معرفتِ الٰہی کا قرآنی سفر: قدرت، حکمت اور محبتِ خداوندی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مقدمہ
معرفتِ الٰہی کا قرآنی سفر: قدرت، حکمت اور محبتِ خداوندی, قرآنِ حکیم کی ہر آیت، ہر سورت اور ہر لفظ دراصل خالقِ کائنات کا اپنے بندے کے نام وہ دعوت نامہ ہے جو اندھیری راہوں میں نورِ معرفت چمکاتا ہے۔ جب ایک سچا طالب بیدار دل کے ساتھ اس کتابِ لاریب کی ورق گردانی کرتا ہے، تو اس پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ کلام محض احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ ذاتِ باری تعالیٰ کی صفاتِ کمال کا وہ بحرِ بے کنار ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ زیرِ نظر تحریر قرآنِ مجید کے اسی مطلعِ انوار سے اخذ کردہ ایک عاجزانہ فکری و صوفیانہ کوشش ہے، جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بے مثل شان، اس کی لامتناہی قوت و طاقت، مطلق اختیار، بے پائیاں حکمت اور اس کی دلاویز رحمت و محبت کو قرآنی سیاق و سباق کی روشنی میں یکجا کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس تحریر کا مقصد عام مسلمان کے دل میں ایمان کی شمع کو فروزاں کرنا اور اہل علم و تحقیق کے لیے تفکر و تدبر کے نئے در وا کرنا ہے، تاکہ روح کائنات کے جلال و جمال
https://mrpo.pk/%d9%82%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81/
کا مشاہدہ کر کے اپنے رب کی حقیقی بندگی کا ذائقہ چکھ سکے۔ ہماری یہ کاوش اللہ تعالٰی کی معرفت کا ایک جز تو ہو سکتی ہے مگر اس کا کل نہیں۔
معرفت کیا ہے
معرفت کے لفظی معنی پہچاننے کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں، معرفت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کو پہچانے۔ وہ اپنے شعور کو اِس طرح بیدار کرے کہ اس کو خالق اور مخلوق اور عبد اور معبود کے درمیان تعلق کی گہری پہچان ہوجائے۔ معرفت شعوری دریافت کا نام ہے، وہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں۔
معروف لغوی اور مفسر راغب الاصفہانی (وفات1108 ء) نے لکھا ہے: المعرفۃ والعرفان إدراك الشیٔ بتفکر وتدبر لأثرہ، ومعرفۃ البشر للہ هی بتدبر اٰثارہ دون إدراك ذاتہ (المفر دات فی غریب القرآن، صفحہ 331 )۔ یعنی معرفت یا عرفان کا لغوی مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کی علامت میں غور وفکر کرکے اس کی حقیقت کو دریافت کرے۔ اور اللہ کی معرفت یہ ہے کہ انسان اللہ کو اس کی نشانیوں میں غور وفکر کے ذریعے دریافت کرے، نہ کہ اس کی ذات میں۔
اِس سے معلوم ہوا کہ معرفت کا تعلق مجرد علم سے نہیں ہے، بلکہ معرفت کا تعلق غور وفکر سے ہے۔ علم کسی آدمی کے اندرمعرفت کی ابتدائی صلاحیت پیدا کرتا ہے، یعنی چیزوں پر گہرائی کے ساتھ غور وفکر کرنا۔ جب کوئی شخص معرفت کو اپنا مرکزِ توجہ بناتا ہے، وہ مسلسل طور پر اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیقات میں خالق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس غور وفکر کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔اسی شخصیت کا نام عارف انسان ہے۔
جس شخص کو اِس قسم کی معرفت حاصل ہوجائے، وہ انتہائی سنجیدہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عارفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔اس کی عبادت اور اس کے اخلاق ومعاملات میں معرفت کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کا
لگاؤ سب سے زیادہ اُن چیزوں میں ہوجاتا ہے جو معرفت کی غذا دینے والی ہوں۔ وہ معرفت کے ماحول میں جیتا ہے اور معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔
