قیامت کے انکار کی ایک بڑی وجہ
انسان دنیا کی فوری زندگی سے محبت کیوں کرتا ہے اور آخرت کو کیوں بھلا دیتا ہے؟
سورۂ القیامہ، آیات 6 تا 21
آیات 16 تا 19 کے استثناء کے ساتھ ایک تفسیری، فکری اور نفسیاتی مطالعہ
تمہید: سوال قیامت کا ہے، مگر مسئلہ انسان کے دل میں ہے
انسان جب قیامت کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بظاہر وہ ایک علمی سوال پوچھتا ہے:
“قیامت کب آئے گی؟“
لیکن قرآن مجید بعض اوقات سوال کے الفاظ سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی ہوئی نیت کو بے نقاب کرتا ہے۔
سورۂ القیامہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَسْــَٔـلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِ
“وہ پوچھتا ہے: قیامت کا دن کب ہوگا؟”
مگر اس سے پہلے قرآن ایک گہری حقیقت بیان کرچکا ہے:
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَه
“بلکہ انسان چاہتا ہے کہ وہ آگے بھی بداعمالی کرتا چلا جائے۔”
اور چند آیات بعد اصل بیماری کی مزید واضح تشخیص سامنے آتی ہے:
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ٢٠
وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ ٢١
“ہرگز نہیں! بلکہ تم جلد مل جانے والی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔”
یہاں قرآن انسانی نفسیات کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتا ہے جو ہر دور کے انسان میں پایا جاسکتا ہے:
انسان کبھی آخرت کو اس لیے دور نہیں کرتا کہ اس کے پاس دلائل نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے بھی کہ آخرت کو حقیقت مان لینے سے اسے اپنی زندگی بدلنی پڑتی ہے۔
مسئلہ صرف قیامت کے امکان کا نہیں
سورۂ القیامہ کے آغاز میں انسان کے اس شبہے کا ذکر ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسے اٹھایا جائے گا۔ بکھری ہوئی ہڈیاں دوبارہ کیسے جمع ہوں گی؟
قرآن جواب دیتا ہے:
بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَه
“کیوں نہیں! ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک درست کرنے پر قادر ہیں۔”
یعنی دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
لیکن قرآن فوراً انسانی خواہش کی طرف متوجہ کرتا ہے:
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَه
“بلکہ انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالی کرتا رہے۔”
یہاں “بل“ نہایت معنی خیز ہے۔ گویا اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن سمجھتا ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہ نہیں دیکھنا چاہتا۔
مولانا مودودی کی تشریح میں بھی یہی نکتہ نمایاں ہوتا ہے کہ آخرت کے انکار کے پیچھے انسان کی یہ خواہش کارفرما ہوسکتی ہے کہ وہ اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوکر اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارتا رہے، اور پھر اپنے انکار کے لیے عقلی جواز تلاش کرے۔
یوں ایک اہم نفسیاتی حقیقت سامنے آتی ہے:
انسان بعض اوقات پہلے خواہش سے فیصلہ کرتا ہے اور دلیل بعد میں تلاش کرتا ہے۔
“قیامت کب آئے گی؟” — سوال یا انکار؟
آیت 6 میں فرمایا:
يَسْــَٔـلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِ
“وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟”
