حقیقتِ انسان — ایک تفصیلی تحقیقی مقالہ
مختصر خلاصہ
حقیقت انسان مقالہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے فرق و مماثلت، خصوصاً انسان کی حقیقت و مقام کا منظم تجزیہ پیش کرتا ہے۔ پہلے مادی کائنات، نباتات اور حیوانات کی حرکت و عمل کی نوعیت بیان کی گئی ہے تاکہ انسان کی خصوصیت واضح ہو سکے۔ پھر حضرت شاہ ولی اللہؒ کے تقسیمِ کار الٰہی (امر، خلق، تدبیر) کی روشنی میں تخلیقِ انسان، روح اور دل کے باہمی تعلقات کو تفصیل کے ساتھ کھولا گیا ہے۔ مقالہ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ انسان جسمانی اعتبار سے حیوانات سے مماثل ہے مگر

روح اور دل کی علت اسے اخلاقی انتخاب اور روحانی کمال کی استعداد عطا کرتی ہے؛ اور یہ سب اللہ کی حکمتِ تدبیر کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔
حقیقتِ انسانی کی دریافت
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک ضعیف بچہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ضُعف انسان کی اصل حالت کو بتاتا ہے،یعنی انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سےعاجزِ مطلق (all-powerless) ہے۔ لیکن اس دورِ ضُعف میں انسان کو زندہ شعور حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے بچپن کے دور میں انسان اپنی حالتِ ضُعف (powerlessness)کو شعوری طور پر دریافت نہیں کرپاتا ۔ اس کے بعد انسان کے اوپر جوانی کا دور آتا ہے۔ جوانی کے دور میں انسان کو شعور کی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن اس وقت وہ اپنے شعور کو استعمال نہیں کرپاتا کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کرسکے۔ اس لیے زندہ شعور کے باوجود وہ حالتِ ضُعف سے بے خبر رہتا ہے۔ یہ صرف بڑھاپے کا دور ہے، جب کہ انسان اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ حالتِ ضُعف کا ادراک کرسکے۔
بڑھاپے کی عمر کیا ہے۔ ایک لفظ میں بڑھاپا عجز (powerlessness)کا تجربہ ہے۔ بڑھاپا کئی پہلوؤں سےزندگی کا ایک سخت ترین مرحلہ ہے۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ آدمی طبعی زندگی کے آخری ایام میں ہوتا ہے، اورموت سےبہت قریب ہوجاتا ہے۔دوسری وجہ ،تیزی کے ساتھ جسمانی قوت کا جاتے رہنا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی بڑھاپے کا دور انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی دور ہے۔یہ دور کسی انسان کے لیےاس کی اصل حقیقت کاجبری ادراک ہے۔ بڑھاپے سے پہلے انسان اپنے پہلےدو اَدوار (بچپن اور جوانی)کو پانے کے باوجود غفلت کی وجہ سے کھوچکا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے دورِ طفولیت (childhood)یا اپنے دور جوانی میں اپنی حقیقتِ واقعی کا ادراک کرسکے۔
انسان کا خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو جانے ۔ وہ اسی ادراک کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ لیکن ہر انسان یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ اپنے بچپن اور اپنی جوانی کے دور میں اپنی حقیقتِ واقعی کو دریافت کرنے سے بے خبر رہتا ہے۔ اس لیے خالق کی یہ منشا ہوتی ہے کہ وہ بڑھاپے کے دور میں انسان کوعجز کا احساس دلائے ، یعنی یہ کہ وہ اللہ رب العالمین کے مقابلے میں ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کے لیے اس زمین پر صحیح روش صرف یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو جانے، اور احساسِ عجز کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ بوڑھے انسانوں کا گویا یہ مشن ہے کہ وہ غیر بوڑھوں کو اس حقیقتِ انسانی سے باخبر کرے۔