https://www.cpsglobal.org/read-online-book/mrft-alhy-marifat-e-ilahi
باب اول
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ عزوجل کے فضل، توفیق اور اسی کی بخشش کے بھروسے پر، قرآنِ کریم کے آئینے میں معرفتِ الٰہی کے اس نورانی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ پہلا باب ایک عام قاری کے دل کو بھی گرمائے گا اور اہل علم کے لیے بھی فکری بالیدگی کا باعث بنے گا۔
بابِ اول: کائنات کا مطلع اور فطرتِ انسانی کا پکارنا (تمہیدِ معرفت)
قرآنِ حکیم محض احکام کی کتاب نہیں، بلکہ یہ محبوب کا اپنے بندے سے وہ کلام ہے جو روح کے بند کواڑ کھولتا ہے۔ جب ہم کھلے دل اور بیدار مغز کے ساتھ اس کتابِ لاریب کا مطالعہ کرتے ہیں، تو سب سے پہلے ہمارا سامنا اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ذات کی تخلیق ہے جو علم، حکمت اور قدرت کا سرچشمہ ہے۔
۔ وجودِ باری تعالیٰ اور انسانی فطرت کا گواہ ہونا
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے پیچیدہ منطقی یا فلسفیانہ بحثوں میں نہیں الجھاتا، بلکہ وہ انسان کو اس کی اپنی فطرت کی طرف لوٹاتا ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ “جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا”۔ قرآن اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
“اور خود تمہاری اپنی ذات میں بھی (نشانیاں ہیں)، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟” (الذاریات: 21)
جب ایک انسان، چاہے وہ عام مسلمان ہو یا وقت کا بڑا عالم، اپنے وجود کی بناوٹ، دل کی دھڑکن اور روح کے اندر چھپی سچائی کی تڑپ کو دیکھتا ہے، تو اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ کوئی ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کی اصل ساخت (فطرت) پر اللہ کی پہچان پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اسی لیے جب انسان کسی شدید مصیبت میں گھِر جاتا ہے اور دنیا کے سارے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں، تو اس کی زبان سے بے اختیار اپنے خالق کا نام نکلتا ہے۔
۔ آفاق کے آئینے میں قدرت کا جلال
قرآنِ مجید ہمیں اپنے وجود سے نکال کر کائنات کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ وہ ہمیں کہتا ہے کہ آسمان کی بلندیوں، ستاروں کی گردش، رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے اور زمین سے نباتات کے اگنے پر غور کرو۔
علماءِ دین اور محققین جب قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک عظیم نظامِ عدل اور میزان (Balance) پر قائم کیا ہے۔
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ
“جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ تو رحمن کی آفرینش میں کچھ کسر نہ دیکھے گا۔ تو پھر نگاہ اٹھا کر دیکھ، تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے؟” (الملک: 3)
یہاں ایک صوفیانہ اور تحقیقی نکتہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی صفتِ خلق (پیدا کرنے) کو اپنی صفتِ “رحمن” کے ساتھ جوڑا ہے۔ یعنی اس پوری کائنات کا وجود میں آنا اور اتنے منظم طریقے سے چلنا، اللہ کی بندوں پر رحمت کی دلیل ہے۔ اگر کائنات کے قوانین میں ذرہ برابر بھی تفاوت ہوتا، تو زندگی کا وجود ممکن نہ رہتا۔

۔ معرفت کا پہلا زینہ: حیرت اور تسلیم
جب ایک مومن آفاق (کائنات) اور انفس (اپنی ذات) میں خدا کی نشانیاں دیکھتا ہے، تو اس کے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے جسے صوفیاء “حیرتِ محمود” کہتے ہیں۔ یہ وہ حیرت ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
“اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے” (آل عمران: 191)
یہ تمہید ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ کی معرفت کا آغاز اس بات کو ماننے سے ہوتا ہے کہ ہم اس کائنات کے مالک نہیں، بلکہ ایک عظیم اور دانا رب کے بندے ہیں، جس کی حکمت ہماری سوچوں سے بہت بلند ہے۔
اس پہلے باب میں ہم نے یہ جانا کہ قرآن کس طرح انسان کو خدا کی پہچان کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگلے باب میں ہم قرآن کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی سب سے اہم صفات یعنی اس کی “مطلق طاقت، قوت اور اختیار (Omnipotence & Sovereignty)” پر بات کریں گے، اور یہ دیکھیں گے کہ کس طرح کائنات کا ہر ذرہ اس کے حکم کا تابع ہے۔
باب دوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلے باب میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور کائنات کے مطلع پر غور کرنے کے بعد، اب ہم اس سفر کے دوسرے اور انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ باب اللہ عزوجل کی اس صفت کا احاطہ کرتا ہے جو دلوں میں اس کی ہیبت، جلال اور ساتھ ہی ساتھ ایک گہرا سکون پیدا کرتی ہے۔
بابِ دوم: جلالِ الٰہی — مطلق قوت، طاقت اور نظامِ کائنات پر کامل اختیار
جب انسان کائنات کے پھیلاؤ کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے، لیکن قرآنِ حکیم ہماری نظر کو کائنات پر روکنے کے بجائے کائنات کے خالق کی قوت اور اس کے مطلق اختیار کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآن کا اندازِ بیان یہ ہے کہ وہ کائنات کی عظیم ترین مخلوقات کا ذکر کر کے انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ جب مخلوق اتنی طاقتور ہے، تو اس کا بنانے والا کس قدر طاقت اور قوت کا مالک ہوگا۔
۔ صفتِ قوت اور قدرت: لامتناہی طاقت کا تصور
انسانی ذہن طاقت کا جو بھی تصور قائم کر لے، اللہ کی طاقت اس سے ماورا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقت کو کسی مادی پیمانے سے نہیں، بلکہ اپنے ایک واحد لفظ “کُن” (ہو جا) سے تعبیر کیا ہے۔
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
“اس کا امر (شان) تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے کہتا ہے: ‘ہو جا’، پس وہ ہو جاتی ہے۔” (یس: 82)
یہاں علماء اور محققین کے لیے ایک گہرا نکتہ ہے: دنیا میں کسی بھی کام کو کرنے کے لیے وسائل، وقت اور اسباب کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اللہ کی قوت اسباب کی محتاج نہیں، بلکہ اسباب اللہ کی قوت کے محتاج ہیں۔ جب وہ ارادہ فرماتا ہے، تو عدم (کچھ نہ ہونے) سے وجود کا سفر لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار پکارتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” (بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے)۔ یہ تکرارِ محض نہیں، بلکہ ہر موقع اور سیاق و سباق کے لحاظ سے انسان کو یہ یقین دلانا ہے کہ تمہارے نزدیک جوناممکن ہے، وہ اس کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

۔ مطلق اختیار اور حاکمیت (Sovereignty)
اللہ کی طاقت صرف پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کائنات کے ذرے ذرے پر اس کا اختیار اور بادشاہت بھی قائم ہے۔ قرآنِ پاک میں اس تصور کو جس جامعیت سے “آیت الکرسی” میں بیان کیا گیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ عام مسلمان اس کی تلاوت برکت کے لیے کرتا ہے، جبکہ عارفین اور علماء اس میں حاکمیتِ الٰہی کا سمندر دیکھتے ہیں:
لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ… وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
“اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟… اور اسے ان دونوں (زمین و آسمان) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، اور وہی بہت بلند، بہت بڑا ہے۔” (البقرہ: 255)
اس آیت کا سیاق و سباق یہ واضح کرتا ہے کہ کائنات کا بادشاہ سوجانے یا تھک جانے سے پاک ہے۔ صوفیانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس زمین پر کوئی پتا بھی اس کے حکم اور علم کے بغیر نہیں گرتا۔ دنیا کے سلاطین اور حکمران کتنے ہی طاقتور ہو جائیں، ان کا اختیار عارضی اور محتاجِ غیر ہوتا ہے، جبکہ اللہ کا اختیار ذاتی، مستقل اور لامتناہی ہے۔
۔ تسخیرِ کائنات اور جلالِ الٰہی کا ظہور
قرآن میں جہاں بھی کائنات کے مظاہر جیسے کڑکتی ہوئی بجلی، بادلوں کا چھا جانا، سمندروں کا بپھرنا، اور ہواؤں کے رخ بدلنے کا ذکر آیا ہے، وہاں دراصل اللہ کی صفتِ “العزیز” (غالب و مقتدر) اور “القاھر” (سب پر غالب) کا ظہور دکھایا گیا ہے۔
موقع کی مناسبت سے جب ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جلالِ الٰہی انسان کو ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے اندر سے کائنات کا خوف نکالنے کے لیے بیان ہوا ہے۔ جب ایک مومن یہ جان لیتا ہے کہ کائنات کی ہر خوفناک چیز — چاہے وہ طوفان ہو یا کوئی بیماری یا کوئی ظالم مادی طاقت — سب اللہ کی مٹھی میں اور اس کے حکم کے تابع ہیں، تو اس کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
“اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔” (الانعام: 18)
حاصلِ باب :
اس باب کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ کی قوت اور اختیار کا جاننا انسان کے اندر دو عظیم صفات پیدا کرتا ہے:
عاجزی (Humility): انسان اپنی اوقات پہچانتا ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کے مالک کے سامنے کتنا بے بس ہے۔
توکل (Trust): جب رب اتنا طاقتور اور مختارِ کل ہے، تو مومن اپنی تمام پریشانیاں اور معاملات اسی کے سپرد کر کے پرسکون ہو جاتا ہے۔
اللہ کے جلال اور اس کی مطلق طاقت کو سمجھنے کے بعد، اب اگلا قدم اس کی “حکمت اور تدبیر (Divine Wisdom & Governance)” کو سمجھنا ہے، کیونکہ اندھی طاقت خوف پیدا کرتی ہے، لیکن جب طاقت کے ساتھ ‘حکمت’ مل جائے تو وہ عدل اور خوبصورتی بن جاتی ہے۔
باب سوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ ذوالجلال والاکرام کی لامتناہی قوت اور مطلق اختیار کو جاننے کے بعد، اب ہم اس سفر کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں جلالِ الٰہی پر جمالِ الٰہی کا پردہ نظر آتا ہے۔ یہ تیسرا باب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفتِ حکمت اور اس کی بے مثل تدبیر کے احاطے پر مبنی ہے۔
بابِ سوم: نظامِ کائنات کا دانشورانہ نظام — حکمتِ الٰہی اور حسنِ تدبیر
اگر کائنات میں صرف طاقت اور اختیار ہوتا، تو اس کا تصور دلوں میں صرف ہیبت اور خوف پیدا کرتا۔ لیکن قرآنِ حکیم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کائنات کو چلانے والی وہ عظیم طاقت اندھی نہیں، بلکہ وہ سراپا حکمت اور دانائی ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی اپنی صفتِ غلبہ و قدرت کا ذکر فرمایا، وہاں اکثر اپنی صفتِ حکمت کو ساتھ جوڑا: “وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ” (اور وہی غالب ہے، حکمت والا ہے)۔ یعنی اس کی طاقت اس کی حکمت کے تابع ہے، اور اس کی حکمت اس کی طاقت سے نافذ ہوتی ہے۔