سیاق کے اعتبار سے یہ محض معلومات حاصل کرنے کا سوال نہیں بلکہ اس میں انکار، استبعاد اور استہزاء کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے۔ گویا سوال کرنے والا اس حقیقت کو اتنا بعید سمجھتا ہے کہ اس کا ذکر بھی چیلنج یا تمسخر کے انداز میں کرتا ہے۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک قابلِ غور پہلو ہے:
جس حقیقت کو انسان قبول نہیں کرنا چاہتا، وہ کبھی کبھی اسے سنجیدگی سے سمجھنے کے بجائے اس کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔
ابن کثیر کے بیان کردہ مرکزی مفہوم کے مطابق سورت بعث بعد الموت کے اثبات اور اس کے منکرین کی تردید کرتی ہے۔ لیکن آیات کا تسلسل یہ بھی دکھاتا ہے کہ مسئلہ محض جسمانی دوبارہ تخلیق کا نہیں؛ قیامت انسان کو اخلاقی جواب دہی کے سامنے بھی کھڑا کرتی ہے۔
قیامت کا یقین انسان کی بے قید آزادی ختم کردیتا ہے
اگر انسان واقعی مان لے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو اس کے بہت سے فیصلے بدل سکتے ہیں۔
پھر وہ خود سے پوچھے گا:
“کیا میں اپنے اس عمل کو اللہ کے سامنے پیش کرسکتا ہوں؟“
دنیا میں انسان اپنے اعمال کے لیے بے شمار عذر تراش لیتا ہے:
“سب لوگ یہی کرتے ہیں۔”
“مجبوری تھی۔”
“موقع ہی ایسا تھا۔”
“کسی کو نقصان تو نہیں ہوا۔”
“میں بعد میں توبہ کرلوں گا۔”
لیکن قیامت کا تصور اسے یاد دلاتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے فیصلوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسی لیے آخرت کا ایمان محض ایک عقیدہ نہیں؛ یہ انسان کے اندر اخلاقی نگرانی کا مستقل احساس پیدا کرتا ہے۔
جب قیامت سامنے آئے گی
آیات 7 تا 12 قیامت کا ایک انتہائی ہیبت ناک منظر پیش کرتی ہیں:
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ
“پھر جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔”
وَخَسَفَ الْقَمَرُ
“اور چاند بے نور ہوجائے گا۔”
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
“اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں گے۔”
تب انسان کہے گا:
يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ
“پھر انسان کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟”
جو شخص دنیا میں پوچھ رہا تھا:
“قیامت کب آئے گی؟“
وہی اس دن پوچھے گا:
“بھاگوں کہاں؟“
جواب ہوگا:
كَلَّا لَا وَزَرَ
“ہرگز نہیں، کوئی پناہ نہیں۔”
دنیا میں دولت، منصب، تعلقات، شہرت، طاقت اور اثرورسوخ انسان کو وقتی سہارا دے سکتے ہیں، مگر اس دن:
کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔
کیونکہ:
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
“اس دن ٹھہرنا تیرے رب ہی کے پاس ہوگا۔”
سب سے مشکل گواہ — انسان خود
آیات 13 تا 15 انسانی جواب دہی کی ایک اور گہری حقیقت بیان کرتی ہیں:
يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ
“اس دن انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے اعمال بتا دیے جائیں گے۔”
پھر فرمایا:
بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ
“بلکہ انسان خود اپنے بارے میں خوب جانتا ہوگا۔”
اور:
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ
“اگرچہ وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔”
