جرمنی بند دروازوں کے پیچھے : کیا واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ کا نیا دفاعی نظام تشکیل دے رہا ہے؟
جرمنی بند دروازوں کے پیچھے ,جرمنی میں ایک خاموش مگر غیر معمولی فوجی اجلاس نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی طاقت کی سیاست پر ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور سات عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام ایک ہی میز پر بیٹھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں بعض ممالک کے اسرائیل کے ساتھ اب

بھی رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
یہ محض ایک معمول کی فوجی کانفرنس تھی یا خطے میں ایک نئے دفاعی بندوبست کی جھلک؟
جو کچھ ابھی تک سامنے آیا ہے، وہ کسی خفیہ باقاعدہ فوجی اتحاد کے وجود کو ثابت نہیں کرتا۔ لیکن مختلف واقعات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا پرانا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے۔
https://mrpo.pk/us-middle-east-security-strategy-is-it-new-us-me-security-order/
جرمنی کا بند کمرے والا اجلاس
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کی میزبانی میں جرمنی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے تعاون کو بہتر بنانے کے لیے ایک طے شدہ کانفرنس قرار دیا۔ تاہم اجلاس کی تفصیلات پہلے سے عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی تھیں۔ (Axios)
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایران کے ساتھ جنگ، خطے کی مجموعی سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی کمانڈر نے شرکا کو یقین دلایا کہ امریکہ خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بڑھانے کے امریکی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے مختلف محاذوں پر اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں

بریفنگ دی۔ (Axios)
یہاں اصل اہمیت اجلاس کے ایجنڈے سے زیادہ شرکا کی فہرست میں چھپی ہوئی ہے۔
سعودی عرب، قطر اور کویت جیسے ممالک کے فوجی حکام کا اسرائیلی فوجی قیادت کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنا اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ عملی سلامتی کے معاملات میں کچھ ایسی قربت پیدا ہو چکی ہے جو رسمی سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ رہی ہے۔
لیکن اسے ابھی باقاعدہ اسرائیل۔عرب فوجی اتحاد کہنا شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
سعودی عرب، اسرائیل اور حوثیوں کا نیا معاملہ
اس اجلاس کے پس منظر میں یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی پیش قدمی بھی اہم ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کی، لیکن واشنگٹن نے براہِ راست حملوں سے گریز کیا اور اس کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس، نگرانی اور اہداف کے تعین میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ امریکی اور سعودی حکام کے درمیان اس معاملے پر اعلیٰ سطحی رابطے بھی ہوئے۔ (Reuters)
اسی ماحول میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ سینٹرل کمانڈ کی معاونت سے اسرائیل اور سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ تعاون کے طریقوں پر بات کر رہے ہیں۔
خاص طور پر باب المندب کے قریب حوثی سرگرمیوں کے حوالے سے اسرائیلی مدد کا امکان زیرِ بحث آیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ اسرائیل براہِ راست جنگی کارروائی کرے؛ انٹیلی جنس، نگرانی اور معلومات کا تبادلہ بھی تعاون کی ایک ممکنہ شکل ہو سکتی ہے۔ (The Times of Israel)
یہ فرق بہت اہم ہے۔
رابطہ موجود ہونا اور باقاعدہ فوجی اتحاد ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔

اس وقت دستیاب شواہد پہلے کو ظاہر کرتے ہیں، دوسرے کو ثابت نہیں کرتے۔
امریکہ براہِ راست جنگ سے کیوں گریز کر رہا ہے؟
یہ سوال اس پورے منظرنامے کا شاید سب سے اہم حصہ ہے۔
ایک طرف واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان کر رہا ہے، دوسری طرف سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی مدد کی درخواست قبول نہیں کر رہا۔
حالیہ صورتحال میں امریکی فوج پہلے ہی ایران کے ساتھ وسیع تنازع میں مصروف ہے، جبکہ خطے میں امریکی دفاعی وسائل اور میزائل روکنے والے نظام پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے دیگر ممالک سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ (AP News)
اس سے ایک ممکنہ حکمتِ عملی سامنے آتی ہے
واشنگٹن شاید خطے سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، لیکن ہر محاذ پر خود براہِ راست لڑنے کی ذمہ داری بھی نہیں اٹھانا چاہتا۔
یعنی امریکہ ممکنہ طور پر اپنی موجودگی، انٹیلی جنس، نگرانی، دفاعی صلاحیت اور رابطہ کاری برقرار رکھتے ہوئے علاقائی ممالک کو زیادہ ذمہ داری اٹھانے کی طرف لے جا رہا ہے۔
یہ ایک تجزیاتی مفروضہ ہے، کوئی سرکاری امریکی اعلان نہیں۔
ابراہیمی معاہدے کا اثر
اس تبدیلی کو ۲۰۲۰ کے ابراہیمی معاہدوں کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دفاع، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس اور میزائل دفاع جیسے شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات بڑھے۔ بعد کے برسوں میں اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان سلامتی کے معاملات میں تعاون کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔
لیکن سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہیں ہوا۔
اس کے باوجود جرمنی کے اجلاس میں سعودی اور اسرائیلی فوجی قیادت کا ایک ہی میز پر موجود ہونا ایک اہم فرق کو واضح کرتا ہے
دفاعی تعاون ہمیشہ سفارتی معاہدے کے بعد شروع نہیں ہوتا۔ بعض اوقات مشترکہ خطرات عملی تعاون کو رسمی سفارت کاری سے آگے لے جاتے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ واشنگٹن ابراہیمی معاہدوں کو صرف سفارتی معمول پر آنے کے عمل کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کے ایک حصے کے طور پر دیکھ رہا ہو۔

