگی میں نمایاں ہونا چاہیے۔
آئیے ان اہم مقامات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
متقی کون ہیں؟
(سورۃ البقرہ: 2 تا 5)
قرآنِ مجید کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو متقی ہیں۔
پھر متقی لوگوں کی چند بنیادی صفات بیان فرمائی جاتی ہیں۔
وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں
مومن صرف اسی چیز پر یقین نہیں رکھتا جو آنکھوں سے نظر آ جائے، بلکہ وہ اللہ، فرشتوں، وحی، آخرت اور ان تمام حقائق پر ایمان رکھتا ہے جن کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔
یہ ایمان ہی اس کی پوری زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔
وہ نماز قائم کرتے ہیں
نماز ان کے لیے روزمرہ کا معمول نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط رکھنے کا ذریعہ ہے۔
نماز انہیں ہر روز کئی مرتبہ یہ یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے رب کے بندے ہیں اور ایک دن اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔
اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں
وہ جانتے ہیں کہ مال ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے۔
اسی لیے وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہیں۔
تمام آسمانی ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں
وہ صرف قرآن ہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی اصل وحی پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام تمام انبیاء کے پیغام کو ایک ہی سلسلۂ ہدایت سمجھتا ہے۔
آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں
یہ یقین ان کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
وہ وقتی فائدے کے بجائے ہمیشہ دائمی کامیابی کو ترجیح دیتے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور حقیقی کامیاب یہی ہیں۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی وہی لفظ استعمال ہوا ہے جو سورۃ المؤمنون میں آیا تھا فلاح۔
سچے مومن کی اندرونی کیفیت
(سورۃ الانفال: 2 تا 4)
سورۃ الانفال مومن کے ظاہری اعمال سے زیادہ اس کے دل کی کیفیت بیان کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سچے مومن وہ ہیں
جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں
یہ خوف سزا کا نہیں بلکہ محبت، عظمت اور جواب دہی کے احساس کا خوف ہے۔
جس دل میں اللہ کی معرفت بڑھتی ہے، اس میں عاجزی بھی بڑھتی جاتی ہے۔
قرآن سن کر جن کا ایمان بڑھ جاتا ہے
ہر مرتبہ قرآن پڑھنے یا سننے سے ان کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔
قرآن ان کے لیے صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی ہے۔
جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
وہ اسباب اختیار ضرور کرتے ہیں، لیکن اعتماد اسباب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔
کامیابی ملے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، اور مشکلات آئیں تو اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں
یہاں بھی عبادت اور انفاق کو ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
گویا اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“یہی لوگ حقیقت میں مومن ہیں۔“
یہ بہت بڑی سند ہے۔
ہر ایمان کا دعویٰ قبول نہیں ہوتا، بلکہ وہی ایمان معتبر ہے جس کے آثار دل اور عمل دونوں میں نمایاں ہوں۔
مومن مرد اور مومن عورتیں
(سورۃ الاحزاب: 35)
قرآنِ مجید کی جامع ترین آیات میں سے ایک یہ آیت ہے۔
اللہ تعالیٰ دس صفات بیان فرماتے ہیں اور ہر صفت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے الگ الگ ذکر فرماتے ہیں تاکہ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ روحانی فضیلت صرف مردوں کا حق ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں
مومن مرد اور مومن عورتیں
اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں
سچے مرد اور سچی عورتیں
صبر کرنے والے مرد اور عورتیں
عاجزی اختیار کرنے والے مرد اور عورتیں
صدقہ کرنے والے مرد اور عورتیں
روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں
اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں
اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں
ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو عظیم انعامات کا وعدہ فرمایا ہے
مغفرت اور اجرِ عظیم۔
