الفاظ کی قدر و قیمت — کلمہ طیبہ، کلمہ خبیثہ اور جدید سلوگن کلچر کا اخلاقی تجزیہ
تعارف۔
یہ مضمون اس بات کو واضح کرتا ہے کہ آج کے دور میں جو مشہور تجارتی یا سماجی سلوگنز (فقرے اور جملے) استعمال ہوتے ہیں، وہ بظاہر پرکشش اور فائدہ مند دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ہماری سوچ، کردار اور اخلاقیات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی سورہ ابراہیم (آیات 24 تا 27) کی روشنی میں “کلمہ طیبہ” اور “کلمہ خبیثہ” کے مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔ مضمون میں تعلیمی اور نفسیاتی تحقیق کی مدد سے ان نعروں کے اثرات کو سمجھایا گیا ہے، اور آخر میں ایک امید افزا، روحانی اور اخلاقی پیغام دیا گیا ہے جو قاری کو مثبت سوچ کی طرف راغب کرتا ہے۔
حصہ اول۔ سلوگنز کے نفسیاتی اصول اور اثرات
. نفسیاتی بنیادیں
سلوگنز انسانی دماغ پر کئی نفسیاتی اصولوں کی بنیاد پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں
Rhyme-as-Reason Effect
یعنی قافیہ دار جملے سچ محسوس ہوتے ہیں۔
Mere Exposure Effect
اور کسی چیز کو بار بار دیکھنے یا سننے سے اس پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔
Affect Heuristic
اور (فیصلے جذبات کی بنیاد پر کرنا) شامل ہیں۔ یہ تمام اثرات غیر شعوری طور پر انسانی سوچ کو متاثر کرتے ہیں، اور لوگ بنا تنقیدی سوچ کے ان نعروں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔
مثلاً
Just Do It” (Nike)
یا
Because You’re Worth It (L’Oréal)۔
ایسے سلوگنز عام طور پر سادہ، آسانی سے یاد رہنے والے، اور دِل کو بھانے والے ہوتے ہیں
یہ جملے بار بار اشتہارات میں سنائے اور دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ ذہن نشین ہو جائیں۔ مگر حقیقت میں یہ اکثر حقائق سے برعکس، جذبات کو چکمہ دینے والے، اور اخلاقی لحاظ سے مبہم یا گمراہ کن پیغام دیتے ہیں، جس سے فرد کی فکری گہرائی اور اخلاقی بصیرت کمزور پڑ سکتی ہے۔
یہ نفسیاتی حربے نہ صرف مارکیٹنگ میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ سماجی اور سیاسی بیانیے میں بھی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں، جس کا دائرہ تعلیم، تہذیب، اور روحانیت تک پھیل جاتا ہے۔
حصہ دوم۔ سلوگنز کی مثالیں اور ان کا تجزیہ
“تم ہی تو ہو” — (Ufone)
ظاہری مفہوم ۔
اس نعرے میں مخاطب کو یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہی سب کچھ ہے — سب کی توجہ کا مرکز، سب سے خاص، اور گویا کائنات اسی کے گرد گھوم رہی ہو۔ یہ بات بظاہر خوشنما اور دل کو لگنے والی ہے۔
باطنی اثر ۔
لیکن اس قسم کا پیغام انسان میں خود پسندی، انا پرستی، اور دوسروں سے برتر ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ فرد دوسروں کے جذبات، حقوق، اور سماجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ اسے اپنی ذات سب سے اہم اور باقی سب غیر اہم دکھائی دیتے ہیں۔
یہ دراصل کلمہ خبیثہ (گمراہ کن اور نقصان دہ پیغام) کی ایک شکل ہے، جو انسان کو نرمی، عاجزی اور باہمی ہمدردی سے دور کرکے اپنے نفس کا بندہ بنا دیتی ہے۔ یہ پیغام بیرونی طور پر محبت بھرا لگتا ہے، لیکن اندرونی طور پر روحانی زہر کی طرح ہے جو فرد کو اجتماعی سوچ سے کاٹ کر تنہائی، خود غرضی اور اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
میری مرضی — (سماجی و فیمینسٹ نعروں میں عام)
ظاہری مفہوم۔
اس نعرے کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق ہے — آزادی، خودمختاری اور خوداعتمادی کا اظہار۔ یہ بات پہلی نظر میں مثبت اور طاقت بخش محسوس ہوتی ہے۔