دنیا میں انسان اپنی غلطی کو مجبوری، خیانت کو حکمتِ عملی، ظلم کو انتقام اور خود غرضی کو اپنا حق قرار دے سکتا ہے۔ لیکن ایک شخص ایسا ہے جسے وہ دھوکا نہیں دے سکتا:
وہ خود۔
قیامت کا خوف صرف یہ نہیں کہ دوسرے ہمارے اعمال دیکھیں گے؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنے بارے میں مکمل حقیقت جان جائیں گے۔
آیات 16 تا 19 — ایک الگ مضمون
ان آیات کو اس مضمون کے مرکزی استدلال میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ یہاں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے اور وحی کے نزول، اسے جلدی یاد کرنے کے لیے زبان کو حرکت دینے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کو جمع کرانے، پڑھوانے اور اس کی وضاحت کرنے کا ذکر ہے۔
یعنی اس مقام پر موضوع انسان کا قیامت سے انکار نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی کے محفوظ کیے جانے کا الٰہی انتظام ہے۔
اس کے بعد آیت 20 میں کلام دوبارہ انسان کے بنیادی مسئلے کی طرف لوٹتا ہے۔
“العاجلة” — اصل بیماری کی تشخیص
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ٢٠
وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ٢١
“ہرگز نہیں! بلکہ تم جلد مل جانے والی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔”
یہی اس پورے مضمون کی کلیدی آیات ہیں۔
العاجلة سے مراد دنیا کی فوری اور عارضی زندگی ہے۔ انسان دنیا کو اس لیے ترجیح دیتا ہے کہ وہ اسے دیکھتا، چھوتا اور فوراً اس کے نتائج حاصل کرتا ہے؛ جبکہ آخرت غیب میں ہے اور اس کا اجر و انجام مستقبل سے متعلق ہے۔
مولانا مودودی اسی مقام پر انسانی کوتاہ نظری کی طرف توجہ دلاتے ہیں: انسان اکثر ان نتائج کو زیادہ اہم سمجھتا ہے جو فوراً سامنے آتے ہیں، جبکہ دور کے نتائج اس کی ترجیحات میں پیچھے چلے جاتے ہیں۔
یہ صرف مذہبی زندگی کا مسئلہ نہیں۔ طالب علم فوری تفریح کے لیے پڑھائی مؤخر کرتا ہے، کاروباری شخص فوری منافع کے لیے طویل مدتی اعتماد قربان کرسکتا ہے، اور انسان فوری لذت کے لیے مستقبل کے نقصان کو نظرانداز کرسکتا ہے۔
اسی طرح وہ دنیا کے چند سالہ فائدے کے لیے آخرت کی دائمی حقیقت کو بھلا دیتا ہے۔
“العاجلة” صرف دولت کا نام نہیں
اگر العاجلة کو صرف مال و دولت سمجھ لیا جائے تو مفہوم محدود ہوجاتا ہے۔
یہ ایک ذہنی کیفیت بھی ہے:
“مجھے ابھی چاہیے۔“
ابھی کامیابی۔
ابھی عزت۔
ابھی طاقت۔
ابھی شہرت۔
ابھی لذت۔
ابھی فائدہ۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب “ابھی” کی خواہش کے راستے میں کوئی اخلاقی یا دینی اصول حائل ہو اور انسان اصول کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجائے۔
آخرت کا ایمان اسی مقام پر سوال اٹھاتا ہے:
“جو چیز مجھے ابھی چاہیے، کیا وہ اللہ کو بھی پسند ہے؟“
یہ سوال خواہش کو انسان کا مالک بننے سے روکتا ہے۔
دنیا کو چھوڑنا نہیں، صحیح جگہ رکھنا ہے
اسلام دنیا سے فرار نہیں سکھاتا۔ گھر بنانا، کاروبار کرنا، علم حاصل کرنا، مال کمانا، اولاد کی تعلیم اور سماج کی خدمت سب جائز اور مطلوب ہوسکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ دنیا ہاتھ میں ہے یا دل میں؟
دنیا ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے؛ دل میں بیٹھ جائے تو خطرہ بن سکتی ہے۔