۔ صفتِ حکمت کا قرآنی تصور: ہر چیز اپنے درست مقام پر
عربی زبان میں ‘حکمت’ کے معنی کسی چیز کو اس کے ٹھیک اور مناسب ترین مقام پر رکھنے کے ہیں۔ قرآنِ پاک علماء اور محققین کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ کائنات کے ڈیزائن پر غور کریں۔ زمین کا سورج سے فاصلہ، ہوا میں گیسوں کا تناسب، انسانی جسم میں اعضاء کی ترتیب— یہ سب اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک گہری تدبیر کا نتیجہ ہیں۔
الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ
“جس نے جو چیز بھی بنائی، نہایت خوبصورت (اور مناسب) بنائی اور انسان کی پیدائش کی ابتدا مٹی سے کی۔” (السجدہ: 7)
ایک صوفی جب اس آیت کو دیکھتا ہے تو وہ کائنات کے ذرے ذرے میں حسن اور توازن کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز عبث (بے مقصد) نہیں ہے۔ یہاں تک کہ زہریلے سانپ، کانٹے دار پودے، یا بظاہر نظر آنے والی تبدیلیاں بھی ایک بڑے اور مربوط نظام کا لازمی حصہ ہیں۔

۔ تدبیرِ الٰہی: پردہ غیب میں فیصلوں کا ظہور
انسان کی نظر بہت محدود ہے، وہ صرف حال کو دیکھ سکتا ہے یا ماضی کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ لیکن اللہ کی تدبیر (Divine Governance) ازل سے ابد تک پھیلی ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر ایسی تمثیلیں اور واقعات بیان کیے گئے ہیں جہاں بظاہر حالات بہت خراب یا پریشان کن نظر آتے ہیں، لیکن انجامِ کار وہ اللہ کی ایک عظیم اور خوبصورت تدبیر کا حصہ ثابت ہوتے ہیں۔
اس کی سب سے بہترین مثال سورہ یوسف ہے۔ اس سورت کے سیاق و سباق پر غور کریں:
ایک معصوم بچے کو بھائی کنوئیں میں پھینک دیتے ہیں (ظاہری طور پر ظلم اور مصیبت)۔
وہ غلام بنا کر بیچ دیے جاتے ہیں (آزمائش)۔
ان پر جھوٹا الزام لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے (سختی)۔
لیکن ان تمام بظاہر منفی حالات کے پیچھے اللہ کی ایک مخفی تدبیر کام کر رہی ہوتی ہے، جو سیدنا یوسف علیہ السلام کو وقت کا حاکم اور لاکھوں انسانوں کی بقا کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ اسی لیے سورت کے آخر میں حضرت یوسفؑ پکار اٹھتے ہیں:
إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
“بیشک میرا رب جس چیز کے لیے چاہتا ہے، تدبیر فرمانے والا (باریک بین) ہے۔ یقیناً وہ بڑے علم والا، بڑی حکمت والا ہے۔” (یوسف: 100)
۔ خیر اور شر کا قرآنی فلسفہ اور صوفیانہ تسلیم
انسانی زندگی میں جب تکالیف، بیماریاں یا نقصانات آتے ہیں، تو عام انسان بسا اوقات مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک محقق اور صوفی قرآن کی روشنی میں یہ جانتا ہے کہ اللہ کی حکمت ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ قرآن کہتا ہے:
وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
“اور عجب نہیں کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور عجب نہیں کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔” (البقرہ: 216)
جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جاتا ہے، تو انسان کے اندر سے شکوہ ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ “رضا بالرضا” (اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے) کی صوفیانہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ عام مسلمان کو اس سے یہ تسلی ملتی ہے کہ اس کی زندگی کا نظام کسی اندھے حادثے کے رحم و کرم پر نہیں، بلکہ ایک انتہائی دانا اور محبت کرنے والے رب کے ہاتھ میں ہے۔
