شاکلہ اور انسانی ذمہ داری: قرآن کی روشنی میں
ہم ایک ہی گھر میں پلنے والے دو بھائیوں کو دیکھتے ہیں تو کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ان کی سوچ، عادات اور ترجیحات میں اتنا فرق کیوں ہے۔ ایک ہی معاشرے میں رہنے والے لوگ ایک ہی واقعے پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں، اور ایک ہی مسجد میں نماز پڑھنے والے افراد دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مختلف رویے کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآنِ مجید کی سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۴ میں بیان کردہ لفظ شاکلہ ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا
ترجمہ: ”کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے، پس تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔“
اس آیت میں انسانی رویوں کو سمجھنے کا ایک بنیادی اصول بیان ہوا ہے۔ انسان کے اعمال محض فوری حالات کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے اس کی طبیعت، تربیت، ماحول، صحبت، عادات اور نیت کا ایک پورا نظام کارفرما ہوتا ہے۔ یہی عوامل اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ کسی معاملے کو کس نظر سے دیکھتا، کس چیز کو اہمیت دیتا اور کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ تاہم آیت کا دوسرا حصہ اس تصور کو ایک اہم حد بھی عطا کرتا ہے: انسان اپنے طریقۂ عمل کو درست سمجھتا ہو، تب بھی سیدھے راستے کا آخری معیار اس کی اپنی رائے نہیں؛ اللہ تعالیٰ اپنے کامل علم سے جانتا ہے کہ حقیقت میں کون زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔
شاکلہ: شخصیت کا سانچہ
مفسرین نے شاکلہ کے مختلف معانی بیان کیے ہیں، جن میں طریقہ اور روش، نیت، دین، طبیعت اور انسانی ساخت شامل ہیں۔ یہ معانی ایک دوسرے سے متصادم نہیں، بلکہ انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ انسان کی فطری استعداد، اس کی پرورش، ماحول سے حاصل ہونے والی عادات، نیت اور اختیار کردہ راستہ مل کر اس کے طرزِ عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔ یوں شاکلہ اس مخصوص سانچے کا نام ہے جس کے مطابق انسان دنیا کو سمجھتا اور اپنے فیصلے کرتا ہے۔
اس حقیقت کو ایک دائرے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہر شخص گویا ایک ایسے دائرے میں عمل کرتا ہے جس کی حدود اس کی طبیعت، تربیت، خاندانی ماحول، صحبت اور عادات سے تشکیل پاتی ہیں۔ وہ اسی دائرے کے اندر حالات کا جائزہ لیتا اور اپنے انتخاب کرتا ہے، اسی لیے ایک ہی صورتِ حال میں دو افراد کے ردِعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ دائرہ کوئی ناقابلِ عبور قید خانہ نہیں۔ ایک ہی گھر میں پرورش پانے والے افراد بھی مختلف راستے اختیار کرتے ہیں، کیونکہ ماحول کے اثرات کے ساتھ ان کی نیت، غوروفکر، تجربات اور ذاتی انتخاب بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ انسان صرف اپنے ماحول کا حاصل نہیں، بلکہ اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ماحول کو بھی بدلتا ہے۔ جو عادات ابتدا میں اسے اپنے گردوپیش سے ملتی ہیں، وہ مسلسل عمل کے نتیجے میں اس کی شخصیت کا حصہ بن سکتی ہیں؛ لیکن شعور، علم اور خود احتسابی کے ذریعے ان میں تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔ اس لیے شاکلہ ہماری موجودہ کیفیت کی وضاحت تو کرتا ہے، مگر اصلاح کے امکان کو ختم نہیں کرتا۔
روزمرہ زندگی میں شاکلہ کا کردار