ایک شخص بہت مال رکھتا ہے مگر اللہ کا بندہ رہتا ہے، تو دنیا اس کے ہاتھ میں ہے۔ دوسرا کم مال رکھتا ہے مگر ہر وقت اسی کے پیچھے دوڑتا ہے، تو دنیا اس کے دل میں ہے۔
قرآنی توازن یہ ہے:
دنیا کو استعمال کرو، مگر دنیا کو اپنا مقصدِ آخر نہ بناؤ۔
آخرت کا ایمان: مظلوم کے لیے امید، ظالم کے لیے خوف
قیامت کا عقیدہ صرف گناہ گار کو ڈرانے کے لیے نہیں؛ مظلوم کے لیے امید بھی ہے۔
دنیا میں بہت سے مظلوم ایسے ہیں جنہیں انصاف نہیں ملتا۔ طاقتور اپنے اثرورسوخ سے بچ نکلتا ہے اور کمزور اپنی فریاد کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
اگر آخرت نہ ہو تو بہت سے مظالم کا کوئی آخری فیصلہ نہ ہوگا۔
لیکن قرآن یاد دلاتا ہے:
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
“اس دن ٹھہرنا تیرے رب ہی کے پاس ہوگا۔”
مظلوم کے لیے یہ یقین امید ہے کہ میرا حق دنیا میں نہ ملا تو بھی میرا رب اسے جانتا ہے۔
اور یہی عقیدہ ظالم کے لیے تنبیہ ہے۔ دنیا میں وہ سمجھ سکتا ہے:
“مجھے کون پکڑ سکتا ہے؟“
لیکن قیامت کا یقین اسے بتاتا ہے کہ ایک عدالت ایسی بھی ہے جہاں نہ طاقت کام آئے گی، نہ تعلق، نہ دولت، نہ چھپایا ہوا راز۔
سب سے خطرناک جملہ: “ابھی بہت وقت ہے“
قیامت سے غفلت ہمیشہ کسی بڑے انکار سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ایک چھوٹے سے جملے سے شروع ہوتی ہے:
“ابھی بہت وقت ہے۔“
ابھی جوانی ہے۔
ابھی کاروبار سنبھالنا ہے۔
ابھی بچوں کو دیکھنا ہے۔
ابھی کچھ دولت بنانی ہے۔
بعد میں نماز پڑھ لیں گے۔
بعد میں توبہ کرلیں گے۔
بعد میں حقوق ادا کردیں گے۔
پھر ایک دن “بعد میں” ختم ہوجاتا ہے۔
انسان آخرت کو مؤخر سمجھتا ہے، مگر اپنی موت کو مؤخر کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں۔
اسے یاد رکھنا چاہیے:
اس کی آخرت اس کی موت سے شروع ہوگی۔
اور موت کے لیے عمر کی کوئی ضمانت نہیں۔
اصل امتحان: ہم دنیا میں کتنے ہیں؟
یہ مضمون دنیا سے فرار کی دعوت نہیں دیتا بلکہ دنیا کے ساتھ صحیح تعلق سکھاتا ہے۔
دنیا میں رہو، مگر دنیا کے غلام نہ بنو۔
مال کماؤ، مگر مال تمہیں نہ خرید لے۔
اقتدار حاصل کرو، مگر اقتدار تمہیں اللہ سے غافل نہ کردے۔
شہرت ملے، مگر شہرت تمہاری آخرت نہ لے جائے۔
اپنی خواہش پوری کرو، مگر اللہ کی حدود کے اندر۔
یہی دنیا اور آخرت کے درمیان قرآنی توازن ہے۔
اگر ہم آخرت کو مانتے ہیں تو زندگی میں اس کا اثر کیوں نظر نہیں آتا؟
یہ سوال دوسروں سے زیادہ اپنے لیے ہے۔
ہم کہتے ہیں:
“ہم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
لیکن کیا ہمارے روزمرہ فیصلے بھی اس ایمان کی گواہی دیتے ہیں؟
کیا ہم تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھتے ہیں؟
کیا ہم اس وقت بھی سچ بولتے ہیں جب جھوٹ زیادہ فائدہ دے؟
کیا ہم حلال اختیار کرتے ہیں جب حرام زیادہ منافع دے رہا ہو؟
کیا ہم کسی کا حق اس وقت بھی ادا کرتے ہیں جب وہ مطالبہ نہ کرے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا پیغام عقیدے سے نکل کر کردار بن جاتا ہے۔
آخرت پر ایمان دراصل “فوری فائدے” کی غلامی سے آزادی ہے۔
دنیا کہتی ہے:
“ابھی فائدہ اٹھاؤ۔“
قرآن کہتا ہے:
“انجام دیکھو۔“
دنیا کہتی ہے:
“جو چاہو کرو۔“
ایمان کہتا ہے:
“تم جواب دہ ہو۔“
سورۂ القیامہ کا آئینہ