تاہم سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مکمل معمول کے تعلقات کو ابھی ایک طے شدہ حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کہاں کھڑے ہیں؟
یہاں اگلی اہم پیش رفت سامنے آتی ہے۔
۷ اگست ۲۰۲۶ کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دفاعی تعاون کو مختلف شعبوں میں وسعت دی جائے گی۔ (İletişim Başkanlığı)
یہ معاہدہ صرف ایک اعلامیہ بن کر نہیں رہا۔ اگست کے آخر میں اس کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا، جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ (Ministry of Foreign Affairs)
پاکستانی حکومت نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ امن، استحکام اور مشترکہ دفاع ہے۔ (Ministry of Information and Broadcasting)
اس لیے اس معاہدے کو براہِ راست ایران کے خلاف اتحاد قرار دینا فی الحال شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

لیکن اس کے باوجود اس کا علاقائی سلامتی کے نقشے پر اثر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیا یہ دونوں نظام آپس میں جڑ سکتے ہیں؟
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے۔
ایک طرف امریکہ، اسرائیل، خلیجی ممالک، اردن اور مصر کے درمیان سلامتی کا بڑھتا ہوا تعاون ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک باقاعدہ مشترکہ دفاعی فریم ورک سامنے آ چکا ہے۔
ان دونوں کو لازماً ایک ہی اتحاد سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مقاصد، رکن ممالک اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔
لیکن سعودی عرب دونوں دائروں میں موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خطے کی نئی حکمتِ عملی دلچسپ ہو جاتی ہے۔
ممکن ہے مستقبل میں مختلف ممالک ایک ہی مرکزی فوجی اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے متعدد باہم جڑے ہوئے دفاعی اور سیاسی نیٹ ورک بنائیں۔
امریکہ ان نیٹ ورکوں کا براہِ راست واحد جنگجو ہونے کے بجائے ان کے درمیان رابطہ کاری، انٹیلی جنس، دفاعی ٹیکنالوجی، نگرانی اور بحری سلامتی میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہی وہ تبدیلی ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اور پھر عمان؟
اس پورے منظرنامے میں عمان کا کردار بالکل مختلف ہے۔
جبکہ ایک طرف فوجی قیادتیں سلامتی اور دفاع کے معاملات پر رابطے بڑھا رہی ہیں، عمان نے امریکہ اور حوثیوں کے درمیان رابطے کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ستمبر میں امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان مسقط میں خفیہ ملاقات ہوئی، جس میں عمان نے سہولت کاری کی۔ یہ رابطہ ۲۰۲۵ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوششوں کا تسلسل تھا۔ (Reuters)
اس لیے عمان کو اس پورے نظام سے باہر سمجھنا بھی درست نہیں۔
وہ فوجی اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے والا فریق بن کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ فرق اہم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں مستقبل کا نظام شاید صرف میزائل، جنگی طیاروں اور فوجی معاہدوں سے نہیں بنے گا۔ اس میں سفارت کاری کے دروازے بھی اتنے ہی اہم ہوں گے۔
واشنگٹن کی ممکنہ نئی حکمتِ عملی
اگر ان تمام واقعات کو ایک ساتھ رکھا جائے تو ایک ممکنہ تصویر سامنے آتی ہے۔
پرانا تصور یہ تھا کہ امریکہ خلیجی ریاستوں کی سلامتی کا بنیادی محافظ ہے اور ضرورت پڑنے پر خود براہِ راست فوجی طاقت استعمال کرتا ہے۔
نیا ماڈل شاید اس سے مختلف ہو
امریکہ خطے سے نکلنے کے بجائے اپنی ذمہ داری کی نوعیت تبدیل کرے۔
یعنی
- فوجی موجودگی برقرار رہے۔
- انٹیلی جنس اور نگرانی کا نظام مضبوط ہو۔
- بحری راستوں کی حفاظت میں مرکزی رابطہ کاری جاری رہے۔
- اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھے۔
- علاقائی ممالک اپنے دفاع پر زیادہ خرچ اور ذمہ داری اٹھائیں۔
- پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک علاقائی دفاعی کردار میں زیادہ نمایاں ہوں۔
- عمان، قطر، مصر اور دیگر ممالک سفارتی رابطوں کے دروازے کھلے رکھیں۔
اگر ایسا ہو رہا ہے تو اسے ایک واحد خفیہ اتحاد کے بجائے متعدد باہم جڑے ہوئے سلامتی کے حلقوں کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
کیا اس کے پیچھے ایران ہے؟
ایران اس پورے منظرنامے میں ایک اہم عنصر ضرور ہے۔