ہماری سماجی اور ثقافتی زندگی میں اس تصور کی مثالیں ہر قدم پر ملتی ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہے جہاں کام نکلوانے کے لیے کسی کو کچھ دے دینا معمول سمجھا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس عمل کو غلط سمجھنے کے بجائے عملی زندگی کا لازمی حصہ تصور کرنے لگتا ہے۔ دوسری طرف اسی معاشرے میں ایک شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو رشوت کو بدعنوانی سمجھتا اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں ایک ہی ماحول میں رہتے ہیں، لیکن ان کی تربیت، اخلاقی حساسیت اور ترجیحات مختلف ہیں؛ یہی فرق ان کے شاکلہ میں ظاہر ہوتا ہے۔
تاہم کسی عمل کا معاشرے میں عام ہونا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔ معاشرتی قبولیت اور اخلاقی صحت دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر ہم اپنے ماحول سے حاصل ہونے والی ہر عادت کو درست مان لیں تو اصلاح کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ یہی مسئلہ ہماری ثقافتی روایات میں بھی سامنے آتا ہے۔ شادی بیاہ، خوشی غمی اور خاندانی تقریبات میں ہم اکثر وہی کرتے ہیں جو ہمارے ہاں پہلے سے رائج ہوتا ہے۔ کسی رسم کی وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ ”ہمارے ہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے“، حالاں کہ اس کے فائدے اور نقصانات پر غور نہیں کیا گیا ہوتا۔
روایات اپنی جگہ انسانی معاشرے کی شناخت اور باہمی تعلقات کا اہم حصہ ہیں، لیکن ہر روایت کو محض قدیم ہونے کی وجہ سے برقرار رکھنا ضروری نہیں۔ اگر کوئی رسم خاندانوں کو قرض میں مبتلا کرتی، غریب افراد کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتی یا خوشی کے موقع پر غیر ضروری مالی بوجھ پیدا کرتی ہے تو اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ شاکلہ کی روشنی میں ہمیں یہ فرق سمجھنا ہے کہ ہم اپنی ثقافت کے کن پہلوؤں کو شعوری طور پر اختیار کرتے ہیں اور کن کی پیروی محض عادت کے تحت کرتے ہیں۔ اچھی روایات کی حفاظت اور نقصان دہ رواجوں کی اصلاح، دونوں ایک ہی ذمہ داری کے دو پہلو ہیں۔
مذہبی رویے اور اپنی ذات کا محاسبہ
شاکلہ کی اہمیت مذہبی زندگی میں مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ دین پر عمل کرنے والے افراد کی طبیعتیں اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی عبادات میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے، کوئی خدمتِ خلق کو نمایاں اہمیت دیتا ہے؛ کوئی دینی ضابطوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جب کہ کوئی اخلاق، برداشت اور انسانی حقوق کو اپنے دینی طرزِ عمل کا مرکزی حصہ سمجھتا ہے۔ ان میں سے مختلف پہلو اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی ذاتی افتادِ طبع یا خاندانی ماحول سے حاصل ہونے والے تصور کو دین کی مکمل تصویر سمجھنے لگتا ہے۔
سخت مزاج شخص اپنی سختی کو دینی غیرت کا نام دے سکتا ہے، جب کہ نرم رویے کو پسند کرنے والا شخص اصولوں سے گریز کو وسعتِ نظری قرار دے سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی فرد اپنے خاندان کے رواج کو دینی حکم سمجھ سکتا ہے، حالاں کہ اس نے روایت اور دین کے درمیان فرق کرنے کی کوشش ہی نہ کی ہو۔ یہاں انسان کا شاکلہ اس کے مذہبی رویے پر اثر انداز ہوتا ہے، لیکن اس کی اپنی پسند کو حق کا آخری معیار نہیں بناتا۔
اسی لیے آیت کا آخری حصہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے: ”تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔“ یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اپنے راستے پر اطمینان اور حقیقت میں درست ہونا ایک ہی بات نہیں۔ ہماری نیت اچھی ہو سکتی ہے، ہمارا ماحول ہماری سوچ کو تشکیل دے سکتا ہے اور ہمیں اپنے طریقے پر پورا یقین بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ہم سے غلطی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اپنے تصورات اور اعمال کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانچنا، معتبر علم سے رہنمائی لینا اور اپنی رائے پر نظرثانی کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔
یہی مقام ہے جہاں شاکلہ کو سمجھنے اور اسے عذر بنانے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ اگر ہماری طبیعت اور ماحول ہمارے رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں تو اس حقیقت کا اعتراف ہمیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد دینا چاہیے، نہ کہ اپنی غلطیوں سے بری الذمہ ہونے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ قرآن کا ذکر کردہ ”زیادہ سیدھا راستہ“ اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ انسانی طریقۂ عمل کو پرکھنے کے لیے اس کی اپنی پسند کافی نہیں؛ اسے ایک بلند تر اخلاقی اور دینی معیار پر جانچنا ضروری ہے۔
شاکلہ عذر نہیں، اصلاح کی دعوت ہے
قرآنِ مجید انسانی استطاعت اور نفس کی اصلاح، دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
ترجمہ: ”اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔“ (البقرہ: ۲۸۶)
یہ اصول واضح کرتا ہے کہ انسانوں کے حالات، صلاحیتیں اور مواقع یکساں نہیں۔ کسی کے لیے جو کام آسان ہے، دوسرے کے لیے مشکل ہو سکتا ہے؛ اس لیے انسانی حالات کو نظر انداز کرکے سب کے بارے میں یکساں حکم لگانا مناسب نہیں۔ لیکن استطاعت کی حدود کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی اصلاح کی کوشش ترک کر دے۔ سورۃ الشمس میں فرمایا گیا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
ترجمہ: ”یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔“ (الشمس: ۹–۱۰)
تزکیۂ نفس کا یہ اصول انسان کو اپنی کمزوریوں کی پہچان، غلط عادات سے نجات اور اپنے کردار کی بہتری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یوں شاکلہ ایک طرف ہمارے طرزِ عمل کی وضاحت کرتا ہے، تو دوسری طرف اپنی اصلاح کی ضرورت بھی سامنے لاتا ہے۔ ہماری سابقہ تربیت کسی غلط رویے کا سبب ہو سکتی ہے، لیکن یہ لازماً اس رویے کو درست ثابت نہیں کرتی۔
اگر شاکلہ صحبت، ماحول اور عادت سے تشکیل پاتا ہے تو اس کی اصلاح کے لیے بھی انہی عوامل پر توجہ دینا ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے کہ آدمی اپنے گہرے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے، اس لیے اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے (سنن ابی داؤد: ۴۸۳۳؛ جامع ترمذی: ۲۳۷۸)۔ اس رہنمائی کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمارے قریبی تعلقات ہماری سوچ، عادات اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسی صحبت جو سچائی، دیانت، علم اور خیرخواہی کو فروغ دے، شخصیت کی تعمیر میں مددگار بن سکتی ہے۔
اسی طرح گھر، تعلیمی ادارے، دفتر اور معاشرہ جس طرزِ عمل کو معمول بناتے ہیں، وہ رفتہ رفتہ افراد کی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے میں دیانت دار شخص کو نقصان اور بدعنوانی کرنے والے کو فائدہ پہنچے تو محض انفرادی نصیحت کافی نہیں ہوگی؛ ادارہ جاتی اصلاح بھی ضروری ہوگی۔ اس لیے شاکلہ کی بہتری کا تعلق صرف فرد کی نیت سے نہیں، بلکہ ان حالات سے بھی ہے جو اس کے رویے کو تشکیل دیتے ہیں۔
اس عمل کا آغاز خود احتسابی سے ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا میں کسی عمل کو صرف اس لیے درست سمجھتا ہوں کہ میرے خاندان یا معاشرے میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے؟ کیا میری رائے دلیل پر قائم ہے یا محض عادت پر؟ کیا میری مذہبی ترجیحات علم و غوروفکر کا نتیجہ ہیں یا میری طبیعت نے انہیں ایک خاص شکل دے دی ہے؟ ایسے سوالات ہمیں اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور ان کی اصلاح کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