باطنی اثر۔
مگر جب یہ نعرہ کسی دینی، اخلاقی، خاندانی یا سماجی دائرے سے ہٹ کر محض “میں جو چاہوں وہی درست ہے” کے اصول پر استوار ہو جائے، تو یہ فرد کو خودسری، ضد، اور لامحدود خود ارادیت کی طرف دھکیلتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں نہ کسی بزرگ کی نصیحت کی گنجائش رہتی ہے، نہ سماجی اقدار کا لحاظ، نہ دین کی رہنمائی کا احساس۔ انسان اپنی خواہش کو ہی معیارِ حق سمجھنے لگتا ہے۔
یہ نعرہ درحقیقت انا پرستی کے شجرِ خبیثہ (نقصان دہ درخت) کو پانی دیتا ہے، جو فرد کو باہمی احترام، قربانی، اور ذمہ داری جیسے اعلیٰ انسانی و اسلامی اوصاف سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کا انجام معاشرتی انتشار، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، اور روحانی خلا کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
زندگی ایک بار ملتی ہے (YOLO)
ظاہری مفہوم۔
اس جملے کا بظاہر مطلب ہے کہ زندگی مختصر ہے، اس لیے اسے بھرپور انداز میں جینا چاہیے — وقت ضائع نہ کرو، دل کی مانو، خوش رہو، اور موقعوں سے فائدہ اٹھاؤ۔
باطنی اثر۔
لیکن اس سوچ کے پیچھے جو پیغام چھپا ہے وہ یہ ہے کہ زندگی کا مقصد صرف لطف اٹھانا اور خواہشات کی تکمیل ہے۔ اس طرزِ فکر میں نہ آخرت کا تصور رہتا ہے، نہ ذمہ داری کا شعور، اور نہ ہی کسی بڑے مقصد کی طرف رہنمائی۔ انسان صرف حال میں جینے کا عادی ہو جاتا ہے، اور انجام یا اثرات کی پروا کیے بغیر زندگی گزارتا ہے۔
یہ نعرہ دراصل کلمہ خبیثہ کی ایک جدید اور چمک دار شکل ہے، جو بظاہر آزادی اور خوشی کا پیغام دیتا ہے، مگر اندر سے انسان کو عقل، بصیرت، مقصدِ حیات اور روحانی بیداری سے غافل کر دیتا ہے۔ یہ طرزِ فکر انسان کو ایک سطحی، خواہش پرست اور غیر ذمہ دار مخلوق بنا دیتا ہے — جو صرف “ابھی” اور “مجھے کیا ملے گا” پر جیتی ہے، نہ کہ “کیوں جینا ہے” اور “کہاں جانا ہے”
“کیونکہ آپ خاص ہیں” — (کاسمیٹک و لائف اسٹائل برانڈز)
ظاہری مفہوم۔
یہ نعرہ سننے میں دل کو خوش کرتا ہے — جیسے صارف واقعی عزت کے لائق ہے، منفرد ہے، اور اس کی اہمیت مسلم ہے۔ بظاہر یہ پیغام خود اعتمادی، وقار اور خود شناسی کو بڑھاوا دیتا ہے۔
باطنی اثر۔
لیکن حقیقت میں یہ جملہ اکثر ایک جھوٹا احساسِ برتری پیدا کرتا ہے۔ انسان خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے، اور دوسروں کی خوبیوں یا حقوق کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سوچ خود غرضی، مصنوعی خود اعتمادی، اور ایک ایسی مقابلہ بازی کو جنم دیتی ہے جو دوسروں کو نیچا دکھانے پر قائم ہوتی ہے۔
یہ نعرہ دراصل کلمہ خبیثہ کی ایک دلکش شکل ہے، جو انسان کو عاجزی، باہمی احترام اور حقیقی خود شناسی سے دور لے جا کر ایک جھوٹے فخر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ انسان ظاہری بناوٹ اور مارکیٹنگ کے جھانسے میں آ کر اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے، اور اصل انسانیت — جو انکساری، سچائی اور تعلق مع اللہ سے عبارت ہے — پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
جیو اور جینے دو — (عام سیاسی/سماجی سلوگن)
ظاہری مفہوم۔
یہ نعرہ بظاہر رواداری، برداشت، اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھاتا ہے۔ اس میں ایک پرامن، باہمی ہم آہنگی پر مبنی معاشرے کا تصور پیش کیا جاتا ہے، جہاں ہر فرد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق حاصل ہو۔
باطنی اثر۔