اللہ رب العالمین کی دریافت کےبعد انسان کے لیے سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ حقیقتِ انسانی کی دریافت اپنی عجز کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ وہی انسان اپنی حقیقت کو دریافت کرتا ہے، جو اپنے عجز کو دریافت کرسکے۔قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں، جن کی منشا یہ ہے کہ انسان کو حقیقت کی دریافت کرائی جائے (الفتح، 48:11)۔ یہ حقیقت کہ انسان عاجز مطلق ہے، اور خداوند رب العالمین قادرِ مطلق (all-powerful)۔ اسی حقیقت کا شعوری ادراک معرفت (realization)کی اصل ہے۔https://cpsglobal.org/magazines/al-risala-april-2021/hqyqti-ansany-ky-dryaft
تعارف
ہمارے مشاہدے میں آنے والی مخلوقات بڑی عمومی طور پر چار اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہیں: جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان۔ ان چاروں طبقات میں حرکت، ارادہ اور خود اختیاری کے درجے مختلف ہیں۔ اس اختلاف کو سمجھنا انسانی حقیقت کے فہم کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہی فرق انسان کے اخلاقی، نظریاتی اور عملی اسلوب کو تشکیل دیتا ہے۔
جمادات (مادی اشیاء)
مادی اجسام کی حرکت کے بارے میں جدید طبیعیات نے واضح اصول بیان کیے ہیں۔ نیوٹن کے قوانینِ حرکت خصوصاً پہلا قانون یہ بتاتا ہے کہ کوئی جسم جب تک بیرونی قوت سے متاثر نہ ہو خود حرکت اختیار نہیں کرتا اور نہ رک سکتا ہے۔ اس نتیجے سے واضح ہوتا ہے کہ جمادات میں خود ارادی یا خود اختیاری موجود نہیں؛ ان کی تبدیلیاں یا تو بیرونی عوامل کا نتیجہ ہیں یا انہیں کسی نظامِ علت و معلول کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔
یعنی
جمادات ساکن یا متحرک ہوں، ان کا رویہ محض طبیعی عوامل و قوانین کے تابع ہے — ان میں ارادہ نہیں پایا جاتا۔
نباتات (پودے)
پودے زندہ ہیں؛ ان میں نمو، افزائش اور بعض تحریکات پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بیج کا پھٹنا، جڑوں کا نیچے جانا، تنوں یا شاخوں کا روشنی کی طرف جھکنا وغیرہ۔ یہ تحریکات اندرونی حیاتیاتی میکانزم اور کیمیائی سگنلنگ کے باعث ہیں، مگر پودے اس مقام پر نہیں پہنچ پاتے کہ اپنی جگہ تبدیل کرکے کسی آزادانہ سمت میں حرکت اختیار کریں۔ ان کی حرکت نشوونما اور ماحول کے مطابق ڈھلنے کی نوعیت کی حامل ہے، نہ کہ ارادی نقل و حرکت کی۔
یعنی
نباتات میں حیات کی خصوصیت موجود ہے، مگر وہ خود کو آزادانہ طور پر حرکت دینے اور پیچیدہ ارادی فیصلے لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
حیوانات (جانور)
حیوانات میں حرکت و ارادہ زیادہ واضح اور فعال سطح پر موجود ہے۔ جانور محسوس کرتے، بھاگتے، شکار کرتے، دفاع کرتے اور تولید کرتے ہیں۔ چارلس ڈارون کے تجزیے کے مطابق حیوانات کی زندگی عملاً بقا کے لیے جدوجہد ہے — اور یہ جدوجہد دو سطحوں پر جاری رہتی ہے ا۔ بقائے ذات (خود کی حفاظت و خوراک)، اور ب۔ بقائے نسل (تولید و ارتقاء)۔
حیوانی جبلتیں — بھوک، پیاس، غصہ، جنسی رغبت — عموماً فوری اور زبردست محرکات کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور جانور اکثر انہی محرکات کے تابع رہتے ہیں۔ ان پر قابو پانے کے لیے خارجی رکاوٹیں یا تربیت درکار ہوتی ہے؛ مثال کے طور پر مویشیوں کو کھانے سے روکنے کے لیے ڈنڈا یا چھڑی استعمال کی جاتی ہے۔