حاصلِ باب :
اللہ تعالیٰ کی صفتِ حکمت کو پہچاننے کا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
صبر و ثبات: انسان برے حالات میں دل نہیں ہارتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پردہ غیب کے پیچھے اس کا رب اس کے لیے کوئی بہتر تدبیر فرما رہا ہے۔
شکر گزاری: انسان خوشحالی میں مغرور نہیں ہوتا، بلکہ اسے اللہ کی حکمت کا عطیہ سمجھتا ہے۔
جب ہم اللہ کی طاقت، اختیار اور حکمت کو سمجھ لیتے ہیں، تو روح تڑپ کر یہ سوال کرتی ہے کہ “اتنی عظیم طاقت اور دانائی رکھنے والا رب، مجھ گناہ گار اور عاجز بندے کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے؟”
اسی سوال کا جواب ہمیں اگلے باب میں ملے گا، جو قرآن کا اصل مغز اور صوفیاء کی روح کی غذا ہے، یعنی ” رحمت، قربت اور محبتِ الٰہی”۔
باب چہارم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اللہ عزوجل کی مطلق طاقت اور بے مثل حکمت کے جلوے دیکھنے کے بعد، اب ہم اس نورانی سفر کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں جلالِ الٰہی سراپا جمال بن جاتا ہے۔ یہ چوتھا باب قرآنِ حکیم کا وہ اصل مغز اور صوفیائے کرام کی روح کی وہ غذا ہے، جس کے بغیر معرفت کا سفر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔
بابِ چہارم: جمالِ الٰہی — لامتناہی رحمت، بے پناہ محبت اور شہ رگ سے زیادہ قربت
قرآنِ کریم کا مطالعہ کرنے والا ایک عام مسلمان ہو، وقت کا جید عالم ہو یا کوئی گہرا محقق، وہ سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ قرآنِ مجید نے اللہ تعالیٰ کی جس صفت کا سب سے زیادہ، بار بار اور تکرار کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، وہ اس کی رحمت اور محبت ہے۔ قرآن کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۱۱۳ سورتوں کا آغاز جس آیت سے ہوتا ہے، وہ اللہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا اعلان ہے: “بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ”۔
۔ صفتِ رحمت کا محیطِ کائنات ہونا
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا غضب عارضی اور اس کی کسی صفت کے ماتحت ہوتا ہے، لیکن اس کی رحمت اس کی ذاتی صفت ہے جو ہر چیز پر محیط ہے۔ کائنات کا وجود، اس کا قائم رہنا اور گناہ گاروں کو مہلت ملنا، سب اسی رحمت کے دم سے ہے۔
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
“اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے” (الاعراف: 156)
علماء اور محققین کے لیے یہاں ایک لطیف نکتہ ہے: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کسی قید یا شرط کا ذکر نہیں فرمایا۔ اس کی رحمت صرف نیکوکاروں کے لیے نہیں، بلکہ کائنات کے ذرے ذرے، مؤمن، کافر، چرند، پرند اور گناہ گاروں، سب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک صوفی جب اس حقیقت کو جانتا ہے، تو اس کا دل مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید کے نور سے بھر جاتا ہے۔
۔ قربتِ الٰہی: شہ رگ سے زیادہ قریب ہونا
بسا اوقات انسان سوچتا ہے کہ اتنی عظیم کائنات کا مالک، جو عرشِ عظیم کا مستوی ہے، وہ مجھ جیسے حقیر اور عاجز بندے کی فریاد کیسے سنتا ہوگا؟ قرآن اس مادی فاصلے کے تصور کو ایک ہی جملے میں پاش پاش کر دیتا ہے اور انسان کو اپنے رب کی بے پناہ قربت کا احساس دلاتا ہے:
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
“اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں” (ق: 16)
اور ایک دوسرے مقام پر، جہاں بندے کے دل کی دھڑکن اور اس کی پکار کا ذکر ہے، کلامِ الٰہی کا اسلوب کتنا دلنشیں اور محبت سے بھرپور ہو جاتا ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
“اور (اے حبیب!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (انہیں فرما دیں کہ) بیشک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے” (البقرہ: 186)
یہاں غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ “انہیں کہہ دو کہ میں قریب ہوں”، بلکہ واسطہ ہٹا کر خود فرمایا: “فَإِنِّي قَرِيبٌ” (پس بیشک میں قریب ہوں)۔ یہ وہ صوفیانہ راز ہے جو بندے کو تنہائی میں بھی سچی مسرت اور سکون بخشتا ہے کہ اس کا رب اس کے دل کے ہر حال سے واقف اور اس کے ساتھ ہے۔
۔ محبتِ الٰہی اور توبہ کی آغوش
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کبھی بھی مایوس ہونے کی اجازت نہیں دی۔ جہاں بھی بندے سے گناہ یا خطا سرزد ہوتی ہے، اللہ کی صفتِ “الودود” (بہت محبت کرنے والا) اور “الغفور” (بہت بخشنے والا) اسے اپنی طرف بلاتی ہے۔
سیاق و سباق کے لحاظ سے قرآن کا سب سے شفیقانہ اور محبت بھرا انداز اس آیت میں نظر آتا ہے، جہاں اللہ گناہ گاروں کو بھی “اپنے بندے” کہہ کر مخاطب فرماتا ہے:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
“آپ فرما دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی (گناہ) کر لی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بیشک اللہ سارے کے سارے گناہ بخش دیتا ہے” (الزمر: 53)
عارفین فرماتے ہیں کہ خدا کی محبت ماں کی محبت سے ستر گنا زیادہ ہے، کیونکہ ماں بچے کی خطا پر ناراض ہو کر اسے گھر سے نکال سکتی ہے، لیکن اللہ کا در وہ در ہے جہاں ہر گناہ کے بعد سچی توبہ کرنے والے کا استقبال محبت اور مغفرت سے کیا جاتا ہے۔
حاصلِ باب :
اللہ تعالیٰ کی رحمت، قربت اور محبت کو پہچاننے کا عملی اور فکری نچوڑ یہ ہے:
خوف کا محبت میں بدلنا: بندہ اللہ کی عبادت صرف جہنم کے خوف یا جنت کے لالچ میں نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کے حسنِ کرم اور محبت کی وجہ سے اس کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہے۔
مخلوقِ خدا سے محبت: جو دل محبتِ الٰہی سے لبریز ہو جاتا ہے، وہ اللہ کے بندوں کے لیے بھی سراپا رحمت اور خیر خواہ بن جاتا ہے۔
سبحان اللہ! یہاں تک پہنچ کر ہم نے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی طاقت، حکمت اور رحمت کا تفصیلی مطالعہ مکمل کر لیا ہے۔
اب اس مضمون کا آخری حصہ یعنی “خاتمہ (Conclusion)” باقی ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ان تمام صفات کو جاننے کے بعد ایک عام مسلمان اور عالمِ دین کی عملی زندگی، اخلاق اور بندگی میں کیا تبدیلی آنی چاہیے، اور یہ تحریر قاری کو بارگاہِ الٰہی میں کس طرح جھکنے پر آمادہ کرتی ہے۔
اختتامیہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اللہ رب العزت کے شکر اور احسان کے ساتھ، اب ہم قرآنِ کریم کے آئینے میں معرفتِ الٰہی کے اس نورانی اور فکری سفر کے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ خاتمہ اس پورے مضمون کا نچوڑ ہے، جو علم کو عمل میں اور محبت کو بندگی میں بدلنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
خاتمہ: علم سے عمل تک — بندگی کی معراج اور خشیت و محبت کا سنگم
