قدر اللہ :انہوں نے اللہ کی صحیح قدر و منزلت کا حق ادا نہیں کیا

This article explores the profound Qur’anic statement “وما قدروا الله حق قدره” as the root diagnosis of human deviation—intellectual, practical, and existential. By examining its occurrences across the Qur’an, it unveils a comprehensive framework for understanding الإنسان، الكون، and the Divine, while offering a timeless methodology for reforming thought, action, and society.

قدر اللہ :انہوں نے اللہ کی صحیح قدر و منزلت کا حق ادا نہیں کیا   

 قدر اللہ محض ایک قرآنی جملہ نہیں وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ”—بلکہ انسان کی پوری فکری اور عملی گمراہی کا نچوڑ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ کا انکار کرتا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ویسا نہیں پہچانتا جیسا پہچاننے کا حق ہے۔ یہی غلط ادراک، کبھی اسے وحی کے انکار تک لے جاتا ہے، کبھی مخلوق کے آگے

جھکا دیتا ہے، اور کبھی دنیاوی طاقتوں کے فریب میں مبتلا کر دیتا ہے۔

https://mrpo.pk/the-pedagogy-of-estrangement/

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ
وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ
قدر اللہ :انہوں نے اللہ کی صحیح قدر و منزلت کا حق ادا نہیں کیا

اللہ کا حق اور ہمارا فرض

صاحبو ایک بات کا ہم سبھی کو علم ہے ایک کا حق کسی دوسرے پہ فرض ہوتا ہےاور جو اپنے فرض ادا نہیں کرتا وہ اپنے حق کا حقدار نہیں ہوتا اگر وہ حق کا دعوی کرے تو یہ دعوی اس کا باطل ہو گا اب آتے ہیں اپنے مضمون کی طرف
صاحبو قرآن اٹھا کر دیکھ لیجئے اللہ پاک نے تین مقامات پہ انسان سے یہ شکوہ کیا ہے انسان نے اللہ کا حق ادا نہیں کیا جیسے کے اس کا حق ادا کرنا چاہئے تھا انسان نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے اس کی قدر کرنی چاہئے تھی اب میں وہ آیات شامل کرنا چاہتا ہوں جن میں اللہ نے اپنی ناقدری کا شکوہ کیا ہے تو سب سے پہلے اللہ نے سورہ انعام کی آیت نمبر 91 میں اس شکوہ کا ذکر کیا ہے تو لیجیئے آیت
“وَمَا قَدَرُوا اللّ۔ٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّ۔ٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَىْءٍ ۗ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّ۔ذِىْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُوْنَهٝ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَ۔هَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْ۔رًا ۖ وَعُلِّمْتُ۔مْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا اَنْتُ۔مْ وَلَآ اٰبَآؤُكُمْ ۖ قُلِ اللّ۔ٰهُ ۖ ثُ۔مَّ ذَرْهُ۔مْ فِىْ خَوْضِهِ۔مْ يَلْعَبُوْنَ (91)
اور انہوں نے اللہ کو صحیح طور پر نہیں پہچانا جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری، ان سے کہو کہ وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے وہ جو لوگوں کے واسطے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم نے ورق ورق کر کے رکھا جو تم دکھاتے ہو اور (اس کی) بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو، اور تمہیں وہ چیزیں سکھائیں جنہیں تم اور تمہارے باپ دادا نہیں جانتے تھے، تو کہہ دو کہ اللہ ہی نے اتاری تھی، پھر انہیں چھوڑ دو کہ اپنی بحث

میں کھیلتے رہیں۔”

https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%D9%82-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%81%D8%B1%D8%B6.99806/

قرآن جب اس جملے کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے تو دراصل انسان کے تین بڑے میدانوں—علم، عمل اور انجام—کی اصلاح کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ اس

ذہنیت کو رد کرتا ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ خالق اپنی مخلوق کو بغیر ہدایت کے چھوڑ سکتا ہے؛ دوسری طرف وہ اس عملی شرک کو توڑتا ہے جس میں انسان اسباب کو اصل طاقت سمجھ بیٹھتا ہے؛ اور تیسری طرف وہ انسان کو اس کی وقتی حیثیت یاد دلاتا ہے کہ جس زمین پر وہ غرور کرتا ہے، وہی کل اس کے رب کی مٹھی میں ہوگی۔

آج کے دور میں یہ آیت مزید شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ سائنس نے کائنات کے قوانین تو کھول دیے، مگر قانون ساز کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ سیاست نے ریاست کو انسان کا بنایا ہوا ادارہ قرار دے کر حاکمیتِ الٰہی کو محدود کر دیا۔ معیشت نے اخلاق کو نفع کے تابع بنا دیا۔ گویا ہر سطح پر انسان نے اللہ کی قدر گھٹا دی—کبھی عقل کے نام پر، کبھی آزادی کے نام پر، اور کبھی ترقی کے نام پر۔

قرآن اس بگاڑ کا علاج بھی اسی جامعیت سے پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو کائنات کی نشانیوں میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس کا دل عظمتِ الٰہی سے لبریز ہو۔ وہ اللہ کے اسماء و صفات کو بار بار دہرا کر ایک زندہ اور بااختیار خدا کا تصور ذہن میں راسخ کرتا ہے۔ وہ موت اور آخرت کی یاد دہانی کے ذریعے انسان کے غرور کو توڑتا ہے۔ اور پھر عبادت کے نظام کے ذریعے اس شعور کو عملی زندگی میں ڈھال دیتا ہے، جہاں بندہ سجدے میں جا کر اپنی بے بسی اور اپنے رب کی بڑائی کا اعتراف کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام بحران—چاہے وہ فکری ہوں، اخلاقی ہوں یا سماجی—اسی ایک کمی سے جنم لیتے ہیں کہ اس نے اپنے رب کو صحیح طور پر پہچانا نہیں۔ جب یہ معرفت درست ہو جائے، تو فکر میں توازن، عمل میں اخلاص اور دل میں اطمینان خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔

“وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ” ایک تنبیہ ہے، ایک جھٹکا ہے—تاکہ انسان اپنے بنائے ہوئے چھوٹے خداؤں سے نکل کر اس رب کی طرف لوٹے جس کی مٹھی میں پوری کائنات ہے، اور جس کی پہچان ہی انسان کی نجات کا واحد راستہ ہے۔