لیکن جب یہی نعرہ حق و باطل کے فرق کو مٹانے، برائی کو نظرانداز کرنے، اور دین کی سچائی کو خاموش رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ایک غلط سوچ کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ بعض لوگ اس نعرے کی آڑ میں نہ صرف گمراہی کو قبول کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی سچ بولنے یا اصلاح کرنے سے روکتے ہیں۔ اس طرح یہ سلوگن غیر محسوس طریقے سے معاشرتی و دینی اقدار کو کمزور کرنے لگتا ہے۔
یہ نعرہ جب بے قید آزادی، مذہبی غیر جانبداری، یا اخلاقی بے راہ روی کے جواز کے طور پر استعمال ہو، تو یہ واضح طور پر کلمہ خبیثہ کے زمرے میں آتا ہے — ایک ایسا زہریلا پیغام جو نرمی کی آڑ میں حق کو دبانے اور باطل کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
حصہ سوم۔ قرآنی تجزیہ — سورہ ابراہیم کی روشنی میں
کلمہ طیبہ اور شجر طیبہ (آیات 24–25)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک پاک درخت سے دی ہے؟ جس کی جڑ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے۔
(سورہ ابراہیم۔ 24–25)
اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلمہ طیبہ کو ایک شجرِ طیبہ (پاکیزہ درخت) سے تشبیہ دیتے ہیں — ایسا درخت جس کی جڑیں زمین میں گہری اور مضبوط ہوں، اور شاخیں بلند آسمانوں تک پہنچی ہوئی ہوں۔ یہ درخت ہر وقت، ہر موسم میں اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے، یعنی اس کا فیض جاری رہتا ہے۔
تفسیری نکات (سید قطب، ابن کثیر، مودودی)۔
کلمہ طیبہ سے مراد وہ سچے، نفع بخش اور خیر سے بھرپور کلمات ہیں جو توحید، ایمان، صدق، امانت اور سچائی پر مبنی ہوں۔
ایسا کلمہ انسان کے دل میں ایسے پیوست ہو جاتا ہے جیسے درخت کی جڑ زمین میں ہوتی ہے — گہری، پائیدار اور غیر متزلزل۔
اس کی تاثیر صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال، خیالات، تعلقات، رویے، اور یہاں تک کہ قوموں کی اجتماعی تقدیر پر بھی پڑتا ہے۔
سید قطب کے مطابق، یہ درخت صرف ظاہر میں بلند نہیں ہوتا بلکہ اس کی روحانی گہرائی اور عملی برکت بھی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ ابن کثیر اور مودودی دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسا کلمہ انسان کو داخلی طور پر پاک کرتا ہے اور خارجی طور پر معاشرے میں بھلائی پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
گویا کلمہ طیبہ صرف ایک اچھی بات نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک اور بابرکت سچائی ہے جو ایمان لانے والے کی پوری زندگی کو سنوارتا ہے — اور معاشروں کو رشد، ہدایت، اور فلاح کی طرف لے جاتا ہے۔
کلمہ خبیثہ اور شجر خبیثہ (آیت 26)
“اور بری بات کی مثال اس گندے درخت جیسی ہے جسے زمین سے اکھاڑ دیا گیا ہو، اس میں کوئی قرار اور ٹھہراؤ نہیں۔“
(سورہ ابراہیم۔ 26)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کلمہ خبیثہ (بری بات) کو ایک شجرِ خبیثہ (ناپاک درخت) سے تشبیہ دیتے ہیں — ایسا درخت جو زمین میں جڑ پکڑنے کے قابل نہیں ہوتا، جو نہ صرف کمزور ہوتا ہے بلکہ آسانی سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی پائیداری، برکت یا ثمر نہیں ہوتا۔
تفسیری نکات (سید قطب، ابن کثیر، مودودی)۔
کلماتِ خبیثہ سے مراد وہ باتیں اور افکار ہیں جو جھوٹ، شرک، فریب، لالچ، خواہش پرستی، اور باطل نظریات پر مبنی ہوں۔
بسا اوقات یہ باتیں سننے میں خوشنما اور متاثر کن لگتی ہیں — جیسے جدید دنیا کے بعض سلوگنز یا فلسفے — لیکن درحقیقت ان میں نہ کوئی روحانی گہرائی ہوتی ہے، نہ سچائی، نہ اخلاقی بنیاد، اور نہ دیرپا اثر۔