یعنی
حیوانات میں خودبخود حرکت اور بعض ارادی سلوک پایا جاتا ہے، مگر ان کے داخلی جذبات و خواہشات پر مکمل کنٹرول محدود ہوتا ہے۔
انسان — مماثلت اور امتياز
انسان جسمانی طور پر حیوانات سے بہت مشابہ ہے: وہی اعضاء، وہی حیاتیاتی نظام، خون، دل، دماغ وغیرہ۔ البتہ انسان کی خاصیت اس کی عقلی شعور، اخلاقی شعور اور فرمانبردار ارادے میں ہے۔ انسان میں بھوک، پیاس، غصہ اور شہوت وہی ہیں، مگر وہ ان جذبات کو نظری و اخلاقی فیصلوں کے ساتھ، شعوری طور پر کنٹرول کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ماہِ رمضان میں روزہ رکھ کر انسان جان بوجھ کر کھانے پینے سے خود کو روکتا ہے جبکہ آس پاس کے حالات ویسے ہی رہتے ہیں۔
ایہ آزادیِ انتخاب انسانی تجربے کا بنیادی مرکز ہے—اسی وجہ سے انسان خدا کے سامنے ذمّہ دار ٹھہرتا ہے؛ نہ صرف عمل بلکہ نیت و ارادہ بھی اس کے احتساب کے دائرے میں آتے ہیں۔
اللہ کے کام: امر، خلق اور تدبیر (حضرت شاہ ولی اللہؒ کا تقسیمِ کار)
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اللہ کے اعمال کو تین قالبوں میں تقسیم کیا: امر، خلق، تدبیر۔ یہ تقسیم تخلیق کے مختلف طریقِ کار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
امر
امر وہ براہِ راست الہامی حکم ہے جو فوراً انجام پاتا ہے — مثلاً اللہ کا کسی چیز کو “ہو جا” کہنا اور وہ فوراً وجود میں آ جانا۔ امر میں وقت یا اسباب کی ضرورت نہیں مانی جاتی اور نہ ہی انسان اس کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے نہ ہی اسکی کوئی وضاحت کی جاسکتی ہے۔
خلق
خلق تدریجی اور طبیعی عمل ہے جس میں اسباب اور مراحل کا دخل ہوتا ہے؛ یہ وہ شعبہ ہے جسے انسان تجربہ، تحقیق اور علومِ طبعیہ کے ذریعے جان سکتا ہے۔ مثلاً نباتات اور حیوانات کا بننا عمومی طور پر خلق کے زمرے میں آتا ہے۔
تدبیر
تدبیر ایک جامع اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی حکمتِ کاملہ کے تحت مختلف اسباب، عوامل اور حالات کو اس انداز سے مربوط کرنا کہ وہ کسی خاص مقصد یا نتیجے کی طرف میل کھائیں۔ تدبیر میں امر و خلق دونوں کا امتزاج ہوتا ہے: بعض چیزیں براہِ راست حکم سے بھی واقع ہوتی ہیں اور بعض اسباب کے ذریعے — مگر دونوں کی ترتیب و ہم آہنگی اللہ کی تدبیر کے تحت ہوتی ہے۔
تدبیر — تفصیلی وضاحت اور مثالیں
تدبیر وہ نظامِ ربوبیت ہے جس میں بظاہر جداگانہ اور متضاد عوامل ایک معنوی اور حکمتِ والا مقصد پورا کرتے ہیں۔ تدبیر کی وضاحت درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
تدبیر کی بنیادی خصوصیات
منصوبہ بندی: اللہ سب سے پہلے کسی واقعے یا مقصد کا فیصلہ فرماتا ہے۔
اسباب کو سازگار بنانا: پھر وہ وہ تمام اسباب، حالات اور محرّکات جو اس کام کے لیے ضروری ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔
اختتام تک رہنمائی: تدبیر کا عمل اس نتیجے تک پہنچنے تک جاری رہتا ہے، چاہے یہ نتیجہ ایک ذاتی واقعہ ہو یا وسیع تاریخی تبدیلی۔
عملی مثالیں
بارش اور موسمی نظام: سورج کی حرارت سے پانی بخارات بنتا ہے، ہوائیں انہیں منتقل کرتی ہیں، بادل بنتے ہیں، بجلی و دیگر عوامل برپا ہوتے ہیں، اور آخرکار بارش برستی ہے۔ بظاہر یہ فزیکل عمل ہے مگر تدبیر کے طور پر اس میں زندگی و رزق کی فراہمی کا حکمتِ والا منصوبہ جڑا ہوتا ہے۔
انسان کی پیدائش: نطفہ سے انسان بننے کا عمل مجرد خلیاتی و حیاتیاتی اسباب کو شامل کرتا ہے — مگر اس پورے عمل کا انتظام، رحمِ مادر کی حفاظت، غِذائیت و ہارمونز کی ترتیب، سب مل کر ایک منظم تدبیر کو جنم دیتے ہیں۔