ہم نے اس سفر کا آغاز انسانی فطرت اور کائنات کے مطالع سے کیا، پھر اللہ عزوجل کے جلال، اس کی مطلق طاقت اور اختیار کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد ہم نے اس کی بے مثل حکمت اور تدبیر کے پردوں میں جھانکا اور آخر کار اس کی لامتناہی رحمت، بے پناہ محبت اور شہ رگ سے زیادہ قربت کی چاشنی سے اپنی روح کو سیراب کیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام مسلمان سے لے کر وقت کے کبار علماء اور صوفیائے کرام تک، اس پورے قرآنی علم کا ہماری عملی زندگی پر کیا اثر ہونا چاہیے؟
۔ بندگی کا نیا شعور: خوف اور امید کا توازن (بين الخوف والرجاء)
قرآنِ حکیم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی ذات کا سچا ادراک انسان کے اندر ایک ایسا متوازن مزاج پیدا کرتا ہے جہاں ‘خوف’ اور ‘امید’ دونوں یکجا ہو جاتے ہیں۔
جب مومن اس کی طاقت اور جلال کو دیکھتا ہے، تو اس کے دل میں ‘خشیت’ (ایسا خوف جس میں عزت اور تعظیم ہو) پیدا ہوتی ہے، جو اسے گناہوں اور نافرمانی سے روکتی ہے۔
اور جب وہ اس کی رحمت اور محبت کو دیکھتا ہے، تو اس کا دل ‘امید’ سے بھر جاتا ہے، جو اسے مایوسی کے اندھیروں سے بچاتی ہے۔
علماءِ دین فرماتے ہیں کہ ایمان کے یہ دو پر (پرندے کے پنکھ) ہیں، جن کے بغیر معرفت کی فضا میں پرواز ممکن نہیں۔ جب یہ دونوں صفات دل میں اترتی ہیں، تو انسان کی بندگی رسمی نہیں رہتی، بلکہ اس میں خشوع و خضوع اور روح پیدا ہو جاتی ہے۔
۔ اخلاقِ الٰہی کا عکس: بندگی کی عملی صورت
ایک صوفی اور محقق قرآن کے اسلوب سے یہ نکتہ پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن صفات کا ذکر قرآن میں بار بار فرمایا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بندہ اپنی بساط کے مطابق ان کا عکس اپنے اخلاق میں پیدا کرے۔
اگر تمہارا رب “رحیم و کریم” ہے، تو تمہیں بھی اس کے بندوں کے لیے سراپا رحم اور سخی بننا ہوگا۔
اگر وہ “ستار العیوب” (عیبوں کو چھپانے والا) اور “غفور” (معاف کرنے والا) ہے، تو ایک سچے مومن کا یہ ظرف ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کی خطاؤں کو درگزر کرے اور ان کے عیبوں پر پردہ ڈالے۔
چنانچہ، اس قرآنی معرفت کا سب سے بڑا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نہ صرف ایک بہترین عابد (عبادت کرنے والا) بنتا ہے، بلکہ معاشرے کے لیے ایک مخلص، ہمدرد اور نفع بخش انسان بن جاتا ہے۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا عدل اور اس کا برتاؤ اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتا ہے۔
۔ بارگاہِ الٰہی میں آخری سجدہ (حاصلِ کلام)
مضمون کے اس آخری موڑ پر، جب قاری قرآن کی ان تمام آیات اور اللہ کی شان کے مختلف پہلوؤں پر غور کر چکتا ہے، تو زبان گنگ اور دل تسلیم و رضا کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ انسان کو اپنی بساط، اپنی اوقات اور اپنی خطائیں یاد آتی ہیں، اور دوسری طرف اپنے رب کا کرم، اس کا صابر ہونا اور اس کا پیار نظر آتا ہے۔
اس مقام پر علم کی آخری حد ختم ہوتی ہے اور صوفیانہ تسلیم و محبت کا وہ سجدہ شروع ہوتا ہے جہاں بندہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
“پاک ہے تو! ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا، بیشک تو ہی بڑے علم والا، بڑی حکمت والا ہے۔” (البقرہ: 32)
اے اللہ! ہمیں قرآنِ کریم کے ذریعے اپنی سچی معرفت، اپنے جلال کی خشیت اور اپنے جمال کی محبت عطا فرما۔ ہمارے علم کو ہمارے اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنا اور ہمیں اپنے مقرب اور شاکر بندوں میں شامل فرما۔ (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ)