جرمنی کے اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور علاقائی سلامتی پر بات ہوئی۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں اہم بحری گزرگاہیں ہیں، جبکہ یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں سعودی عرب اور عالمی بحری تجارت کے لیے ایک الگ دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔ (Axios)
لیکن ہر نئے دفاعی معاہدے یا فوجی رابطے کو صرف ایران مخالف منصوبہ قرار دینا بھی تجزیاتی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
ممالک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔
سعودی عرب اپنی سرزمین اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ چاہتا ہے۔
پاکستان اپنے دفاعی اور معاشی مفادات دیکھتا ہے۔
ترکیہ اپنی علاقائی حیثیت اور سلامتی کو سامنے رکھتا ہے۔
اسرائیل اپنے مختلف محاذوں اور ایران کے ساتھ تنازع کو بنیادی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔
امریکہ عالمی تجارت، بحری راستوں، اپنے فوجی اڈوں اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ان تمام مفادات کا ایک دوسرے سے مل جانا لازماً کسی ایک خفیہ منصوبے کا ثبوت نہیں۔
اصل تبدیلی کہاں ہے؟
شاید سب سے بڑی تبدیلی یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔
اصل تبدیلی یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اب ایک ہی طاقت کے ہاتھ میں نہیں رہ رہی۔
اسرائیل بعض عرب ممالک کے ساتھ پہلے سے زیادہ عملی سلامتی تعاون کر رہا ہے۔
سعودی عرب بیک وقت امریکہ، پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھا رہا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں داخل ہو چکے ہیں۔
عمان فوجی محاذ کے بجائے سفارتی رابطوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
اور امریکہ اب بھی پورے نظام کے سب سے اہم بیرونی فوجی ستونوں میں سے ایک ہے، لیکن بعض حالات میں براہِ راست لڑائی کے بجائے علاقائی شراکت داروں کو زیادہ ذمہ داری دیتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
یہی وہ تصویر ہے جو جرمنی کے بند کمرے والے اجلاس کو محض ایک فوجی ملاقات سے زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔
کیا کوئی نیا مشرقِ وسطیٰ بن رہا ہے؟
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی نیا باقاعدہ علاقائی فوجی اتحاد وجود میں آ چکا ہے۔
ایسا دعویٰ دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
لیکن یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہو رہا۔
جرمنی کا اجلاس، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا سلامتی تعاون، حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی مشکلات، امریکہ کا براہِ راست جنگی کردار محدود رکھنے کا فیصلہ، مکہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اور عمان کی متوازی سفارتی سرگرمیاں ایک ہی خطے میں بیک وقت جاری ہیں۔
ان واقعات کو جوڑنے والی ڈور ابھی پوری طرح واضح نہیں۔
لیکن نقشہ بننا شروع ہو چکا ہے۔
اور شاید آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کسی ایک طاقت کے زیرِ سایہ نہیں بلکہ متعدد علاقائی طاقتوں، دفاعی شراکت داریوں، انٹیلی جنس نیٹ ورکوں اور سفارتی راستوں کے ایک پیچیدہ نظام کے ذریعے چلائی جائے گی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نظام امریکہ نے بنایا ہے یا کسی اور نے۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا واشنگٹن اب مشرقِ وسطیٰ میں خود ہر جنگ لڑنے کے بجائے ایسا علاقائی نظام تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں مقامی طاقتیں زیادہ بوجھ اٹھائیں اور امریکہ مرکزی رابطہ کار کی حیثیت برقرار رکھے؟
ابھی اس سوال کا مکمل جواب موجود نہیں۔
لیکن جرمنی کا وہ بند کمرہ، مکہ کا نیا دفاعی معاہدہ، یمن کا بحران اور مسقط کی خاموش سفارت کاری ایک بات ضرور بتا رہی ہے:
مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا پرانا نقشہ بدل رہا ہے۔
اداریاتی نقطۂ نظر
اس تجزیے میں ثابت شدہ واقعات، سرکاری بیانات اور معتبر ذرائع کی رپورٹس کو ممکنہ تزویراتی تشریحات سے الگ رکھا گیا ہے۔ جرمنی کا اجلاس اور مکہ کا دفاعی معاہدہ دستاویزی حقائق ہیں، جبکہ ایک وسیع تر امریکی علاقائی سلامتی کے نئے نظام کی تشکیل کا تصور ابھی ایک تجزیاتی سوال ہے، حتمی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔


