پاکستان میں ذہنی صحت: 5 مسائل جن پر کوئی بات نہیں کرتا
https://mrpo.pk/?p=13600&preview=trueپاکستان میں ہم مہنگائی پر بات کرتے ہیں۔
سیاست پر لڑتے ہیں۔
مستقبل پر فکر کرتے ہیں۔
لیکن ایک چیز ہے جس پر ہم چپ رہتے ہیں
ہماری ذہنی صحت۔
یہاں ذہنی مسائل شور نہیں مچاتے۔
یہ آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔
اور ہم انہیں یا تو نظرانداز کر دیتے ہیں، یا کسی اور نام سے پکارنے لگتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران صرف ہسپتالوں یا ڈاکٹروں کا مسئلہ نہیں

یہ ایک سماجی، ثقافتی اور فکری مسئلہ ہے۔
جذبات دبانا = مضبوطی سمجھ لینا
ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے
“مرد روتے نہیں”
“عورتیں برداشت کرتی ہیں”
“شکوہ کمزور لوگ کرتے ہیں”
نتیجہ؟
لوگ اپنے جذبات دبا لیتے ہیں۔
- غصہ اندر رہ جاتا ہے
- اداسی چھپ جاتی ہے
- خوف کو زبان نہیں ملتی
پھر یہی دبے ہوئے جذبات بدل جاتے ہیں
- چڑچڑے پن میں
- بے حسی میں
- اچانک غصے میں
- جسمانی درد میں
ہم جسے صبر کہتے ہیں، اکثر وہ دبی ہوئی ذہنی تھکن ہوتی ہے۔
ذہنی صحت کو صرف “پاگل پن” سے جوڑ دینا
پاکستان میں ذہنی بیماری کا تصور بہت محدود ہے۔
اگر کوئی چیخے → پاگل
اگر کوئی خاموش ہو جائے → کمزور
اگر کوئی پریشان ہو → وہم
ہم یہ نہیں سمجھتے کہ:
- انزائٹی بھی بیماری ہے
- ڈپریشن بھی حقیقی ہے
- جذباتی تھکن بھی مسئلہ ہے
اسی وجہ سے لوگ تب مدد لیتے ہیں
جب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
جادو ٹونہ، جنات اور نظر بد — اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کا سب سے بڑا سبب
جادو اور جنات سےمتعلق موضوع نہایت حساس ہے۔ آج اس بنیاد پر بے شمار لوگوں نےاپنی مسندیں سجا رکھی ہیں۔ جادو کا توڑ کرنے اور جن نکالنے کے نام پر وہ سادہ عوام کا دین، عزت، مال سب کچھ لوٹ رہے ہیں ۔ بڑے بڑے نیکوکار لوگ بھی اس دھندے میں پڑ چکے ہیں۔جادو کرنا او رکالے علم کے ذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سے محض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے۔ جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کے لیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگر چند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس
کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہاد جادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں
https://kitabosunnat.com/kutub-library/jadu-toney-mirgi-aur-nazar-bad-ka-ilaaj
یہ پاکستان کا ایک انتہائی حساس مگر نظرانداز شدہ مسئلہ ہے۔
بہت سے ذہنی مسائل کو ہم فوراً وہم کہہ دیتے ہیں
- کسی نے جادو کر دیا ہے
- جنات کا سایہ ہے
- کسی کی نظر لگ گئی ہے
اسے ہم یہاں “جادو ٹونہ سنڈروم” کہہ سکتے ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ روحانی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ
ہر ذہنی مسئلے کو روحانی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے
نتیجہ؟
- ڈاکٹر کے بجائے عامل
- علاج کے بجائے تعویذ
- بات کرنے کے بجائے خاموشی
کئی لوگ برسوں تک علاج نہیں کرواتے
جبکہ اصل مسئلہ
- انزائٹی
- ڈپریشن
- ٹراما
- شدید ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔
روحانیت سہارا ہو سکتی ہے،
لیکن متبادل علاج نہیں۔
مالی دباؤ — ایک خاموش ذہنی قاتل
پچھلے پانچ سالوں میں پاکستانی عوام پر جو دباؤ پڑا، وہ غیر معمولی ہے۔
اعداد و شمار کی جھلک
- 2019–2020: اندازاً 20–25٪ آبادی کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار
- 2023–2025: مختلف رپورٹس کے مطابق 24٪ سے 34٪ پاکستانی ذہنی مسائل سے دوچار
- حالیہ برسوں میں ذہنی دباؤ سے جڑی خودکشیوں کے واقعات میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا
مہنگائی، بیروزگاری، قرض، علاج کے اخراجات
یہ سب انسان کو مسلسل survival mode میں رکھتے ہیں۔
اور مسلسل زندہ رہنے کی جنگ
دماغ کو تھکا دیتی ہے۔
عورتوں اور بچوں کی ذہنی صحت — سب سے زیادہ نظرانداز
عورتیں
گھر، بچے، رشتے، توقعات
سب سنبھالتی ہیں، خود کو نہیں۔
جب تھک جائیں تو جواب
“عورتوں کے ساتھ تو ایسا ہوتا ہے”
بچے اور نوجوان
نمبرز، مقابلہ، موازنہ، اسکرینز
جذباتی زبان سکھائی ہی نہیں جاتی۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں
کہ نوجوان کیوں غصے میں ہیں
یا خاموش ہو گئے ہیں۔
پچھلے تین سال بمقابلہ پچھلے پانچ سال: فرق کہاں آیا؟
پچھلے تین سالوں میں
- ذہنی دباؤ زیادہ نمایاں ہوا
- انزائٹی اور ڈپریشن کے کیسز بڑھے
- آگاہی کچھ بڑھی، مگر سہولیات نہیں
- مالی اور سماجی دباؤ شدید ہوا
یعنی مسئلہ نیا نہیں
لیکن شدت زیادہ ہو گئی ہے۔
ہم واقعی کیا کر سکتے ہیں؟
ذہنی صحت کی بہتری صرف دوائی سے نہیں شروع ہوتی۔
یہ شروع ہوتی ہے
- بات کرنے سے
- سننے سے
- مان لینے سے کہ مسئلہ موجود ہے
کچھ سادہ اقدام
- بچوں کو جذبات کے نام سکھائیں
- مردوں کو بولنے دیں
- عورتوں کے بوجھ کو تسلیم کریں
- ہر مسئلے کو جادو نہ بنائیں
خاموشی مسئلہ بڑھاتی ہے۔
بات مسئلہ کم کرتی ہے۔
آخری بات
پاکستان کا سب سے بڑا ذہنی مسئلہ کمزوری نہیں۔
انکار ہے۔
جب تک ہم ہر درد کو تعویذ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے
اصل علاج ہم سے دور ہی رہے گا۔
ذہنی صحت پر بات کرنا بے ایمانی نہیں۔
یہ انسان ہونے کی علامت ہے۔
اور شاید
یہی بات ہمیں اندر سے مضبوط بنا سکتی ہے۔
حوالہ جات
- World Health Organization (WHO) – Mental Health Pakistan
- Dawn News / Express Tribune – Mental health reports
- UNICEF Pakistan – Child & adolescent mental health
- Patel et al. (2018) – Global mental health
- مقامی اخبارات اور قومی سروے رپورٹس (2019–2025)
ب