یہ آیت اسلام کے اس اصول کو نمایاں کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت، تقویٰ اور اجر کا معیار مرد یا عورت ہونا نہیں بلکہ ایمان اور عمل ہے۔
ایمان صرف دعویٰ نہیں
(سورۃ الحجرات: 15)
یہ آیت ایمان کی ایک نہایت جامع تعریف پیش کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سچے مومن وہ ہیں
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے،
پھر کبھی شک میں مبتلا نہ ہوئے،
اور اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے رہے۔
یہاں ایک نہایت اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔
ایمان کا ثبوت صرف زبان سے نہیں ملتا۔
حقیقی ایمان انسان کی قربانی، استقامت اور مسلسل جدوجہد سے ظاہر ہوتا ہے۔
جو ایمان انسان کی زندگی نہ بدلے، وہ ابھی اپنی مطلوبہ پختگی تک نہیں پہنچا۔
توبہ کرنے والے اور اللہ کے سچے بندے
(سورۃ التوبہ: 112)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کی ایک اور خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو
توبہ کرتے ہیں۔
عبادت کرتے ہیں۔
اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔
اس کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔
رکوع اور سجدہ کرتے ہیں۔
نیکی کا حکم دیتے ہیں۔
برائی سے روکتے ہیں۔
اللہ کی مقرر کردہ حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتے ہیں
“ایسے مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔“
گویا اللہ تعالیٰ خود ان بندوں کے لیے بشارت کا اعلان فرما رہے ہیں۔
ان تمام آیات کا مشترک پیغام
اگر ہم ان تمام مقامات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک نہایت واضح تصویر سامنے آتی ہے۔
قرآن ہر جگہ تقریباً انہی صفات کو مختلف انداز میں دہراتا ہے۔
یہ صفات ہیں
خالص ایمان اور توحید
نماز کی پابندی
اللہ پر کامل بھروسہ
سخاوت اور انفاق
سچائی اور امانت داری
پاکدامنی
عاجزی اور حسنِ اخلاق
صبر اور استقامت
اللہ کا کثرت سے ذکر
برائی سے اجتناب اور نیکی کی دعوت
آخرت پر غیر متزلزل یقین
یہی وہ صفات ہیں جو ایک عام مسلمان کو قرآن کا مطلوب مومن بناتی ہیں۔
غور و فکر
ان تمام مقامات میں ایک بات نہایت نمایاں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی کامیابی کو دولت، اقتدار، نسب، قومیت، رنگ، زبان یا معاشرتی مرتبے سے وابستہ نہیں کیا۔
کامیابی کا معیار ہمیشہ کردار رکھا گیا ہے۔
قرآن ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہر انسان، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، معروف ہو یا گمنام، اگر وہ اپنے ایمان، اخلاق اور اعمال کو سنوار لے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کامیاب ہو سکتا ہے۔
یہی قرآن کا عدل بھی ہے اور اس کی عالمگیر دعوت بھی۔
حصہ پنجم
تمام اوصاف کو یکجا کرکے دیکھیں
اب تک ہم نے قرآنِ مجید کے مختلف مقامات پر بیان ہونے والی مومن کی صفات کا مطالعہ کیا۔ بظاہر یہ صفات مختلف سورتوں میں بکھری ہوئی معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب انہیں ایک ساتھ رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ قرآن کسی ایسے انسان کی تصویر نہیں بناتا جو صرف عبادت گزار ہو، یا صرف خوش اخلاق ہو، یا صرف سخی ہو۔ بلکہ وہ ایک ایسی متوازن، جامع اور باکردار شخصیت تشکیل دیتا ہے جس کی زندگی کا ہر پہلو اللہ کی رضا کے تابع ہو۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف سورتوں میں ایک ہی صفات بار بار مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ اس تکرار کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان یہ سمجھ لے کہ دین چند عبادات یا چند اخلاقی اصولوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔
ایمان سے کردار تک
قرآن کی تعلیمات کا آغاز ہمیشہ عقیدے سے ہوتا ہے۔
سب سے پہلے انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اس کی وحدانیت پر ایمان لاتا ہے، آخرت پر یقین رکھتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔
جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
اس کی نماز بدل جاتی ہے۔
اس کی گفتگو بدل جاتی ہے۔
اس کے مالی معاملات بدل جاتے ہیں۔
اس کے گھر کا ماحول بدل جاتا ہے۔
لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔
گویا ایمان ایک بیج ہے، اور کردار اس کا پھل۔
عبادت اور اخلاق لازم و ملزوم ہیں
قرآن کا ایک نمایاں پیغام یہ بھی ہے کہ عبادت اور اخلاق کو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص نماز کا پابند ہو مگر لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہو۔