اگر ان آیات کو ایک آئینے کی طرح اپنے سامنے رکھا جائے تو اس میں تین چہرے دکھائی دیتے ہیں:
منکر:
“قیامت کب آئے گی؟”
غافل مؤمن:
“میں آخرت کو مانتا ہوں، مگر ابھی دنیا زیادہ ضروری ہے۔”
بیدار مؤمن:
“دنیا مجھے دی گئی ہے، مگر میں دنیا کے لیے نہیں بنایا گیا۔”
سوال یہ ہے:
ہم ان تینوں میں سے کس چہرے کے قریب ہیں؟
علاج کیا ہے؟
اگر بیماری العاجلة کی محبت ہے تو علاج دنیا چھوڑ دینا نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ تعلق درست کرنا ہے۔
اول: آخرت کو یاد رکھنا
روزانہ خود کو یاد دلانا کہ ایک دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
دوم: محاسبۂ نفس
دن کے اختتام پر پوچھنا: آج میں نے کیا کمایا؟ کیا کھویا؟ کس کا حق مارا؟ کس کا دل دکھایا؟ کیا نیکی کی؟
سوم: خواہش اور حق میں فرق کرنا
ہر خواہش پوری کرنا آزادی نہیں؛ کبھی خواہش کو روک دینا ہی حقیقی آزادی ہے۔
چہارم: دنیا کو ذریعہ بنانا
مال، علم، عہدہ اور طاقت کو آخرت کی کامیابی کے لیے استعمال کرنا۔
پنجم: توبہ کو مؤخر نہ کرنا
“بعد میں” انسان کے لیے ایک خاموش مگر خطرناک دھوکا بن سکتا ہے۔
اختتامیہ: شاید سوال یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی
سورۂ القیامہ کی یہ آیات انسان کے سامنے ایک ایسا سوال رکھتی ہیں جو شاید “قیامت کب آئے گی؟“ سے کہیں زیادہ اہم ہے:
“اگر قیامت آج ہی آجائے تو میری زندگی کیسی نظر آئے گی؟“
کیا میں اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوں؟
کیا میری کمائی میرے حق میں ہوگی یا میرے خلاف؟
کیا میرے رشتے میرے لیے گواہی دیں گے یا میرے خلاف؟
کیا میری زبان میرے لیے رحمت بنی یا دوسروں کے لیے اذیت؟
کیا میری طاقت کمزوروں کے کام آئی یا ظلم کا ذریعہ بنی؟
کیا میں نے دنیا کو آخرت کا راستہ بنایا، یا دنیا ہی کو اپنی آخری منزل سمجھ لیا؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ٢٠
وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ٢١
“ہرگز نہیں! بلکہ تم جلد مل جانے والی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔”
یہ آیت صرف قیامت کے منکر کے لیے نہیں؛ غافل مؤمن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
کیونکہ انکار زبان سے ہوتا ہے، مگر غفلت کبھی کبھی زندگی کے فیصلوں سے ظاہر ہوتی ہے۔
لیکن ابھی دیر نہیں ہوئی۔
ابھی سانس باقی ہے۔
ابھی توبہ ممکن ہے۔
ابھی حق ادا کیا جاسکتا ہے۔
ابھی حرام چھوڑا جاسکتا ہے۔
ابھی نماز اور قرآن کی طرف لوٹا جاسکتا ہے۔
ابھی اللہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
شاید اسی میں اس پورے پیغام کی سب سے بڑی امید پوشیدہ ہے:
قیامت آنے سے پہلے اگر انسان اپنے آپ کو پہچان لے تو قیامت کے دن اسے اپنے آپ سے نظریں چرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
دنیا فوری ہے، مگر مختصر۔
آخرت مؤخر ہے، مگر دائمی۔
عقل مند وہ نہیں جو صرف آج دیکھے؛ عقل مند وہ ہے جو آج کو کل کے لیے استعمال کرے۔
دنیا کو ہاتھ میں رکھے، اللہ کو دل میں رکھے، اور آخرت کو اپنی نگاہ سے اوجھل نہ ہونے دے۔
کیونکہ ایک دن وہ وقت ضرور آئے گا جب انسان پوچھے گا:
“اب کہاں جاؤں؟“
مگر اس دن جواب تیار کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔
جواب آج تیار کرنا ہے۔