یہ افکار وقتی طور پر دل و دماغ کو لبھاتے ہیں، لیکن انسان کو داخلی طور پر کھوکھلا اور معاشرے کو فکری و اخلاقی زوال کی طرف لے جاتے ہیں۔
جیسا کہ مفسرین بتاتے ہیں، یہ وہ “درخت” ہیں جن کی نہ کوئی جڑ ہے، نہ کوئی ثمر — یعنی یہ افکار اور سلوگنز ایسے فریب ہیں جو وقتی چمک کے باوجود انجام کے لحاظ سے تباہ کن ہوتے ہیں۔
یہی وہ سلوگنز ہیں جو آج کے دور میں معاشرتی دھوکہ اور اخلاقی زہر کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ وہ لوگوں کو اپنے نفس، خواہشات، یا سطحی خوشیوں کی طرف مائل کرتے ہیں، جبکہ سچائی، تقویٰ، اور اجتماعی فلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ قرآن کی یہ مثال ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ان کلماتِ خبیثہ سے بچنا نہ صرف انفرادی نجات کے لیے ضروری ہے، بلکہ ایک صالح معاشرے کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
کلمہ طیبہ کی وضاحت
“پاکیزہ کلمہ” — یعنی ایسا کلمہ جو سچائی، خیر، اور ہدایت پر مبنی ہو، جو دل و دماغ کو پاک کرتا ہے، اور جس کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوں۔
قرآنی تعریف (سورۃ ابراہیم: آیت 24)
“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمے کی مثال دی: اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔“
کلمہ طیبہ کا جامع مفہوم
| وضاحت | پہلو | |
| “لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ” | الفاظ | |
| صرف ایک خدا کی بندگی، باقی سب باطل کا انکار | عقیدہ | |
| انسان کو جھوٹ، خودغرضی، شرک، ظلم، فریب سے پاک کرتا ہے | معنوی اثر | |
| کردار کی اصلاح، معاشرتی عدل، دل کا سکون، آخرت کی نجات | نتائج | |
| یہ الفاظ صرف نعرہ نہیں، بلکہ مکمل نظریۂ حیات کی بنیاد ہیں | فکری مقام |
کلمہ طیبہ کی خوبیاں
ہدایت کا سرچشمہ — صرف راستہ دکھاتا نہیں، بلکہ روشنی بھی فراہم کرتا ہے۔
اخلاق کی بنیاد — سچ، عدل، صبر، رحم، ایثار جیسے اوصاف اسی سے جنم لیتے ہیں۔
معاشرتی تطہیر — فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
نظامِ زندگی کی بنیاد — یہ کلمہ انسان کو خودغرض سلوگنز کے بجائے ایک با مقصد طرزِ حیات فراہم کرتا ہے۔
حصہ چہارم۔ سلوگنز بمقابلہ کلمہ طیبہ
یہ حصہ موجودہ دور کے مقبول سلوگنز اور قرآنِ مجید کے بیان کردہ کلمہ طیبہ و خبیثہ کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ موازنہ نہ صرف فکری اور روحانی سطح پر بصیرت فراہم کرتا ہے، بلکہ قاری کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ کن افکار کی پیروی کر رہا ہے — وقتی خوشنمائی یا دائمی حقیقت؟
| سلوگنز کی نوعیت | کلمہ طیبہ / خبیثہ کا قرانی تصور | پہلو |
| مثال
Just Do It لذت، فائدہ، فوری توجہ حاصل کرنا صارف کی توجہ حاصل کرنا، جذبات بھڑکانا، فوری فائدہ دینا، |
انسان کو ہدایت دینا، مقصدِ زندگی سے جوڑنا، اخلاق و ایمان کی بنیاد رکھنا | مقصد |
| وقتی، مدھم، اثرات بدلتے رجحانات پر مبنی، جذباتی کیفیت کے ساتھ مدھم ہو جانے والے | مضبوط جڑوں والا، فکری و روحانی طور پر پائیدار، نسلوں تک اثر رکھنے والا | استحکام |
| مثال
Because You’re Worth it خود پسندی، بے مقصدی، مقابلہ بازی، نفس پرستی، اضطراب |
سکونِ قلب، نیک عمل، احساسِ ذمہ داری، قربانی، نجات، فکری و سماجی اصلاح | اثرات |
| صارفیت، سرمایہ داری، اشتہار بازی، نفس پرستی، لذت پرستی، فریبِ جذبات | وحی، عقلِ سلیم، فطرتِ انسان، دینِ اسلام، صدق، توحید، خیر | بنیاد |
تبصرہ۔