تاریخی و سماجی تبدیلیاں: قومی عروج و زوال، انقلابات، علمی ارتقاء — یہ سب بظاہر انسانی عمل اور حالات کا نتیجہ دکھائی دیتے ہیں، مگر قرآنی نقطۂ نظر کے مطابق یہ بھی اللہ کی تدبیر کا حصہ ہو سکتے ہیں جس کے ذریعہ قومیں آزمائی جاتی ہیں یا امتحان میں ڈالی جاتی ہیں۔
ذاتی کائناتی ذرائع: کسی آدمی کے کامیاب یا ناکام ہونے میں بظاہر تعلیم، محنت، مواقع اور مرضیات کا کردار ہوتا ہے؛ مگر یہ تمام عوامل ایک بڑے الٰہی نقشے میں کھل کر اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔
تدبیر اور انسان کی آزادی
تدبیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان کا اختیار اور عمل غیر موثر ہیں۔ تدبیر اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اللہ نے اس دنیا کو اس طرح ترتیب دیا کہ انسان کے اعمال کے اندرونی و بیرونی نتائج کی صورتِ حال بھی ایک منظم حکمت کے تحت آتی ہیں۔ انسان اپنے اختیارات کے مطابق عمل کرے گا اور نتیجہ بھی اسے پہنچیگا — مگر ان نتائج کی تکمیل اللہ کی کلی تدبیر کے دائرے میں واقع ہوتی ہے۔ لہٰذا ذمہ داری و اختیار دونوں باہم موجود ہیں۔
انسان کی داخلی کشمکش اور ہدایت کا عمل
انسان کی اصل آزمائش اس کے دل (قلب) میں ہے، جو بیک وقت دو طرفہ اثرات کے بیچ کھڑا ہے۔ ایک طرف نفسِ حیوانی ہے جو اسے بھوک، پیاس، غصے اور شہوت کے تقاضے کرتا ہے، اور دوسری طرف روحِ انسانی ہے جو اللہ کی معرفت، اس کی محبت، خیر کی رغبت اور شر سے نفرت کی دعوت دیتی ہے۔ یوں دل ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جہاں ہر لمحہ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس سمت قدم بڑھائے گا۔

نبوی ارشاد:
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ “جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے؛ اگر وہ صحیح ہوا تو پورا جسم صحیح ہوگا، اور اگر وہ خراب ہوا تو پورا جسم خراب ہوگا؛ جان لو وہ دل ہے۔” اس حدیث کا مقصد دل کی صفائی و اصلاح کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
علامہ اقبال نے انسان کے اس مقام کو نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے:
؎ خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی، اس کا دل بے نیاز
اسی حقیقت کی بنا پر اقبال نے دل کو “خودی” کا نام دیا، جو “خدا” کا اسمِ تصغیر ہے۔ یہ خودی انسان کو یہ قوت عطا کرتی ہے کہ وہ نیکی یا بدی کے راستے پر بالکل آزادانہ فیصلہ کرے۔ چنانچہ اگر دل نیکی کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے لئے اگلا نیک قدم آسان ہو جاتا ہے، اور اگر بدی کو اختیار کرتا ہے تو پھر برائی کا راستہ مزید سہل ہو جاتا ہے۔
دل کا شیشہ اور قرآنی تمثیل
قرآنِ مجید سورۃ النور (آیت 35) میں انسانی ہدایت کو ایک عظیم تمثیل کے ذریعے سمجھاتا ہے: روح کو چراغ (مصباح)، دل کو شیشہ (زجاجہ) اور سینہ کو طاق (مشکوٰۃ) قرار دیا گیا ہے۔ شیشہ (دل) کی صفائی ہدایت کے لئے فیصلہ کن ہے۔ اگر شیشہ صاف اور شفاف ہوگا تو چراغ کی روشنی پورے وجود میں سرایت کرے گی اور انسان کے اعمال نیک بن جائیں گے۔ لیکن اگر حیوانی تقاضوں کی غبار اور گندگی دل کے شیشے کو ڈھانپ لے تو روشنی گزر نہیں سکتی۔ نتیجتاً روح کی کرنیں جسم میں اتر نہیں پاتیں اور جب وحی کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی بھی دل تک نہیں پہنچتی۔
