ادراکِ عظمتِ الٰہی کی اہمیت

The Quran identifies humanity’s greatest crisis as a failure to recognize Allah’s true greatness. This analytical study explores how distorted concepts of God lead to intellectual, moral, and civilizational decline — and how the Quran offers a complete reformative framework.

 

 

ادراکِ عظمتِ الٰہی کی اہمیت

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ

(قرآنی آیات کا جامع تجزیہ اور انسانی اصلاح کا الٰہی منہج)

ادراکِ عظمتِ الٰہی

قرآن مجید محض احکامات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے “تصورِ خدا” کی تصحیح کا نام ہے۔ انسانی گمراہی کی تمام شکلوں—خواہ وہ شرک ہو، انکارِ وحی ہو یا مادہ پرستی—کی جڑ ایک ہی ہے، جس کی تشخیص قرآن نے ان الفاظ میں کی: “وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ” (اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا)۔

یہ جملہ ایک روحانی اور فکری بیماری کی علامت ہے: یعنی اللہ کی عظمت، حکمت اور قدرت کا وہ ناقص ادراک جو انسان کو سرکشی یا غفلت کی طرف لے جاتا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ اس جملے کے قرآنی سیاق و سباق اور اس سے برآمد ہونے والے منہجِ اصلاح کا احاطہ کرتا ہے۔

حصہ اول: قرآنی مقامات کا تقابلی و سیاقی مطالعہ

قرآن مجید میں یہ جملہ تین مختلف تناظر میں آیا ہے، جو انسانی زندگی کے تین اہم ستونوں (عقیدہ، عمل اور انجام) کا احاطہ کرتے ہیں:

  1. علمی و فکری سطح پر کوتاہی (سورۃ الانعام 6:91)

 * سیاق: منکرینِ وحی کا یہ دعویٰ کہ “اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔”

 * تشخیص: یہاں “قدر نہ کرنے” کا مطلب اللہ کی صفتِ ہدایت اور حکمت کا انکار ہے۔

 * تجزیہ: اگر اللہ خالق اور رب ہے، تو یہ اس کی شانِ ربوبیت کے خلاف ہے کہ وہ مخلوق پیدا کرے اور اسے ہدایت کے بغیر چھوڑ دے۔ وحی کا انکار دراصل اللہ کو ایک “لاپروا خالق” (Indifferent Creator) سمجھنے کے مترادف ہے، جو اس کی حکمت کی توہین ہے۔

  1. عملی و بندگی کی سطح پر کوتاہی (سورۃ الحج 22:74)

 * سیاق: مشرکین کا کمزور بتوں اور ہستیوں کو اللہ کے برابر ٹھہرانا۔

 * تشخیص: یہاں “قدر نہ کرنے” سے مراد اللہ کی صفتِ قدرت (قوت و عزت) کو نہ پہچاننا ہے۔

 * تجزیہ: انسان جب اسباب (Means) یا مخلوق کو نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیتا ہے، تو وہ اللہ کی مطلق قدرت کو محدود کر دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فوراً فرمایا: “إِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ” (بے شک اللہ ہی قوی اور زبردست ہے)۔

  1. کائناتی و آفاقی سطح پر کوتاہی (سورۃ الزمر 39:67)

 * سیاق: قیامت کا ہولناک منظر اور کائنات کی بساط لپیٹا جانا۔

 * تشخیص: یہاں “قدر نہ کرنے” کا مطلب کائنات کی عارضی طاقتوں کو مستقل سمجھ لینا اور اللہ کی حاکمیتِ مطلقہ کو بھول جانا ہے۔

 * تجزیہ: انسان اپنے مادی عروج اور سائنسی ترقی کے زعم میں یہ بھول جاتا ہے کہ یہ پوری زمین اللہ کی مٹھی میں اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ یہ منظر انسانی غرور کو توڑنے کے لیے ہے۔

حصہ دوم: قرآنی اصولی تجزیہ (جدول)

| مقام | محاذِ انحراف | ناقص تصورِ خدا | قرآنی جواب (صفت) |

| الانعام | علمی/فکری | اللہ کی حکمت و ہدایت کا انکار | صفتِ ربوبیت و کلام |

| الحج | عملی/مشرکانہ | مخلوق کو طاقتور سمجھنا | القوی، العزیز |

| الزمر | نفسیاتی/کائناتی | دنیا کو ابدی سمجھنا | القدیر، الحاکم |

حصہ سوم: اللہ کی قدر نہ کرنے کی بنیادی وجوہات

 * قیاسِ مع الفارق (Anthropomorphism): انسان خالق کو اپنی محدود عقل، کمزور اسباب اور انسانی حدود پر قیاس کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو “میں” نہیں کر سکتا، وہ خالق بھی (معاذ اللہ) نہیں کر سکتا۔

 * اسباب پرستی: ظاہری اسباب کے پردے اتنے گہرے ہو جاتے ہیں کہ مسبب الاسباب (Cause of causes) نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

 * تکبرِ علمی: اپنی عقل کو حرفِ آخر سمجھنا اور غیب کے حقائق کو تسلیم کرنے سے کترانا۔

حصہ چہارم: قرآنی منہجِ اصلاح (علاج)

قرآن اس فکری کجی کو دور کرنے کے لیے ایک جامع طریقہ کار پیش کرتا ہے:

 * تذکیر بآلاء اللہ (نشانیاں): کائنات کے نظم، تخلیقِ انسانی اور موسموں کے بدلنے میں غور و فکر کی دعوت، تاکہ خالق کی عظمت دل میں اترے۔

 * اسماء و صفات کا تعارف: قرآن بار بار اپنی صفات (علیم، خبیر، حکیم، قدیر) دہرا کر انسان کے ذہن میں ایک “زندہ اور جاوید خدا” کا تصور راسخ کرتا ہے۔

 * تذکیر بالموت و الآخرت: موت اور قیامت کا تذکرہ انسان کے مادی غرور کو توڑ کر اسے بندگی کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔

 * عبادت کا نظام: نماز اور سجدہ دراصل “قدرِ الٰہی” کا عملی اعتراف ہے، جہاں انسان اپنی جبینِ نیاز خاک پر رکھ کر کہتا ہے: “سبحان ربي الأعلى”۔

حصہ پنجم: عصرِ حاضر میں اس کا اطلاق

آج کے دور میں “وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ” کی نئی صورتیں سامنے آئی ہیں:

 * سائنسی الحاد: قوانینِ فطرت کو ماننا مگر قانون ساز (Law Giver) کو نظر انداز کرنا۔

 * سیکولرازم: اللہ کو آسمانوں تک محدود سمجھنا اور زمین پر اس کی حاکمیت (قانون سازی) کا انکار کرنا۔

 * مادہ پرستی: اخلاقی اقدار پر معاشی مفادات کو ترجیح دینا۔

جامع نتیجہ: بندگی کا جوہر

قرآنی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسانیت کے تمام دکھوں کا مداوا “معرفتِ الٰہی” میں ہے۔ جب انسان اللہ کو اس کی تمام صفات کے ساتھ پہچان لیتا ہے، تو اس کی عقل متوازن، اس کا عمل خالص اور اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔

“وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ” دراصل ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے ہے کہ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے خداؤں (نفس، مال، طاقت) کی پناہ چھوڑ کر اس رب کی پناہ میں آئیں جس کی مٹھی میں پوری کائنات ہے۔