یہ جدول ظاہر کرتا ہے کہ سلوگنز کی چمک دمک وقتی اور جذباتی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ کلمہ طیبہ روح کی گہرائیوں میں اُتر کر فرد اور معاشرے دونوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سلوگنز ایک ایسی مصنوعی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو خواہشات اور لذتوں کے گرد گھومتی ہے، جبکہ کلمہ طیبہ ایک ایسی حقیقت کا مظہر ہے جو دل، عقل، اور روح کو یکجا کر کے انسان کو اس کے اصل مقصد سے جوڑتا ہے۔
یہ فرق سمجھنا آج کے دور میں نہایت اہم ہے، کیونکہ سچ اور فریب کے درمیان لائن اب بہت باریک ہو چکی ہے۔
سلوگنز بمقابلہ کلمہ طیبہ — نیا زاویہ
سلوگن کہتا ہے
تم وہی ہو جو تم چاہتے ہو
کلمہ طیبہ کہتا ہے
تم وہ بنو جو اللہ چاہتا ہے
حصہ پنجم۔ سفارشات
سماج میں زبان کے اثرات کو مثبت بنانے اور فریب آمیز سلوگنز کے اثر سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔
انفرادی تنقیدی شعور۔
ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی روزمرہ گفتگو، مطالعے، اور میڈیا پر آنے والے الفاظ، نعروں اور جملوں کا تنقیدی جائزہ لے — یہ دیکھے کہ کوئی جملہ صرف دل بہلانے والا ہے یا اس کے پیچھے کوئی فکری، اخلاقی یا روحانی سمت بھی ہے۔
نصاب میں اصلاح۔
تعلیمی نصاب میں زبان کی روحانی، فکری اور تہذیبی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ طلبہ کو “کلمہ طیبہ” اور “کلمہ خبیثہ” کے قرآنی مفاہیم کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے فریب آمیز نعروں کا تنقیدی شعور بھی دیا جائے۔
میڈیا پالیسی کی اصلاح۔
حکومت اور متعلقہ ادارے میڈیا اور اشتہارات میں استعمال ہونے والے اخلاق سوز، لذت پرست اور خود پرستی کو ابھارنے والے سلوگنز پر پابندی لگائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مثبت، اخلاقی اور فکری پیغام رکھنے والے نعروں اور مہمات کے لیے انعامات اور ترغیبات دی جائیں۔
برانڈز کے لیے سماجی پیمانہ۔
اشتہاری ادارے اور برانڈز سلوگن بناتے وقت صرف تجارتی فائدے کو نہ دیکھیں بلکہ یہ بھی جانچیں کہ ان کے الفاظ کا سماج، سوچ اور اخلاق پر کیا اثر پڑے گا۔ ایک نیا “سماجی اثر کا پیمانہ” وضع کیا جائے تاکہ اشتہارات اخلاقی ذمے داری کے تحت بنیں۔
رہنماؤں کی ذمے داری۔
علما، اساتذہ، اور والدین کو چاہیے کہ نوجوان نسل کو اس شعور سے آشنا کریں کہ ہر لفظ ایک سمت دیتا ہے — یا وہ فطرت اور ہدایت سے جُڑنے والا ہوتا ہے، یا وہ محض وقتی ہوتا ہے جو جڑ سے اکھڑ کر بکھر جاتا ہے۔ یہ شعور نوجوان ذہنوں کو سچ اور فریب میں فرق کرنے کے قابل بناتا ہے۔
یہ سفارشات فرد، تعلیمی ادارے، میڈیا اور معاشرے کے ہر طبقے کو شامل کرتے ہوئے ایک ایسی فکری فضا پیدا کرنے کی دعوت دیتی ہیں جو زبان کی طاقت کو خیر، فلاح اور ہدایت کے لیے بروئے کار لاتی ہے۔
اختتامی پیغام
اے اہلِ شعور و اہلِ ایمان!
یہ دنیا الفاظ کی رزم گاہ ہے۔
روز تمہاری سماعت اور بصارت پر ایسے الفاظ کی بارش ہوتی ہے جو تمہیں خود پرستی، وقتی لذت، اور بے فکری کے راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
یہ دراصل کلماتِ خبیثہ ہیں — جن کی نہ کوئی جڑ ہے، نہ ثمر، نہ ٹھہراو۔
ان سے ہوشیار رہو!
اپنے دل و دماغ کو ان کے فریب سے بچاؤ۔
کلمہ طیبہ کو پہچانو — وہی سچا، پاکیزہ، اور بابرکت کلمہ جو توحید، اخلاص، خیر اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
اسی کے ساتھ جڑ جاؤ، اسی میں تمہاری اصل بقا ہے۔
“جس کی جڑ زمین میں مضبوط ہو، اور شاخیں آسمان تک ہوں…”
— (سورہ ابراہیم۔ آیت 24)