شاکلہ کا یہ فہم دوسروں کے ساتھ ہمارے رویے کو بھی متوازن بناتا ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ہر شخص اپنے مخصوص حالات اور تربیت سے متاثر ہوتا ہے تو ہم اس کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر غلطی کو فوراً بدنیتی کا نتیجہ قرار نہیں دیتے۔ لیکن ہمدردی کا مطلب غلط کو درست کہنا نہیں، خصوصاً جب کسی عمل سے دوسروں کے حقوق متاثر ہوں۔ ایسے معاملات میں انصاف، اصلاح اور جواب دہی اپنی جگہ ضروری رہتے ہیں۔
فرد سے معاشرے تک
شاکلہ کی اصلاح کا اصول فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ اگر کسی معاشرے میں ناانصافی نسل در نسل معمول بن جائے تو اسے محض لوگوں کی طبیعت کا نام دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی ادارے میں غلط طریقۂ کار مستحکم ہو جائے تو اصلاح کے لیے انفرادی کردار کے ساتھ اجتماعی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔ اسی طرح ریاست بھی اپنے ماضی کے تجربات اور قائم شدہ ترجیحات سے متاثر ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے فیصلوں کا جائزہ لینے اور نقصان دہ طریقوں کو بدلنے سے گریز کرے۔
جس طرح فرد اپنی عادات کے ذریعے اپنے شاکلہ کو مضبوط یا بہتر بناتا ہے، اسی طرح اجتماعی رویے بھی اداروں اور معاشرتی روایات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس لیے پائیدار اصلاح کے لیے صرف افراد کو نصیحت کرنا کافی نہیں؛ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ضروری ہے جن میں دیانت، انصاف اور ذمہ داری کو فروغ ملے۔ جب اچھے کردار کی حوصلہ افزائی اور غلط رویوں کی اصلاح دونوں ساتھ ہوں تو فرد اور معاشرہ ایک دوسرے کی بہتری میں مددگار بن سکتے ہیں۔
اختتامیہ
سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۴ انسانی کردار کے بارے میں ایک متوازن تصور پیش کرتی ہے۔ ہر شخص اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے؛ اس کی طبیعت، تربیت، ماحول، صحبت اور نیت اس کے رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا ہمیں انسانی اختلافات کے اسباب جاننے اور دوسروں کے بارے میں غیر ضروری سختی سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن آیت کا اختتام ہمیں اپنی ذات کے محاسبے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے: اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔
شاکلہ نہ مکمل جبر ہے، نہ ہر غلطی کا عذر۔ یہ ہماری موجودہ شخصیت کا سانچہ ہے، جسے ہمارے انتخاب اور اعمال مزید مضبوط بھی کر سکتے ہیں اور بہتر بھی بنا سکتے ہیں۔
لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کس ماحول میں پیدا ہوئے یا ہماری تربیت کیسے ہوئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ان اثرات کے باوجود اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کیا۔ کیا ہم نے اپنی عادات کو پرکھا، غلطیوں کو تسلیم کیا اور اپنے طرزِ عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے دوسروں کے حالات کو سمجھتے ہوئے انصاف کا دامن بھی تھامے رکھا؟
اپنے شاکلہ کو پہچاننا شعور کی ابتدا ہے، اور اس کی اصلاح ذمہ داری کا تقاضا۔ ہمیں اپنے ماضی اور ماحول کے اثرات سے انکار نہیں کرنا، بلکہ انہیں سمجھتے ہوئے بہتر راستے کی تلاش جاری رکھنی ہے۔ آخرکار ہماری ذمہ داری صرف اپنے دائرے کو پہچاننا نہیں، بلکہ اپنے اختیار کے مطابق اسے بہتر بنانا بھی ہے۔