یا بہت زیادہ عبادت کرے لیکن جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، تکبر کرے یا لوگوں کو تکلیف پہنچائے۔
اسی طرح صرف اچھا اخلاق بھی کافی نہیں اگر انسان اپنے رب کے حقوق ادا نہ کرے۔
قرآن کے نزدیک کامیاب مومن وہ ہے جو
اپنے رب کے ساتھ بھی وفادار ہو،
اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی انصاف اور حسنِ سلوک کرے۔
یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر مقام پر نماز کے ساتھ انفاق، عبادت کے ساتھ اخلاق، ایمان کے ساتھ عمل، اور اللہ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
مومن کی اصل پہچان
اگر ان تمام آیات کا خلاصہ ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے
مومن وہ ہے جس کے ایمان کا اثر اس کے پورے کردار پر نمایاں ہو۔
اس کی زبان سچی ہوتی ہے۔
اس کا دل نرم ہوتا ہے۔
اس کی نگاہ پاک ہوتی ہے۔
اس کے ہاتھ امانت دار ہوتے ہیں۔
اس کا مال پاکیزہ طریقے سے کمایا اور خرچ کیا جاتا ہے۔
اس کا گھر محبت، رحمت اور تربیت کا مرکز ہوتا ہے۔
وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔
دشمنی میں بھی حدودِ اخلاق نہیں توڑتا۔
اور کامیابی کے باوجود عاجز رہتا ہے۔
دنیا کی کامیابی اور قرآن کی کامیابی
آج کی دنیا کامیابی کا ایک مختلف معیار پیش کرتی ہے۔
زیادہ دولت۔
زیادہ طاقت۔
زیادہ شہرت۔
زیادہ اثر و رسوخ۔
لیکن قرآن ان میں سے کسی چیز کو کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیتا۔
کتنے ہی لوگ دنیا میں بڑے کامیاب سمجھے جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
اور کتنے ہی ایسے بندے ہوتے ہیں جنہیں دنیا شاید جانتی بھی نہیں، مگر آسمانوں میں ان کا ذکر عزت کے ساتھ ہوتا ہے۔
قرآن کے نزدیک کامیابی اس بات میں نہیں کہ تمہارے پاس کیا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ تم کیسے انسان ہو۔
خود احتسابی کا آئینہ
اس مطالعے کو صرف معلومات کے طور پر پڑھ کر چھوڑ دینا اس کا مقصد نہیں۔
یہ دراصل ایک آئینہ ہے۔
ہر مومن کو وقتاً فوقتاً اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔
خود سے سوال کرنا چاہیے
کیا میری نماز میں خشوع پیدا ہو رہا ہے؟
کیا میری زبان لغویات سے محفوظ ہے؟
کیا میں امانت دار ہوں؟
کیا میں وعدہ پورا کرتا ہوں؟
کیا میں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہوں؟
کیا میرے دل میں تکبر تو نہیں؟
کیا میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں؟
کیا میرا مال پاک ہے؟
کیا میرے اہلِ خانہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں؟
کیا میرے اندر اللہ کی رضا کے لیے اپنی اصلاح کی تڑپ موجود ہے؟
جس دن انسان یہ سوالات اپنے آپ سے پوچھنا شروع کر دے، اسی دن اس کی اصلاح کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
قرآن کا اصل پیغام
قرآن انسان سے فرشتہ بننے کا مطالبہ نہیں کرتا۔
وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ مومن کبھی غلطی نہیں کرے گا۔
بلکہ وہ ایک ایسی شخصیت بنانا چاہتا ہے جو غلطی ہونے پر فوراً توبہ کرے، اپنی اصلاح کرے اور دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کر لے۔
اسی لیے قرآن جہاں بہترین اوصاف بیان کرتا ہے، وہیں توبہ، استغفار، صبر اور اللہ کی رحمت کی امید کا دروازہ بھی ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔
کامیاب مومن وہ نہیں جو کبھی نہ گرے، بلکہ وہ ہے جو ہر بار گرنے کے بعد اللہ کا ہاتھ تھام کر دوبارہ کھڑا ہو جائے۔
اختتامیہ
قرآنِ مجید میں بیان کردہ مومن کی صفات کو اگر ایک خوبصورت عمارت سے تشبیہ دی جائے تو اس کی بنیاد توحید ہے، ستون نماز ہیں، دیواریں اخلاقِ حسنہ ہیں، چھت تقویٰ ہے، دروازہ توبہ ہے اور اس کی روشنی اللہ کی یاد ہے۔
ایسی شخصیت نہ صرف اپنی ذات کے لیے باعثِ رحمت بنتی ہے بلکہ اپنے گھر، اپنے معاشرے اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں اس نے فرمایا
“یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے۔“
آمین یا رب العالمین۔
منتخب مراجع
اس مطالعے کی تیاری میں درج ذیل مستند مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے
قرآنِ مجید
تفسیر ابن کثیر — امام اسماعیل بن کثیرؒ
جامع البیان (تفسیر طبری) — امام محمد بن جریر طبریؒ
الجامع لأحکام القرآن (تفسیر قرطبی) — امام ابو عبداللہ قرطبیؒ
تفہیم القرآن — سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
معارف القرآن — مفتی محمد شفیعؒ
فی ظلال القرآن — سید قطبؒ