یہی سبب ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت خدیجہؓ جیسے نفوسِ قدسیہ نے اپنے دلوں کو پاک و صاف رکھا تو وہ نورِ وحی کو فوراً قبول کرنے والے بن گئے۔ کیونکہ روح اور وحی دونوں ایک ہی الٰہی ماخذ رکھتے ہیں، اس لئے جب وحی کی کرن صاف دل پر پڑتی ہے تو دل میں نور کی گونج پیدا ہوتی ہے۔ قرآن اسی کیفیت کو “نُورٌ عَلٰی نُورٍ“ سے تعبیر کرتا ہے۔
خیر و شر کی پہچان
انسان اپنی فطرت میں ہر وقت خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہے:
؎ ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کے نظر کہاں
یہ جستجو دراصل اس میثاقِ الست کی یاد دہانی ہے، جب اللہ نے سب ارواح کو اپنے سامنے حاضر کر کے پوچھا تھا: “اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟“ (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟) تو سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا: “بَلٰی شَھِدْنَا“ (کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں)۔ اسی وجہ سے انسان کے دل میں خیر و شر کا شعور ودیعت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچ بولنا درست اور دھوکہ دینا غلط ہے، خواہ اس کے والدین یا اساتذہ نے اسے بتایا ہو یا نہیں۔
دل کی سیاہی اور ضمیر کی موت
جب دل کا شیشہ حیوانی خواہشات کی گرد سے اَٹ جائے تو سینے میں ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے کہ قرآن کے مطابق انسان اپنے ہی ہاتھ کو دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس مرحلے پر خیر و شر کی پہچان ختم اور ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی کیفیت پر نوحہ کرتے ہیں:
؎ وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
دعا برائے دلِ بینا
اسی لیے علامہ اقبال نے اللہ سے “دلِ بینا” یعنی روشنی کو دیکھنے والا دل مانگنے کی تلقین کی:
؎ دلِ بینا بھی خدا سے کر طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
قرآن بھی اعلان کرتا ہے:
“اِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ“
(یقیناً آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں)۔
ضمیر، اخلاق اور عملی اطلاق
دل کی صفائی کا علمی و عملی تناظر اخلاقی تعلیمات، عبادات اور سماجی تربیت کے ذریعے ممکن ہے۔ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیہ نفس وہ عملی طریقے ہیں جو دل کو شفاف بناتے ہیں اور روح کی روشنی کو فروغ دیتے ہیں۔ جب دل صاف ہو تو انسان کا رویہ عدل، انصاف، احسان اور صبر کی طرف ہوتا ہے — یہ اجتماعی فلاح و بہبود کی بنیاد ہے۔
حاصل کلام
انسان کی حقیقت کی سمجھ: انسان ایک مادی حیاتیاتی وجود کے ساتھ روحانی حیثیت بھی رکھتا ہے؛ یہی امتزاج اسے کائنات میں ممتاز بناتا ہے۔
تدبیر کا ادراک: کائنات میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر پوشیدہ ہے؛ انسان کو اس نظم کو سمجھ کر اپنے اعمال میں احتساب اور نیت کی پاکیزگی رکھنی چاہیے۔
دل کی صفائی بطور اوّلین قدم: اخلاقی و روحانی اصلاح کی شروعات دل کی صفائی سے ہوتی ہے؛ عملی طور پر اس کے لیے عبادات، ذکر اور اخلاقی تربیت ضروری ہے۔
علم و عمل کا امتزاج: علمی تحقیقات (علمِ طبع، تاریخ، معاشیات) اور روحانی بصیرت دونوں مل کر انسان کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
سماجی پالیسیز: ریاستیں اور معاشرے ایسے ادارے قائم کریں جو نفسیاتی تربیت، اخلاقی تعلیم اور مواقع کی فراہمی کے ذریعے افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق مثبت سمت میں موڑ سکیں۔

